عدالتی خلع اور اس پر مرتب ہونے والے احکام
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! درج ذیل مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں۔ میری بیوی نے تقریباً پانچ سال پہلے فیملی کورٹ سے یکطرفہ خلع (Ex Parte Khula Degree) حاصل کی تھی۔ میں عدالت میں پیش نہیں ہوا تھا، نہ میں نے خلع پر رضامندی دی، نہ کسی دستاویز پر دستخط کیے، اور نہ ہی میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی۔اب معلوم ہوا ہے کہ وہ اسی عدالتی خلع کی بنیاد پر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہے۔ درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں: 1) کیا مذکورہ صورت میں شرعاً ہمارا نکاح ختم ہوچکا ہے یا اب بھی برقرار ہے؟ 2) اگر نکاح برقرار ہے تو کیا وہ دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے؟ 3) اگر وہ اسی عدالتی خلع کی بنیاد پر دوسرے شخص سے نکاح کرلے تو کیا وہ نکاح شرعاً صحیح ہوگا ؟ 4) اگر اس دوسرے نکاح کے بعد میاں بیوی کے تعلقات قائم ہوں تو ان تعلقات کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ 5) یہ تعلق جائز ہوگا یا زنا ہوگا؟ اگر یہ زنا ہوگا تو اس کا گناہ ، عذاب اور وبال کن افراد پر ہوگا؟ 6) اس نے دوسرے شخص کو یہ بتا دیا کہ اسے صرف عدالت سے خلع کی ڈگری ملی ہے، لیکن کسی دارالافتاء سے شرعی فتویٰ حاصل نہیں کیا، تو کیا اس کے باوجود دوسرا نکاح اور اس میں مقرر کیا جانے والا مہر شرعاً معتبر ہوگا؟ 7) اگر یہ مہر شرعاً معتبر نہ ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ 8) اب نے دوسرے شخص کو کہا ہے کہ "عدالت سے خلع مل جانے کے بعد فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں"، تو شرعاً اس طرزِ عمل کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے - چنانچہ سائل کی بیوی نے اگر سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہےجس پر سائل نے دستخط نہیں کیا اور نہ رضامندی کا اظہار کیا ہےتو یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً سائل کی بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور قائم ہے ،لہذا سائل کی بیوی کا اس خلع کی ڈگری کو بنیاد بناکر کسی شخص کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں اور نہ ہی نکاح منعقد ہوگا ورنہ دونوں حرام کاری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوں گے اس لئے سائل کی بیوی کواپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنا چاہئے۔اور بہتر یہ ہےکہ میاں بیوی اس معاملہ میں باہمی مشاورت سے کوئی حل نکالیں ، لیکن اگر سمجھانے اور ہر ممکن کوشش کے باوجود سائل کی بیوی سائل کے ساتھ رہنے کیلئے آمادہ نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کو بھی چاہیئے کہ اس کو ایک طلاق دیکر اپنی زوجیت سے علیحدہ کردے ،تاکہ عورت مزید گناہ میں مبتلا نہ ہو اور عدت گزارنے کے بعد کسی جگہ باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاحِ صحیح کرسکے ،جبکہ سائل اس صورت میں گناہ گار بھی نہ ہوگا۔ تاہم یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری لیکر یہ کہنا کہ"عدالت سے خلع مل جانے کے بعد فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں" توایسا کہنا درست نہیں۔ أحكام القرآن للجصاص (2 / 95) فأباح الأخذ منها بتراضيهما من غير سلطان وقول النبي صلى الله عليه وسلم لامرأة ثابت بن قيس أتردين عليه حديقته فقالت نعم فقال للزوج خذها وفارقها يدل على ذلك أيضا لأنه لو كان الخلع إلى السلطان شاء الزوجان أو أبيا إذا علم أنهما لا يقيمان حدود الله لم يسئلهما النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك ولا خاطب الزوج بقوله اخلعها بل كان يخلعها منه ويرد عليه حديقته وإن أبيا أو واحد منهما كما لما كانت فرقة المتلاعنين إلى الحاكم لم يقل للملاعن خل سبيلها بل فرق بينهما المبسوط للسرخسي - (6 / 173) والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. بدائع الصنائع ، دارالكتب العلمية - (3 / 145) وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول، لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول فتویٰ نمبر :35158
دارالافتاء :معہدالخلیل الإسلامی بہادرآباد کراچی۵
خلع كے احكام ومسائل کے احکام |