پانی کے حق کے عوض معاوضہ لینے کا حکم
سوال
آج کل لوگ خشک علاقوں جیسے کوئٹہ وغیرہ میں گھروں میں پانی کے لیے بورنگ کرتے ہیں۔ اس بورنگ کا شرعی حکم کنویں والا ہے اور شرعی طور پر تقریبا 30 گز اس کنویں کی حریم شمار ہوتی ہے اور کسی دوسرے کو اس حصہ میں بورنگ کی اجازت نہیں ہوتی۔ جبکہ موجودہ دور میں کئی گھر اس تیس گز میں آ جاتے ہیں۔ اب سوالات یہ ہیں: 1. ایک ہمسایے کی بورنگ سے دوسرے ہمسایوں کے گھر کمزور ہو جاتے ہیں۔ کیا ہمسایوں کے گھر کمزور ہونے سے بورنگ والے کو تاوان دینا ہو گا یا ہمسایوں کو اس گھر کی کمزوری کا تاوان لینے کا حق ہے؟ 2. اب چونکے ہمسایے اس بورنگ کی وجہ سے اپنے گھر میں بورنگ نہیں کروا سکتے کیا ان کا اس بورنگ کے پانی پر حق ہے؟ 3۔ اگر حق ہے تو کیا معاوضے کے ساتھ ہے یا بغیر معاوضے کے؟ 4. اگر حق نہیں تو وہ پانی کا بندوبست کیسے کریں؟
جواب
(۱)...........واضح رہے کہ ہر شخص کو اپنی مملوکہ زمین میں بورنگ (ٹیوب ویل یا کنواں وغیرہ )کروانے کا مکمل حق حاصل ہے، کسی دوسرے شخص کو اس کی نجی ملکیت میں بلا جواز مداخلت کرنے یا اس سے فائدہ حاصل کرنے سے روکنے کا اختیار نہیں ۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر بورنگ کے نتیجہ میں پڑوسی کی ملکیت کو کوئی تقصان پہنچ جائے ،مثلا اس کے گھر میں دراڑیں پڑ جائیں ،بنیادیں کمزور ہوجائیں یا کوئی اور نقصان ہو ،تو شرعا بورنگ کروانے والے پر اس نقصان کی تلافی کرناتو لازم نہیں ،البتہ اگر وہ اس نقصان کی تلافی کردے یا شروع میں ہی ایسا انتظام کرے جس سے ہمسایہ کو نقصان ہی نہ ہوتو ہمسایہ کے ساتھ حسن سکوک کی وجہ سے یہ باعث ثواب ضرور ہے ۔ الفتاوى الهندية (5/ 388) وروي عن محمد - رحمه الله تعالى - في النوادر حريم الناضح ستون ذراعا إلا أن يكون الحبل سبعين ذراعا فحينئذ يكون له الحريم بقدر الحبل حتى يتهيأ له الانتفاع بالبئر كذا في محيط السرخسي. وإذا احتفر الرجل بئرا في مفازة بإذن الإمام فجاء رجل آخر واحتفر في حريمها بئراكان للأول أن يسد ما احتفره الثاني وكذلك لو بنى أو زرع أو أحدث فيه شيئا للأول أن يمنعه من ذلك لملكه ذلك الموضع وما عطب في بئر الأول فلا ضمان عليه فيه لأنه غير متعد في حفره وما عطب في بئر الثاني فهو مضمون على الثاني لأنه متعد في تسببه ولو أن الثاني حفر بئرا بأمر الإمام في غير حريم الأول وهي قريبة منه فذهب ماء بئر الأول وعرف أن ذهاب ذلك من حفر الثاني فلا شيء عليه كذا في المبسوط. بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية (6/ 264) للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء (۲،۳،۴).........باقی یہ بھی واضح رہے کہ یہ مسئلہ کہ ایک کنویں، بورنگ یاٹیوب دیل کے چاروں اطراف 30 گزاس کا حریم ہوتا ہے، یعنی جس شخص نے پہلے کنواں کھدوایا ہو، یابورنگ کروائی ہو، یا ٹیوب ویل بنا یا ہو، اسے شرعاحق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کو 30گز کے اندر اندر دو سر اکنواں کھدوانے، بورنگ کروانے، یا ٹیوب ویل بنانے سے منع کرے، یہ حکم ارض موات یعنی غیر مملوکہ بنجر زمین میں ہوتا ہے۔ مملوکہ زمینوں میں اس طرح کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، دوسرے شخص کے لیے اپنی زمین میں متصل کنواں کھد وانا، بورنگ کروانا، یاٹیوب ویل بنانا جائز ہے لہذا پڑوسی اپنی ملکیتی زمین اس کے متصل بھی بورنگ کرواسکتا ہے، البتہ اگراس کی زمین کے دوسرے کنارے میں پانی دستیاب ہو، اور وہیں پر اس کے لیے بورنگ کروانے میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو،اور قریب میں بورنگ کروانے سے اس کے پڑوسی کو ضرر کا احتمال ہو تو اسکو چاہئے کہ وہ اپنی زمین کے دوسرے کنارے میں اپنے لیے بورنگ کروائے۔تاکہ اس کا پڑوسی ممکنہ نقصان سے بچ جائے۔ جہاں تک اس بورنگ کے پانی میں پڑوسی کے حقدار ہونے یا نہ ہونے کا تعلق ہے تو شرعا پانی ان مباح اشیاء میں سے ہے جن میں سب کا حق ہے، البتہ اگر کوئی شخص پانی کو اپنے کسی برتن ، مشکیزے یا کسی ٹنکی وغیرہ میں محفوظ کرلے تو وہ صرف اس کی ملکیت ہے،اس میں کسی اور کا حق نہیں۔ صورت مسئولہ میں چونکہ بور سے نکلا ہوا پانی ، بور کرنے والے کےپائپ میں آ کر اس کے قبضے میں آجاتا ہے لہذا اس پانی میں پڑوسی کا حق نہیں ،اگر بور کروانے والا شخص اس پانی کے استعمال کے عوض پڑوسی سے عوض لیناچاہے تو لے سکتا ہے۔ تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (4/ 88) قال - عليه الصلاة والسلام - «ما رآه المؤمنون حسنا فهو عند الله حسن» قال القدوري وما لم ينص عليه فهو محمول على عادات الناس وهذا لما روينا من الحديث وروي عن أبي يوسف أن العرف يعتبر على خلاف المنصوص عليه الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 67) إن صاحب البئر لا يملك الماء .......وهذا ما دام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتيال كما في السواني فلا شك في ملكه له لحيازته له في الكيزان ثم صبه في البرك بعد حيازته الفتاوى الهندية (3/ 121) لا يجوز بيع الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذافي الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي.وأما بيع ماء جمعه الإنسان في حوضه ذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده في شرح كتاب الشرب أن الحوض إذا كان مجصصا أو كان الحوض من نحاس أو صفر جاز البيع على كل حال وكأنه جعل صاحب الحوض محرز الماء بجعله في حوضه ولكن يشترط أن ينقطع الجري حتى لا يختلط المبيع بغير المبيع تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (4/ 88) قال - عليه الصلاة والسلام - «ما رآه المؤمنون حسنا فهو عند الله حسن» قال القدوري وما لم ينص عليه فهو محمول على عادات الناس وهذا لما روينا من الحديث وروي عن أبي يوسف أن العرف يعتبر على خلاف المنصوص عليه فتویٰ نمبر :35342
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
متعلقہ فتاویٰ |