ساونڈ سسٹم اور شادی ہال کی آمدنی کا حکم
سوال
مفتی صاحب میں سعودی عرب میں مقیم ہوں اور سرمایہ کاری کے غرض سے پاکستان میں پیسے لگائے ہوئے ہیں شادی ہال/ بینکویٹ میں،آپریشن/ انتظامی امور کے پارٹنر الگ ہیں جو آپریشن کے لیے الگ سے کچھ فیصد منافع میں سے حصہ لیتے ہیں۔
جواب
صورت مسئولہ میں اگرچہ ساؤنڈ سسٹم کسی دوسری پارٹی کا ہے اور اس کا سارا نفع اسی کو ملتا ہے ،آپ لوگ اس سے کرایہ بھی نہیں لیتے لیکن ہال کے اندر موسیقی کا ہونا یا اس کا انتظام کرنا بہرحال اس فضا کا حصہ ہے جس کو مہیا کرنے پر منافع مل رہا ہے، اس لئے اگرچہ آپ لوگوں کی شادی ہال سے حاصل شدہ کمائی تو حلال ہے لیکن آپ لوگوں کیلئے اپنے شادی ہال میں ساونڈ سسٹم والوں کو جگہ فراہم کرنا جائز نہیں ، یہ گناہ کے کام میں ان کی اعانت ہے،لہذا آپ لوگوں پر لازم ہے کہ انتظام سنبھالنے والے پارٹنر کو یہ تاکید کریں کہ وہ میوزک کیلئے ساونڈ سسٹم والوں کو جگہ مہیا نہ کرے،البتہ اگر ایسا ہو ہے اور اس کا کوئی نفع پروگرام کرانے والے نے نہیں رکھا تو آمدن حلال ہے۔ لما في قرآن المجید: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ. (المائدة:٢) ترجمہ : اور گناہ زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔ وفي تفسير المظهري: وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ۔۔۔۔۔ عن النواس بن سمعان الأنصاري قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم قال البر حسن الخلق والإثم ما حاك فى نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس رواه مسلم فى صحيحه. (سورة المائدة (٥/٣) فتویٰ نمبر :35613
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
حظر و اباحت کے احکام |