واضح رہے کہ نماز میں رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا (قومہ) اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا (جلسہ) واجب ہے،اسی طرح ان میں کم از کم ایک مرتبہ "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار اطمینان سے ٹھہرنا (تعدیل ارکان) بھی واجب ہے،لہٰذا اگر کوئی شخص نماز میں قومہ یا جلسہ بالکل نہ کرے یا اس میں مذکورہ طریقے پر ایک تسبیح کے بقدر اطمینان اور سکون اختیار نہ کرے بلکہ جھک کر یا سر اٹھا کر فوری سجدے میں چلا جائے، تو جان بوجھ کر ایسا کرنے سے یہ شخص گناہکارہوگا ،اور اس پر اس نماز کا اعادہ وقت کے اندر لازم ہوگا سجدہ سہو سے اسکی تلافی نہیں ہوگی نماز کے وقت میں اگر اعادہ نہ کیا تو پھر اعادہ مستحب ہوگا ،البتہ بھول کر ایسا ہونے کی صورت میں سجدہ سہو سے اس کی تلافی ہوجائے گی۔
لما في الدرالمختار:
(وتعديل الأركان) أي تسكين الجوارح قدر تسبيحة في الركوع والسجود وكذا في الرفع منهما على ما اختاره الكمال.
(کتاب الصلاة(١/٤٦٤)
و في البحر الرائق:
وفي المحيط: لو ترك تعديل الأركان أو القومة التي بين الركوع والسجود ساهيا لزمه سجود السهو اهـ.
فيكون حكم الجلسة بين السجدتين كذلك؛ لأن الكلام فيهما واحد والقول بوجوب الكل هو مختار المحقق ابن الهمام وتلميذه ابن أمير حاج حتى قال إنه الصواب والله الموفق للصواب. (کتاب الصلاة(١/٣١٧)