پندریوہں شعبان میں عبادت اور دعائیں
سوال
نصف شعبان کی رات لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ان سے معافی مانگتے ہیں اس نیت سے کہ اس رات اعمال کا حساب ہوتا ہے کہ ان کے اعمال میں کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنے اور اور اس رات کے بارے میں یہ بھی سنا ہے کہ اس دن اللہ پاک یہ طے فرماتے ہیں کہ اس سال کتنے لوگ اس دنیا میں ائیں گے اور کتنے جائیں گے تو کیا یہ ساری باتیں کسی حدیث سے ثابت ہیں؟
جواب
شریعتِ مطہرہ میں باہمی درگزر، معاف کرنے اور معافی مانگنے کی بڑی تاکید اور ترغیب آئی ہےقرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ معاف کرنا اور معافی مانگنا ایک مستحسن اور باعثِ اجر عمل ہے،البتہ شریعت نے اس کے لیے کوئی خاص دن، تاریخ یا موقع مقرر نہیں کیا،بلکہ جب بھی کسی سے غلطی یاکسی کی حق تلفی ہو جائے تواس سے فوراً معافی مانگ لی جائےتاکہ آخرت میں پکڑ نہ ہو، اسی طرح جس کی حق تلفی یا دل آزاری ہوئی ہو اس کو بھی بلا تاخیر معاف کر دینے کی ترغیب دی گئی ہے،لہذا کسی کی دل آزاری یا حق تلفی پرمعافی مانگنا نصف شعبان کی رات کے ساتھ خاص نہیں ہے تاہم اگر کوئی اس کو اس رات کے ساتھ خاص سمجھے بغیر کسی سے معافی مانگتا ہے تو شرعا اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے،جہاں تک دوسری بات یعنی کہ" اس رات ميں الله كا یہ طے فرمانا کہ اس سال کتنے لوگ اس دنیا میں آئیں گے اور کتنے جائیں گے" کا تعلق ہے تو یہ بات روایات احادیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ مروی ہے: عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلي الله عليه وسلم قال هل تدرين ما في هذه الليلة؟ قالت ما فيها يا رسول الله؟ فقال فيها ان يكتب كل مولود من بني آدم في هذه السنة، وفيها ان يكتب كل هالك من بني آدم في هذه السنة، وفيها ترفع اعمالهم، وفيها تنزل ارزاقهم. فقالت يا رسول الله ما من احد يدخل الجنة الا برحمة الله؟ قال ما من احد يدخل الجنة الا برحمة الله. قلت ولا انت يا رسول الله؟ فوضع يده على هامته فقال ولا انا الا ان يتغمدني الله منه برحمة، يقولها ثلاث مرات. (مشکاة المصابيح،باب قيام شهر رمضان،الفصل الثالث(۱/۱۱۵)ط:اسلامي كتب خانه) ترجمہ:حضرت عائشہ ؓ روایت فرماتی ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ: تم جانتی ہو اس رات میں یعنی ماہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟عرض کیا یارسول اللہﷺ ارشاد فرمایئے، کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: اس رات میں ہر ایسے بچہ کا نام لکھ دیا جاتا ہے جوآنے والے سال میں پیدا ہونے والا ہے اور ہر اس شخص کا نام لکھ دیا جاتا ہے جو آنے والے سال میں مرنے والا ہے (اللہ کو تو سب پتا ہے، البتہ انتظام میں لگنے والے فرشتوں کو اس رات میں ان لوگوں کی فہرست دے دی جاتی ہے)اور اس رات میں نیک اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کے رزق نازل ہوتے ہیں، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا ؛ "یارسول اللہﷺ ! کیا جنت میں کوئی بھی داخل نہ ہوگا مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے؟ آپ نے فرمایا: ہاں کوئی ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل ہوجائے، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ اور آپ (بھی) اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہ جائیں گے؟ یہ سن کر آپ نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا اور فرمایا کہ میں بھی جنت میں نہ جاؤں گا مگر اس طرح سے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔ تین بار یہی فرمایا۔ وفي سنن ابن ماجه: عن علي بن ابي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا يومها فان الله ينزل فيها لغروب الشمس الى سماء الدنيا فيقول الا من مستغفر لي فاغفر له الا مسترزق فارزقه الا مبتلى فاعافيه الا كذا الا كذا حتى يطلع الفجر. (باب ماجاء في ليلة النصف من شعبان(ص:۱۰۰)ط:میرمحمد) ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی (کسی بیماری یا مصیبت میں) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں؟ فتویٰ نمبر :34526
دارالافتاء :معہدالخلیل الإسلامی بہادرآباد کراچی۵
حظر و اباحت کے احکام |