عنین ہونے کی صورت میں فسخِ نکاح اور مہر کا حکم
سوال
شوہر کے عنین ہونے کی صورت میں نکاح کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس بنیاد پر نکاح فسخ کیا جا سکتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ شوہر اگرعنین (نامرد) ہو اور ازدواجی تعلق قائم کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو، تو یہ بیوی کے حقِ زوجیت سے محرومی اور شرعاً ایک معتبر عیب ہے، لیکن اس عیب کی بنا پر نکاح خود بخود ختم نہیں ہوتا،بلکہ اس صورت میں عورت کو شرعی عدالت یا مسلمانوں کی کسی معتبر پنچائیت کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو شرعی احکام کے مطابق اس معاملے کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہو،لہذا اگر نکاح کے بعد عورت کو مرد کے نامرد ہونے کا علم ہوجانے کے بعداس کی طرف سے ایک مرتبہ بھی زبانی طور پر رضا مندی ظاہر نہیں ہوئی اور اس وجہ سے وہ شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے پر امادہ نہیں ،توبہتر یہ ہے کہ شوہر سے طلاق حاصل کی جائے ، اگر یہ نہ ہوسکے تو عورت اپنا مہر وغیرہ واپس کرکے شوہر کو خلع پر راضی کرے،اگر اس پر بھی شوہر راضی نہ ہو تو یہ خاتون عدالت میں شوہر کےخلاف تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کرے ،پھر عدالت شوہر کو حاضر کرے اگر وہ عدالت میں اپنے نامرد ہونے کا اقرار کرے تو اس کو علاج کے لئے ایک سال کی مہلت دے ،اگر سال بھر میں ایک مرتبہ بھی جماع پر قادر نہ ہو سکا توایک سال پورا ہونے کےبعد عورت کے دوبارہ درخواست کرنے پر قاضی تحقیق کرے اگر شوہر نے عدم قدرت کا اقرار کرلیا تو عورت کو قاضی اختیار دیدے عورت اگر اسی مجلس میں علیحدگی کا مطالبہ کرے تو شوہر سے طلاق دلائی جائےگی اگر وہ طلاق سے انکار کرے تو قاضی خود تفریق کردےگاجس سے دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا ، اسکے بعدخاتون عدت گذار کر دوسری جگہ نکاح کرسکے گی۔ لما في القرآن الکریم: وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ.(٢٣٧) ترجمہ:اور اگر تم انہیں ہاتھ لگانے (ازدواجی تعلق قائم کرنے) سے پہلے طلاق دے دو، جبکہ تم ان کے لیے مہر مقرر کر چکے ہو، تو مقرر شدہ مہر کا آدھا دینا ہوگا، سوائے اس کے کہ عورت خود معاف کر دے، یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (یعنی شوہر پورا مہر ادا کر دے)۔ اور اگر تم پورا مہر ادا کر دو تو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور آپس میں احسان اور بھلائی کو نہ بھولو۔ بے شک اللہ تمہارے ہر عمل کو خوب دیکھنے والا ہے۔ لما في الدر المختار (3/ 544) (هو) لغةً: من لايقدر على الجماع، فعيل بمعنى مفعول، جمعه عنن. وشرعًا: (من لايقدر على جماع فرج زوجته) يعني لمانع منه ككبر سن، أو سحر، إذ الرتقاء لا خيار لها للمانع منها خانية. (إذا وجدت) المرأة (زوجها مجبوبا) ، أو مقطوع الذكر فقط أو صغيره جدا كالزر، ولو قصيرا لا يمكنه إدخاله داخل الفرج فليس لها الفرقة بحر، وفيه نظر.وفيه: المجبوب كالعنين إلا في مسألتين؛ التأجيل، ومجيء الولد (فرق) الحاكم بطلبها لو حرة بالغة غير رتقاء وقرناء وغير عالمة بحاله قبل النكاح وغير راضية به بعده (بينهما في الحال) ولو المجبوب صغيرًا لعدم فائدة التأجيل. وفي الرد:(قوله: وغير عالمة بحاله إلخ) أما لو كانت عالمة فلا خيار لها على المذهب كما يأتي، وكذا لو رضيت به بعد النكاح. (باب العنين(٣/٤٩٤) فتویٰ نمبر :35309-10
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
طلاق کے احکام |