نہری زمینوں پر حکومت کا سالانہ چھ ہزار روپے ٹیکس لگابا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک نہری زمین ہے جس کو نہر سے سیراب کیا جاتا ہے اور حکومت اس نہری پانی کا سال میں ایک مرتبہ مالیہ(پیسے) لیتا ہے تقریبا تین جریب یعنی بارہ کنال کا چھ ہزار روپے اب چند امور کا حل مطلوب ہے :نمبر ایک :حکومت جتنا یہ مالیہ مذکورہ لیتا ہے اس کی وجہ سے پیداوار میں سے بیسواں حصہ عشر نکالنا ہوگا یا دسواں؟ نمبر دو: چاہیے زمین داری نہری پانی سے ہو اپنا کھیتی سیراب کرے یا نہ کرے یعنی بارش کی وجہ سے سیراب کرنے کی ضرورت نہ پڑے حکومت تو بہرحال سال میں مالیہ(پیسے) لیتا ہے تو کھیتی کو سیراب نہ کرنے کی صورت میں پیداوار میں سے دسواں حصہ عشر نکالنا ہوگا یا بیسواں حصہ؟ نمبر تین: اگر کھیتی کو صرف ایک مرتبہ پانی دے تو اس صورت میں دسواں حصہ عشر نکالے یا بیسواں حصہ (ٹیکس شدہ نہر سے) نمبر چار: امداد الفتاوی میں لکھا ہے کہ اگر آپ پاشی پانی خرید کر کرتا ہے تو بیسواں حصہ پیداوار ہوگا اور اگر مفت کے پانی سے کرتا ہے تو کنویں سے آپ پاشی کرنے میں بھی بیسواں حصہ ہے بیسواں دے (امداد الفتاوی جلد۲ صفحہ ۸۸ مکتبہ دارالعلوم کراچی) یعنی کنویں سے پانی نکالنے میں جو مؤنة آتی ہے اس کی وجہ سے بیسواں حصہ قرار دے دیا تو یہ پوچھنا ہے کہ حکومت جتنا مالیہ لیتی ہے اس کو بھی مؤنةمذکورہ کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے جو کنویں سے پانی نکالنے میں ہے تاکہ اس کی وجہ سے بیسویں حصے کا حکم دیا جائے یا نہیں؟ ملاحظہ :جبکہ اس علاقے کے علماء فرماتے ہیں کہ اس نہری زمین کے پیداوار سے بیسواں حصہ عشر نکالا جائے گا اور ان علماء کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر کسان کھیت میں پانی دینے کے لیے نالیاں بنائے لیکن پھر بھی پھر بارش کی وجہ سے پانی دینے کی ضرورت نہ پڑے تو صرف نالیاں وغیرہ بنانے کی وجہ سے بھی بیسواں حصہ نکالا جائے گا کیا ان علماء کا یہ خیال درست ہے یا نہیں ؟جزاکم اللہ خیرا
جواب
واضح رہے کہ کھیتی کی پیداوار میں عشر یا نصفِ عشر واجب ہونے کا مدار زمین کی آب پاشی کے طریقے پر ہے، یعنی فصل کو سیراب کرنے میں محنت، مشقت یا مالی خرچ پیش آتا ہےیا نہیں۔ چنانچہ اگر زمین بارش، دریاؤں، قدرتی چشموں یا ایسے پانی سے سیراب ہو جو بغیر کسی خاص محنت اور خرچ کے خود بخود زمین تک پہنچ جاتا ہو، تو اس کی پیداوار میں دسواں حصہ، یعنی عشر واجب ہوگا۔ البتہ اگر زمین کی سیرابی کے لیے پانی محنت یا خرچ کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہو، مثلاً:کنویں سے ڈول کے ذریعے پانی نکالنا،رہٹ یا ٹیوب ویل استعمال کرنا، نہر کا پانی دور سے لانا جس کے لیے نالیاں وغیرہ بنانی پڑتی ہوں،یا حکومت کی طرف سے نہری پانی پر محصول (مالیہ یا آبیانہ)ادا کرنا پڑتا ہو،تو ایسی صورت میں پیداوار کا بیسواں حصہ، یعنی نصفِ عشر(بیسواں حصہ )دینا واجب ہوگا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں نہری زمین کی سیرابی پر حکومت کی طرف سے چونکہ سالانہ (چھ ہزار روپے)محصول لیا جاتا ہے اس لئے سال کے آخر میں نصف عشر(بیسواں حصہ) واجب ہوگا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين(2 / 325) (قوله يجب العشر) ثبت ذلك بالكتاب والسنة والإجماع والمعقول: أي يفترض لقوله تعالى {وآتوا حقه يوم حصاده} [الأنعام: 141] فإن عامة المفسرين على أنه العشر أو نصفه وهو مجمل بينه قوله - صلى الله عليه وسلم - «ما سقت السماء ففيه العشر وما سقي بغرب أو دالية ففيه نصف العشر»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (2 / 62) وما سقي بالرشاء ففيه نصف العشر» ولأن العشر وجب مؤنة الأرض فيختلف الواجب بقلة المؤنة وكثرتها ولو سقي الزرع في بعض السنة سيحا وفي بعضها بآلة يعتبر في ذلك الغالب؛ لأن للأكثر حكم الكل كما في السوم في باب الزكاة على ما مر الدر المختار وحاشية ابن عابدين(2 / 328) (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة وفي كتب الشافعية أو سقاه بماء اشتراه وقواعدنا لا تأباه فتویٰ نمبر :34783
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
مزارعت كے احكام کے احکام |