قادیانیوں کے ساتھ کاروبار کیوں ناجائز ہے؟
سوال
قادیانیو ں کے ساتھ کاروبار کرنا کیوں جائز نہیں ہے؟
جواب
قادیانیوں کے علاوہ باقی عام کفار اپنےآپ کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرتے ،جس کی وجہ سے عام مسلمانوں کے ایمان کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اس لیے اسلام نے ان کے ساتھ خریدوفروخت کرنے اور میل جول کی اجازت دی ہے، بشرطیکہ اس سے دین کو نقصان نہ پہنچے اور دل سے ان کے ساتھ محبت بھی نہ ہو ۔ جبکہ قادیانی اپنےکفریہ عقائد کو چھپا کر نہ صرف اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں،بلکہ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک عام مسلمان کے دھوکے میں پڑنے اور اس کا ایمان ضائع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ چونکہ مذکورہ تفصیل کی رو سے قادیانیوں کا معاملہ تمام تر کفار کی بنسبت ہر اعتبار سے زیادہ خطرناک ہے،اس لیے قادیانیوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی لین دین ، میل جول اورتعاون کرنا جائز نہیں،کیونکہ ایسے تعلقات کے نتیجے میں عوام الناس انہیں مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں، اور یوں انہیں اپنے گمراہ کن عقائد پھیلانے اور عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا موقع مل جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسے تعلقات ان کے باطل مذہب کی تائید اور تقویت کا سبب بن جاتے ہیں۔لہذا ان تمام مفاسد کے پیشِ نظر قادیانیوں سے ہر قسم کا معاشی، سماجی، سیاسی اور تجارتی بائیکاٹ کرنا شرعاً ضروری ہے، تا کہ ان کے فتنہ کا سدباب ہو، مسلمانوں کے ایمان و عقائد محفوظ رہیں ، اوریہ اپنی اسلام کے خلاف غلط سرگرمیوں کو پروان نہ چڑھائیں، عوام الناس پر ان کا کفر واضح ہونے کے ساتھ ان کو اپنے کفریہ عقائد کا احساس بھی ہوسکے۔ بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية (4/ 176) وأما كون العاقد طائعا جادا عامدا فليس بشرط لانعقاد هذا العقد ولا لنفاذه عندنا لكنه من شرائط الصحة كما في بيع العين، وإسلامه ليس بشرط أصلا فتجوز الإجارة والاستئجار من المسلم، والذمي، والحربي المستأمن لأن هذا من عقود المعاوضات فيملكه المسلم، والكافر جميعا كالبياعات........ وأما شرط النفاذ فأنواع منها خلو العاقد عن الردة إذا كان ذكرا في قول أبي حنيفة، وعند أبي يوسف ومحمد ليس بشرط بناء على أن تصرفات المرتد موقوفة عند أبي حنيفة، وعندهما نافذة، وتصرفات المرتدة نافذة بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية (6/ 38) لحاقه بدار الحرب مرتدا عند أبي حنيفة، وعندهما لا يخرج به الوكيل عن الوكالة، بناء على أن تصرفات المرتد موقوفة عنده، فكانت وكالة الوكيل موقوفة أيضا، فإن أسلم الموكل نفذت.........وإن قتل على الردة أو لحق بدار الحرب، بطلت..................وعندهما تصرفاته نافذة، فكذا الوكالة، وإن كان الموكل امرأة فارتدت، فالوكيل على وكالته حتى تموت أو تلحق بدار الحرب إجماعا فتویٰ نمبر :35192
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
متعلقہ فتاویٰ |