بیوی کو “بہن” اور “حرام” کہنے اور طلاق کی نیت کرنے کا شرعی حکم
سوال
سر ایک مسئلہ پوچھنا تھا اگر بندہ اپنی بیوی کو کہے کہ تو میرے لیے بہن کی طرح ہے اور نیت طلاق کی کرے اور کچھ دیر بعد پھر یہی لفظ استعمال کرے اور اس کے ہفتے بعد کے کہ تو مجھ پر حرام ہے تو سر اب تینوں طلاق بائن ہیں تو کیا تینوں شمار ہوں گی یا ایک شمار ہوگی ،اور کیا تجد ید نکاح ضروری ہے ؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگرشوہر نے واقعی طلاق کی نیت سے اپنی بیوی کو یہ کہا ہے ، کہ تو "میری بہن کی طرح ہے " تو اس سےاسکی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے اس کے بعد دوبارہ یہ جملہ کہنے اور اس کے ساتھ یہ دوسرا جملہ بھی کہ" تو مجھ پر حرام ہے "کہنےسے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ ایک طلاق بائن کے بعد دوسری طلاق بائن واقع ہو کر اس کو لاحق نہیں ہوتی ہے ،لہذا اب اگر دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ باقاعدہ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں محض رجوع کرنا کافی نہیں ہے تاہم نکاح کے بعدآئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔ الفتاوى الهندية : الطلاق الصريح يلحق الطلاق الصريح وان قال لها" انت طالق "وقعت طلقة، ثم قال لها انت طالق تقع اخرى ،ويلحق البائن ايضا بان قال لها: انت بائن او خالعها على مال ثم قال لها :انت طالق وقعت عندنا، والطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح بان قال لها انت طالق ثم قال لها انت بائن بائن تقع طلقة اخرى ولا يلحق البائن البائن بان قال لها انت بائن ثم قال لها انت بائن لا يقع الا طلقة واحدة بائنة لانه يمكن جعله خبرا عن الاول وهو صادق فيه فلا حاجة الى جعله انشاء (باب فی ایقاع الطلاق،ج:۱،ص:۴۱۳،ط:دار الکتب العلمية) البحر الرائق: ( والبائن يلحق الصريح لاالبائن) اي البائن لا يلحق البائن اذا أمكن جعله خبرا عن الاول لصدقه فلا حاجة الى جعله انشاء، ولا يرد انت طالق انت طالق لانه لااحتمال فيه لتعيينه للانشاء شرعا حتى لو قال اردت به الاخبار لا يصدق قضاء والمراد بالبائن الذي لا يلحق البائن الكناية المفيدة للبينونة بكل لفظ كان لانه هو الذي ليس ظاهرا في الانشاء في الطلاق كما أوضحه في فتح القدير ولذا قال في الخلاصة: لو قال لها بعد البينونة خلعتك ونوی به الطلاق لا يقع به شيئا (باب الكنايات في الطلاق ،ج:۳،ص:۵۳۴،ط:رشیدية) الهدايه: فکذا ان شبھھا بمن لا يحل النظر اليها على التابيد من محارمه مثل: اخته أو عمته أو أمه من الرضاعة لانهن في التحريم المؤبد كالأم ولو قال انت على مثل امي أو كامي يرجع الى نيته وان قال اردت الطلاق فهو طالق بائن (کتاب الطلاق ، ج : ۱ ص : ۴۱۰، ط: مکتبه شرعية علمية) المحيط البرهاني : اجمع العلماء على ان الصريح يلحق بالصريح ما دامت في العدة فكذلك البائن يلحق بالصريح ،والصريح يلحق بالبائن ما دامت في العده عندنا ،لان بعد الابانة محلية الطلاق باقية ما دامت العده باقية لان محلية الطلاق بقيام العقد وبعد الابانتة العقد باق ما بقيت العدةبدليل بقاء الاثر المختص به وھو المنع عن الخروج والتزين والتزوج بزوج اخر (والبائن لا يلحق البائن) (الفصل ايقاع الطلاق علي المبانة ،ج:۳ ،ص:۴۲۳ ،ط: دار احياء التراث العزبي) فتویٰ نمبر :34306
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
طلاق کے احکام |