عصر پڑھتے ہوئے مغرب کا وقت داخل ہونا
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
جواب
صورت مسئولہ میں آپ کی عصر نماز ادا ہو گئی ہے،دہرانے کی ضرورت نہیں ہے،البتہ بلاعذر عصر کی نماز کو وقت مکروہ تک مؤخر كرنا گناہ ہے،اس سے اجتناب كرنا چاہیئے۔ لما في صحيح البخاري: عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من أدرك من الصبح ركعة قبل أن تطلع الشمس، فقد أدرك الصبح، ومن أدرك ركعة من العصر قبل أن تغرب الشمس، فقد أدرك العصر. (باب من أدرك من الفجر ركعة(١/١٢٠) ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز عصر پالی، اور جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز فجر پالی۔ وفي الصحيح لمسلم: عن عقبة بن عامر الجهني رضي اللّٰه عنه یقول: ثلاث ساعات کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم نهانا أن نصلي فیهن: حین تطلع الشمس بازغةً حتی ترتفع، وحین یقوم قائم الظهیرة حتی تمیل الشمس، وحین تضیف الشمس للغروب حتی تغرب. (باب الأوقات التي نهي عن الصلاة فیها(١/٥٦٨) ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ تین اوقات ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں: جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لیے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہو جائے۔ وفي الدرمختار : وغروب إلا عصر یومه فلایکره فعله؛ لأدائه کما وجب بخلاف الفجر. (كتاب الصلاة(١/٣٧٢) وفي حاشية الطحطاوي: ويصح أداء ما وجب فيها أي الأوقات الثلاثة لكن مع الكراهة .... كما صح عصر اليوم بأدائه عند الغروب لبقاء سببه وهو الجزء المتصل به الأداء من الوقت مع الكراهة للتأخير المنهي عنه لا لذات الوقت بخلاف عصر مضى للزومه كاملا بخروج وقته فلا يؤدى في ناقص. (فصل في الأوقات المكروهة(١/١٨٦) فتویٰ نمبر :35486
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
نماز کے احکام |