مالک کی اجازت کے بغیر کوئی چیز استعمال کرنا
سوال
پوچھنا یہ ہے کہ اگر ملازم کو اس کا آقا اپنی فیکٹری میں فوٹو کاپی وغیرہ امور کی ذمہ داری سونپے تو فوٹو کاپی کے دوران بہت سے صفحات ایسے جمع ہوتے رہتے ہیں جو صبح پرنٹ نہ نکلنے کی وجہ سےرف ہو جاتے ہیں تو کیا وہ ملازم ان کو اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے اس طرح کبھی کوئی لائٹ یا تار خراب ہوگئی اور ملازم نے نئی لگوالی تو کیاوہ پر انا اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتا ہے نیز پرانی کرسی جو وہاں استعمال میں نہیں ہے اور نہ آئندہ ہو گی اگر رہے مزید خراب ہو جائے گی تو کیا وہ اپنےگھر لا سکتا ہے وہ جانتا ہے کہ اگر میں اسے استعمال نہ کروں تو کچرے میں چلا جائے گا اور ان میں سے ہر ایک چیز کے بارے میں آقا سے اجازت اس لئے نہیں لے سکتا کہ وہ آقا توان چیزوں پہ توجہ نہیں دیتا نہ ان کو ان اشیاء سے کوئی سروکار ہے کیونکہ اس کے تحت بہت سے ملازمین ہیں اور بڑے پیمانے میں کاروبار جاری و ساری ہے۔
جواب
واضح رہے کہ اسلام میں کسی دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر لینا یا استعمال کرنا جائز نہیں، چاہے وہ چیز معمولی ہو یا بظاہر بیکار لگ رہی ہويا اس كے خراب ہونے كا اندیشہ ہو، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں۔ لما في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. (باب الغصب والعارية،الفصل الثاني(١/٤٤٣)ط:البشرى) ترجمہ:ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سن لو! ظلم نہ کرو، کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں۔ فتویٰ نمبر :34753
دارالافتاء :معہدالخلیل الإسلامی بہادرآباد کراچی۵
حظر و اباحت کے احکام |