لاوارث کی پرورش اور میراث میں شریک ہونے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی عورت راستے میں پڑے ہوئے کسی ایسے لاوارث نو مولود بچے کو اٹھا لے جس کا کوئی وارث معلوم نہ ہو، اور وہ عورت اس بچے کی پرورش و کفالت کرے، لیکن اس کو اپنا دودھ نہ پلائے یہاں تک کہ وہ بچہ بالغ ہو جائے،تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ بلوغ کے بعد شرعی احکامات (مثلاً پردہ، وراثت وغیرہ) کے حوالے سے اس بچے اور کفالت کرنے والی عورت (یا اس کے گھر والوں) کے درمیان کیا حکم لاگو ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ لاوارث یا لقیط) پائے جانے والے بچے) کو اٹھا کر اس کی پرورش اور کفالت کرنا باعث ثواب ہے، لیکن اس پرورش سے وہ عورت یا اس کے گھر والے شرعاً اس بچے کے ماں باپ یا محرم نہیں بنتے۔ لما في القرآن الکریم: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (٤)ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ(٥) ترجمہ:اور نہ اس نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو، تمھاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے، یہ تمھارا اپنے مونہوں سے کہنا ہے اور اللہ سچ کہتا ہے اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔ وفي الصحيح البخاري: حدثنا أبو اليمان، أخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: أخبرني عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها: أن أبا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس، وكان ممن شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم، تبنى سالما، وأنكحه بنت أخيه هند بنت الوليد بن عتبة بن ربيعة وهو مولى لامرأة من الأنصار، كما تبنى النبي صلى الله عليه وسلم زيدا، وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس إليه وورث من ميراثه، حتى أنزل الله ادعوهم لآبائهم الأحزاب:٥ إلى قوله ومواليكم الأحزاب:٥ فردوا إلى آبائهم، فمن لم يعلم له أب، كان مولى وأخا في الدين فجاءت سهلة بنت سهيل بن عمرو القرشي ثم العامري وهي امرأة أبي حذيفة بن عتبة النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله إنا كنا نرى سالما ولدا، وقد أنزل الله فيه ما قد علمت فذكر الحديث. (باب الأكفاء في الدين(٧/٧) ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس (مہشم) نے جو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی، سالم بن معقل رضی اللہ عنہ کو لے پالک بیٹا بنایا، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا،پہلے سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون (شبیعہ بنت یعار) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو (جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا آخر جب سورۃ الحجرات میں یہ آیت اتری ادعوهم لآبائهمکہ انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو اللہ تعالیٰ کے فرمان ومواليكمتک تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسےمولى اور دینی بھائی کہا جاتا، پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدی رضی اللہ عنہا جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے ۔ فتویٰ نمبر :35296
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
متعلقہ فتاویٰ |