واضح رہے کہ اسلام نے خواتین کو جائز حدود میں بناؤ سنگھار اور زیب و زینت اختیار کرنے کی اجازت دی ہے، تاہم اس میں شرعی احکام کی پابندی ضروری ہے۔ ایسا کوئی طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی لازم آئے۔ بناؤ سنگھار کا مقصد شوہر کو خوش کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ نامحرم مردوں کی توجہ حاصل کرنا یا دوسری عورتوں کے سامنے فخر و نمائش کرنا۔ اگر نیت شوہر کو خوش کرنا ہو تو اس پر ثواب ملے گا، اور اگر نمائش یا غیر محرموں کو متوجہ کرنا مقصود ہو تو گناہ ہوگا۔
چنانچہ اسی اصول کے تحت چہرے، پیشانی، کلائیوں، پنڈلیوں اور دیگر جسم کے غیر معتاد بال صاف کرناخود بھی جائز ہے اور دوسری خواتین سے بھی کروانا جائز ہے، اس لئے ویکس، کریم یا پاؤڈر وغیرہ سے یہ بال صاف کرنا بھی درست ہے۔ اگر عورت اپنے جسم کی ویکس خود کرے تو پورے جسم کی کرسکتی ہے لیکن اگر کسی اور عورت سے کرائے تو ستر کے مقام کے بال یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنےکے نیچےتک کے بال کسی دوسری عورت سے صاف کروانا جائز نہیں، جبکہ ستر کے علاوہ اعضاء، جیسے چہرہ وغیرہ، کی ویکس دوسری عورت سے کروائی جا سکتی ہے۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق(8/219)
(والمرأة للمرأة والرجل للرجل) وهذا هو القسم الرابع من التقسيمات ومعناه المرأة للمرأة والرجل للرجل يعني: نظر المرأة إلى المرأة كنظر الرجل إلى الرجل حتى يجوز للمرأة أن تنظر منها إلى ما يجوز للرجل أن ينظر إليه من الرجل إذا أمنت الشهوة والفتن۔