ادھار کی رقم زکوۃ کی مد میں معاف کرنا
سوال
میری سہیلی نے مجھ سے کچھ رقم ادھار مانگی تھی تو میرے پاس زکوۃ کے پیسے رکھے ہوئے تھے میں نے وہ پورے پیسے اٹھا کے اپنے سہیلی کو دے دی ادھار کے طور پر اب میں اس سے وہ پیسے مانگ رہی ہوں تو وہ مجھے واپسی نہیں کر رہی ہے ٹالی جا رہی ہے اب مجھے زکوۃ ادا کرنی ہے مجھ پہ فرض ہے اور جس کو میں نے ادھار دیے ہیں اس کی بیٹی کی شادی ہے اس سال تو میں نے اس کو پیسہ ادھار دیے تھے اس کو تو میں اس کو کہتی ہوں کہ یہ پیسے تم اپنی بیٹی کی شادی کے لیے ہی رکھ لو اور اس سے میں نیت کر رہی ہوں اپنے اندر کہ میں زکوۃ کے طور پر دے دے یہ پیسے تو کیا میری زکوۃ اس طرح ادا ہو گئی اور وہ صاحب حیثیت ہے لیکن پیسے نہیں دے رہی تو میں نے اس طرح کر کے زکوۃ دے دی تو تو کیا میری زکوۃ ادا ہو گئی ہے مجھے دوسرے پیسوں کی زکوۃ دینی پڑے گی
جواب
واضح رہے کہ زکوۃکی ادائیگی ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ زکوۃ کی رقم کسی مستحق زکوۃ شخص کو مالک بنا کردی جائے اور زکوۃ کی رقم مستحق کو ادا کرتے وقت یا زکوۃ کی رقم اپنے مال سے الگ کرتے وقت اس میں زکوۃ کی نیت کی جائے، لہذا اگر پہلے سے قرض دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہ کی ہو، اور اب قرضخواں کی طرف سے مقروض کو زکوۃ کی مد میں معاف کیا جارہا ہوتو اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا اپنی سہیلی کو ادھار دی ہوئی رقم زکوۃ کی مد میں معاف کرنے سےاس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ اگر وہ واقعتًا زکوۃ کی مستحق ہے تو پہلے اسے زکوۃ کی رقم مالک بنا کر دے دیں اور جب رقم اس کی ملکیت میں چلی جائے، تو اس سے اپنا قرضہ وصول کر لیں۔اس طرح سائلہ کی زکوۃ بھی ادا ہوجائے گی، اور قرض بھی ادا ہوجائے گا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 268) (وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء الفتاوى الهندية (1/ 170) وأما شرط أدائها فنية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب هكذا في الكنز البحر الرائق، دارالكتاب الاسلامي (2/ 226) (قوله وشرط أدائها نية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب أو تصدق بكله) فتح القدير للمحقق ابن الهمام الحنفي (3/ 497) ( ولا يجوز أداء الزكاة إلا بنية مقارنة للأداء ، أو مقارنة لعزل مقدار الواجب ) الفتاوى الهندية (1/ 171) ولو وهب دينه من فقير ونوى زكاة دين آخر له على رجل آخر أو نوى زكاة عين له لم يجز كذا في الكافي. الدر المختار (2/ 271) وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه فتویٰ نمبر :34690
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
متعلقہ فتاویٰ |