واضح رہے کہ ولیمہ اس کھانے کو کہا جاتا ہے، جس کا نکاح اور میاں بیوی کے درمیان خلوت ہوجانے کے بعد اہتمام کیا جائے، لہذا جس دن شادی ہو، اگر اسی دن رخصتی اور خلوت بھی ہوجائے، تو خلوت کے بعد اسی دن ولیمہ کرنے سے ولیمہ کی سنت ادا ہو جائے گی ۔
شادی کے بعد زوجین کے درمیان خلوت سے پہلے کھانے کااہتمام کرنا بھی جائز ہے،البتہ اس سے مسنون ولیمہ ادا نہیں ہوگا بلکہ یہ صرف ایک دعوت کہلائے گی۔
لما في اعلاء السنن:
والمنقول من فعل النبي صلی الله علیه وسلم أنها بعد الدخول، کأنه یشیر إلی قصة زینب بنت جحش، وقد ترجم علیه البیهقي بعد الدخول، وحدیث أنس في هذا الباب صریح في أنها الولیمة بعد الدخول.
(باب استحباب الوليمة وكون وقته بعد الدخول(٨/٣٦٤٥)
اور امداد الاحكام ميں ہے:
ولیمہ مشہور قول میں تو اسی دعوت کا نام ہے جو شبِ زفاف ودخول کے بعد ہو. اور بعض اقوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کے وقت سے دخول کے بعد تک جو بھی دعوت ہو ولیمہ ہی ہے، مگر راجح قول اوّل ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ سے ولیمہ بعد الدخول ہی ثابت ہے۔ (٤/٢٩١)