واضح رہے کہ شریعت میں ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینا سخت ناپسندیدہ اور ممنوع عمل ہے، تاہم اگر کوئی شخص ایک ہی وقت میں یا ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ طلاق کے الفاظ ادا کر دے تو شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
صورت مسئولہ میں آپ کا اپنی بیوی کو مخاطب کر کے تین مرتبہ "ميں تمہیں طلاق ديتا ہوں " کا جملہ کہنے سےاس پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،نکاح مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے ،وہ آپ پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،اب نہ رجوع جائز ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے ،اس کے بعد دونوں کیلئے ساتھ رہنا جائز نہیں تھا ،طلاق کے بعد جتنا عرصہ ساتھ رہے گناہگار ہوئے اس پر صدق دل سے اللہ کے حضور توبہ واستغفارکریں اور ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں۔
لما في الفتاوى الهندية:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أوغير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. (کتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به(١/٤٧٣)