صورت مسئولہ میں شوہرکے ان الفاظ” اگر میری عزت اور قدر نہیں کرتی تو آپ میری طرف سے آزاد ہے میں نے چھوڑ دیا ہے آپ اپنے ابو کے گھر جاسکتی ہے “کے بعد طلاق بیوی کی جانب سے شوہر کی عزت نہ کرنے پر معلق ہے، لہٰذا جب بیوی شوہر کی عزت نہیں کرے گی تو اس وقت ایک طلاق بائن واقع ہوجائےگی، اور دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا،اس کے بعد اگردونوں دوبارہ ازدواجی زندگی قائم کرنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیا عقد نکاح کرنا لازم ہوگا،تجدید نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاق کا اختیار ہوگا بشرطیکہ اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو۔
لما في الفتاوی الہندیة:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
(كتاب الطلاق(١/٤٢٠)
وفي فتح القدير:
(وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا.
(كتاب الطلاق(٤/١١٦)