صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ شوہر نے ہر مرتبہ جھگڑے میں یہ الفاظ "زہ بہ تا لہ طلاق راکم"(میں تمہیں طلاق دوں گا) "طلاق می را کڑی نہ دی خو کتہ وائ را بہ کم"(طلاق نہیں دی لیکن اگر تم چاہتی ہو تو طلاق دے دوں گا) كہے ہوں تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر کوئی بھی طلاق واقع نہیں ہوئی،کیونکہ یہ محض طلاق کی دھمکی ہے۔
لہٰذا دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے اور دونوں بدستور میاں بیوی ہیں، شوہر آئندہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرے، کیونکہ طلاق کے الفاظ کو بلا ضرورت زبان پر لانا شرعاً ناپسندیدہ اور گھریلو زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔
لما في البحر الرائق :
ولیس منه أطلقک بصیغة المضارع الا اذا غلب استعماله فی الحال،کما فی فتح القدیر. (باب ألفاظ الطلاق(٣/٢٧١)
وفي فتح القدير:
ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال. (باب طلاق الصریح(٤/٧)