صورت مسئولہ میں اگر اس شخص کی بہت نمازیں قضاہوچکی ہیں تو یہ صاحب ترتیب نہیں رہا اگر وہ ایک ساتھ ہی اپنی کئی فجر کی نمازیں ادا کرنا چاہے، تو اسے جب بھی موقع ملے وہ ادا کرسکتا ہے ، اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے،کیونکہ قضا نمازوں کے درمیان ترتیب پر عمل کرنا صرف اس وقت تک لازم رہتا ہے جب تک قضا شدہ نمازوں کی کل تعداد چھ (6) سے کم ہو (یعنی وہ شخص فقہی اصطلاح میں صاحب ترتیب ہو)۔ لیکن اگر قضا نمازیں چھ یا اس سے زیادہ ہوں، تو صاحب ترتیب ہونےکاحکم ساقط ہو جاتا ہے۔
لما فی الفتاوی الھندیۃ:
وكثرة الفوائت كما تسقط الترتيب في الأداء تسقط في القضاء حتى لو ترك صلاة شهر ثم قضى ثلاثين فجرا ثم ثلاثين ظهرا ثم هكذا صح، هكذا في محيط السرخسي.
(فصل في قضاء الفوئت(١/١٢٣)
وفيه ايضا:
ويسقط الترتيب عند كثرة الفوائت وهو الصحيح، هكذا في محيط السرخسي.
(فصل في قضاء الفوائت(١/١٢٣)