زِمل ("ز اء "کی زیر اور "ميم" پر زبر) کے ساتھ عربی لغات میں کوئی واضح اور معروف لفظ نہیں ملا، البتہ زِمل ("زاء" کی زیر اور "میم" پر سکون) کے ساتھ عربی زبان میں یہ لفظ موجود ہے، جس کے معنی بوجھ کے ہیں، اسی طرح زُمَل ("زاء" پر پیش اور "ميم"پر زبر) کے ساتھ اس کے معنی بزدل، کمزور اور کمینہ کے آتے ہیں۔
اس لئے سوال میں ذکر کردہ نام زمل(بکسر الزاء وبفتح المیم) یا اوپر ذکر کردہ دیگر حرکات کے ساتھ چونکہ اس کے معنی اچھے اور مناسب نہیں اس لئے یہ نام رکھنا مناسب نہیں، بلکہ نام ایسا ہونا چاہیے کہ بوقت پکار تلفظ کی آسانی کے ساتھ ساتھ اس کا معنی اچھا اور پسندیدہ ہو اور جس میں کوئی نامناسب مفہوم نہ پایا جاتا ہو،بہتر یہ ہے کہ بچیوں کا نام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن، صحابیات رضی اللہ عنہن کے مبارک ناموں میں سے کسی نام پر رکھا جائے، یا کم از کم ایسا عربی نام منتخب کیا جائے جس کے معنی اچھے، پاکیزہ اور قابلِ تعریف ہوں۔
لمافي تاج العروس:
والزِّمْلُ بالكسرِ : الْحِمْلُ وفي حديثِ أبي الدَّرْداءِ : إنْ فَقَدْتُمُونِي لَتَفْقِدُنَّ زِمْلاً عَظِيماً يُرِيدُ حِمْلاً عَظِيماً مِنَ العِلْمِ. (٢٩/١٤١)
وفيه ايضا :
والزُّمَّلُ كسُكَّرٍ وصُرَدٍ وعِدْلٍ وزُبَيْرٍ وقُبَّيْطٍ ورُمَّانٍ وكَتِفٍ وقِسْيَبٍ بكَسْرٍ فسُكُونٍ ففَتْحٍ فتَشْدِيدٍ وجُهَيْنَةَ وقُبَّيْطَةٍ ورُمَّانَةٍ فهي لُغاتٌ إِحْدَى عَشَرَةَ كُلُّ ذلك بمَعْنى الْجَبَان الضَّعِيف الرَّذْلِ الذي يَتَزَمَّلُ في بَيْتِه لا يَنْهَضُ لِلْغَزْوِ ويَكْسلُ عن مساماة الأُمُورِ الجِسَام. (٢٩/١٣٨)
و في المنجد:
الزمل بضم الزا وبفتح المیم:کمزور،بزدل۔ الزمل بکسر الزا وبسکون المیم:بوجھ (٣٤٠)