کئی دیہات پر مشتمل گاؤں میں جمعہ قائم کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا گاؤں ٹنڈویی موضع او چاہ میں واقع ہے اور موضع اوچھاہ تقریبا 8 سے 10 دیہات گاؤں پر مشتمل ہے جنکی آبادی تقریبا دو سے تین ہزار کے لگ بھگ ہے ہر گاؤں کی اپنی اپنی مسجد اور تمام گاؤں کا ایک ہی بڑا بازار کنڈاں بازار ہے جہاں روز مرہ کی ضروریات زندگی کی تمام اشیا میسر ہوتی ہیں اب عرض ہے کہ ہم اپنے گاؤں ٹنڈویی کی مسجد میں کچھ وجوہات کی بنا پر جمعہ کی نماز شروع کروانے کا ارادہ رکھتے تے ہیں مخملہ ان وجوہات میں سے ایک وجہ گاؤں کے کچھ بزرگ لوگوں کا جمعہ کی نماز کیلیے کنڈاں بازار کی جامع مسجد یا کو ہسار مارکیٹ کی جامع مسجد میں جانا بوجہ بیماری یا بڑھاپا مشکل ہے اور اسی طرح ایک وجہ قریب کے ایک گاؤں سہر کی جامع مسجد کے امام صاحب کا اختلافی مسائل کا بیان کرنا جس سےاہل علاقہ کے دلوں میں کافی تشویش بھی پائی جاتی ہے ان تمام ترباتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہمارے لیے اپنے گاؤں کی مسجد میں جمعہ کی نماز شروع کرنا صحیح ہے جبکہ ہماری مسجد میں پانچ وقت باجماعت نماز کا اہتمام بھی ہو رہا ہے اور ساتھ ساتھ عرصہ 30...40 سال سے عیدین کی نماز کا بھی اہتمام ہو رہا ہے براہ کرمرہنمائی فرما دیں ۔
جواب
واضح رہے کہ کسی جگہ جمعہ کی نماز کے قیام کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ اس جگہ مصر یا فنائے مصر کا ہونا یا قریہ کبیرہ (بڑا گاؤں) کا ہونا شرط ہے، قریہ کبیرہ سے مراد یہ ہے کہ وہ گاؤںلوگوں کی ایک معتد بہ تعداد پر مشتمل ہو، اس میں ایسا بڑا بازار ہو کہ جس میں روز مرہ کی تمام اشیاء با آسانی مل جاتی ہوں، نیزاس میں ڈاک خانہ، ہسپتال وغیرہ ہو ۔ اور جس گاؤں میں یہ شرائط نہ پائی جائیں تو اس جگہ جمعہ وعیدین کی نماز قائم کرنا جائز نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی ذکر کردہ تفصیل کے مطابق گاؤں ٹنڈویی موضع اوچھاہ (جوتقریبا 8 سے 10 دیہات پر مشتمل ہے)میں لوگوں کی ایک معتد بہ تعداد ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں روز مرہ کی تمام اشیاء با آسانی مل جاتی ہیں ،اور اس میں بازار بھی موجود ہے،اس لئے گاؤں ٹنڈویی میں جمعہ کی نماز قائم کرنا جائز ہے۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 137) عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح. تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (1/ 217) (وهو) أي المصر (كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود) ، وهذا رواية عن أبي يوسف ، وهو اختيار الكرخي وعنه أنهم لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لا يسعهم ، وهو اختيار البلخي وعنه هو كل موضع يكون فيه كل محترف ويوجد فيه جميع ما يحتاج الناس إليه في معايشهم وفيه فقيه مفت وقاض يقيم الحدود الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 138) تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق..... وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة فتویٰ نمبر :34568
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
نماز کے احکام |