تين طلاق كا حكم
سوال
ہمارے ہاں ایک فیملی ہے ان کا مسئلہ یہ ہے کہ بیوی شوہر سے کہنے لگی کہ ہمارا جو یہ بیٹا بیمار ہے اس کو علاج کے لئے فلانا شہر لے جاؤں تو شوہر نے طلاق کے ارادے کے بغیر یہ الفاظ استعمال کئے"تین طلاق ہیں کہ لے جاؤں"اور یہ الفاظ غصے کی حالت میں استعمال ہوئے ہیں،پھر اس کے بعد شوہر بیٹے کو علاج کیلئے لے گئے۔ اب طلاق کا کیا حکم ہے ،اور اگر کسی علاقے میں یہ طلاق کے الفاظ بطور تکیہ کلام کے استعمال ہوتے ہو پھر طلاق کا کیا حکم ہے،اور اگر یہ شوہر کسی دوسرے مریض کو علاج کیلئے لے جارہا تھا اور کہا کہ بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤ اور بیٹے کو ساتھ لے گیا پھر طلاق کا کیا حکم ہے۔ تمام پہلوؤں کو دیکھ کر تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص اپنی بیوی کو مخاطب کر کے مذکورہ جملہ "تین طلاق ہے کہ لے جاؤں؟کہنے کے بعد وہ اپنے بیٹے کو اس مخصوص شہر میں علاج کیلئے لیکر چلا گیا ہے خواہ اکیلا اس کو لیکر گیا ہو یا دوسرے مریض کے ساتھ اس کو لیکر گیا ہو بہر صورت اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ حرمت مغلظہ کے ساتھ اس پرحرام ہوچکی ہے،اب دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا حرام ہے،خواہ شوہر نے ان الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو بلکہ بطور تکیہ کلام کے یہ الفاظ استعمال کیے ہو کیونکہ یہ طلاق کے صریح الفاظ ہیں ،جن سے نیت کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ لما في الدرالمختار: (قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه. (کتاب الطلاق(٣/٢٥٠) وفيه ايضا: (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ. أقول: وما ذكره الشارح من التعليل أصله لصاحب البحر أخذا من قول البزازية في الأيمان قال لها: لا تخرجي من الدار إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لا يقع لعدم حلفه بطلاقها، ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له. (باب صريح الطلاق(٣/٢٤٨) وفیہ ایضا: وقد تعورف في عرفنا في الحلف: الطلاق يلزمني لا أفعل كذا يريد إن فعلته لزم الطلاق ووقع فيجب أن يجري عليهم، لأنه صار بمنزلة قوله إن فعلت فأنت طالق، وكذا تعارف أهل الأرياف الحلف بقوله علي الطلاق لا أفعل اهـ وهذا صريح في أنه تعليق في المعنى على فعل المحلوف عليه بغلبة العرف وإن لم يكن فيه أداة تعليق صريحا. (باب صریح الطلاق(٣/٢٥٣) و في الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أوغير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. (کتاب الطلاق(١/٤٧٣) وفي البحر الرائق: وكذا إذا أراد شيئا فجرى على لسانه الطلاق، أو العتاق أو النذر لزمه ذلك لقوله عليه السلام ثلاث جدهن جد وهزلهن جد الطلاق والعتاق والنكاح. (فصل في يوجبه العبد على نفسه(٢/٣١٩) فتویٰ نمبر :35505
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
طلاق کے احکام |