صورت مسئولہ میں وکیل کے لئےموکل کو بتائے بغیر یہ سو روپے لینا جا ئز نہیں ہےبلکہ کسی بھی مناسب طریقہ سے یہ پیسے اسے واپس کردے اور اس کی واپسی کے لئے موکل کو ساری صورتحال سے آگاہ کرنا ضروری نہیں،البتہ اگر عقد وکالت کے وقت اسکی اجرت طے کی گئی تھی تو وہ اپنی طے شدہ اجرت لے سکتا ہے،اسی طرح اگر اجرت باقاعدہ طے نہیں کی گئی تھی لیکن وکیل اس حوالے سے مشہور ہے کہ وہ اجرت کے بغیرکام نہیں کرتا تو اس کے لئے موکل سے اجرت مثل لینا جائز ہے ،اور اگر نہ عقد وکالت کے وقت اسکی اجرت طے کی گئی تھی اور نہ اس حوالے سے مشہور ہے کہ وہ بغیر اجرت کے کام نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے لئے موکل سے پیسوں کے مطالبہ ا حق نہیں ہے۔
لمافي الدرالمختار:
والأصل أن المستحق بجهة إذا وصل إلی المستحق بجهة أخریٰ، اعتبر واصلا بجهة مستحقة إن وصل إليه من المستحق عليه وإلا فلا. (باب البیع الفاسد، مطلب: رد المشتري فاسدًا إلی بائعه(۵؍۹۲)ط:سعيد)
و في درر الحكام:
لو خدم أحد آخر بناء على طلبه من دون مقاولة على أجرة فله أجر المثل إن كان ممن يخدم بالأجرة وإلا فلا. (الفصل الرابع في اجارة الآدمي(۱/۶۴۸)ط:ماجدية)
وفيه ايضا:
اذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعاً. فليس له أن يطالب بالأجرة. (فصل في احكام الوكالة العمومية(۳/۵۷۳)ط:ماجدية)