لڑکی سے اپنے وکیل کے متعلق اجازت کا پوچھ کر خاموش ہونااور نکاح فارم میں ولدیت میں غلطی
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے ایک نکاح پڑھایا جس میں زید خود وکالت لینے کے لیے لڑکی کے پاس گیا اور وکیل کے دو گواہ اور وکیل وہاں موجود تھا وکیل لڑکی کا محرم نہیں تھا قاضی صاحب نے لڑکی سے پوچھا کہ کیا آپ فلاں کو آپ کے وکیل مقرر ہوئے ہیں انہوں نے آپ کو اجازت دی کہ وہ آپ کا نکاح فلاں بن فلاں سے اتنے حق مہر کے عوض کرا دے کہے تو لڑکی کی خاموشی رہی پھر قاضی صاحب نے یہی الفاظ دہرائے لڑکی خاموشی رہی پھر یہی الفاظ دہرائے لڑکی خاموشی رہی پھر قاضی صاحب نے لڑکی کے حوالے دستخط کرنے کےلئےنکاح نامہ دیا اور لڑکی نے فورا اس پر دستخط کر دیئے پھر اس کے بعد قاضی صاحب گواہان اور وکیل کو لے کر مسجد میں گئے جہاں انہوں نے سب سے پہلے وکیل سے ایجاب کرایا اور یہ الفاظ کہے کہ لڑکی نے آپ کو وکیل بنایا ہے کیا آپ نے اپنی وکالت سے فلاں بنت فلاں کا نکاح فلاں بن فلاں سے اتنے حق مہر کے عوض کر دیا تو وکیل نے کہا کہ میں نے کر دیا پھر زید نے لڑکے سے کہا کہ آپ نے فلاں بنت فلاں کو فلاں بن فلاں کی وکالت سے اتنے حق مہر کے عوض قبول کیا لڑکے نے کہا میں نے قبول کیا اس طرح نکاح پڑھایا گیا کیا ان کا درست ہے؟ ایک بات اور واضح رہے کہ جب لڑکی سے وکالت لی جارہی تھی تو لڑکے کی ولادت غلط لکھی ہوئی تھی لیکن لڑکے کے والد صاحب مجلس میں موجود تھے اور سب کو پتہ تھا کہ یہ لڑکے کے والد ہیں اور انہی کے لڑکے کی شادی ہو رہی ہے گو اہان اور وہ وکیل اور قاضی صاحب کو معلوم تھا لیکن چونکہ تحریر میں غلط لکھا تھا جس وجہ سے لڑکی سے اجازت گو اہان اور وہ وکیل اور قاضی صاحب کو معلوم تھا لیکن چونکہ تحریر میں غلط لکھا تھا جس وجہ سے لڑکی سے اجازت لیتے وقت لڑکے کی ولدیت غلط لکھی گئی اور بعد میں اسے درست کر لیا اور جب مسجد میں ایجاب و قبول کرایا گیا تو اسوقت لڑکے کی ولدیت درست لکھی گئی تو اس سے نکاح میں کوئی فرق پڑے گا یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب قاضی جو کہ زید ہے اس نے لڑکی سے موجود وکیل کو مقرر کرنے کے بارے میں استفسار کیا تو اس پر لڑکی نے تین مرتبہ سکوت اختیار کیا، پھر اس کے بعد نکاح نامہ پر دستخط کر دیے، تو یہ سکوت اور اس کے بعد وکالت نامہ پر دستخط قرینۂ رضا ہونے کی بنا پر شرعاً اجازت کے قائم مقام ہے، لہٰذا وکالت بھی ثابت ہوئی اور اس کے بعد نکاح صحیح طور پر منعقد ہو گیا۔ رہا نکاح نامہ میں ولدیت کی غلطی کا مسئلہ، تو جبکہ لڑکے کا حقیقی والد مجلسِ نکاح میں موجود ہو اور فریقین و حاضرین سب حقیقت سے واقف ہوں، ایسی کتابتی غلطی عقدِ نکاح کے ارکان و شرائط کو متاثر نہیں کرتی، اس لیے اس غلطی سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ نکاح بدستور صحیح ہے۔ لمافی صحیح البخاری (771/2): عن أبي سلمة أن أبا هريرة رضي الله عنه حدثهم: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن قالوا: يا رسول الله، وكيف إذنها؟ قال:أن تسكت۔ وفی الفتاوى الهندية - (3 / 9) والكتاب كالخطاب وكذا الإرسال حتى اعتبر مجلس بلوغ الكتاب وأداء الرسالة كذا في الهداية قال تاج الشريعة وصورة الكتابة أن يكتب إلى رجل أما بعد فقد بعت عبدي فلانا منك بكذا فلما بلغه الكتاب وقرأه وفهم ما فيه قبل في المجلس صح البيع و فی رد المحتار3/26) (غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح۔(قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها، كما لو قال اقتديت بزيد هذا فإذا هو عمرو فإنه يصح۔ فتویٰ نمبر :34350
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
نكاح كے احكام ومسائل کے احکام |