غیرمقلدکے پیچھے عصر اول وقت میں پڑھنا
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں اہلِ حدیث کے مدرسہ میں پڑھاتا ہوں اور حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں ، اور میں عصر کی نماز ان کے پیچھے پڑھتا ہوں حنفی مسلک کے حساب سے ہمارا ٹائم وہ اول ٹائم میں داخل نہیں ہوتا ، کیا میں جو عصر کی نماز ان کے پیچھے پڑھ رہا ہوں اس سے میری عصر کی نماز ہوجائے گی یا نہیں، کیونکہ میں یہاں پڑھاتا ہوں اور عصر تک یہی ہوتا ہوں، ظہر اور عصر کی نماز ان کے پیچھے پڑھنا پڑتا ہے، اب میرے لئے کیا حکم ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہیں؟
جواب
حنفيہ کے راجح مذہب میں اگرچہ مثل ثانی کے بعد سے عصر کا وقت شروع ہوتاہے، لیکن حضرات صاحبین ؒ،ائمہ ثلاثہ اور خود حنفیہ کے بہت سے فقہاء کے نزدیک مثل اول کے ختم پر عصر کی نماز پڑھنا درست ہے، لہذا کوشش تو یہی کرنی چاہئے کہ ایسی مسجد میں نماز پڑھی جائے جہاں عصر کی اذان اور جماعت مثلین کے بعد ہوتی ہو ، لیکن اگر کسی ضرورت کی وجہ سے ایک آدھ بار ایسی مسجد میں نمازِ عصر پڑھنا پڑھ جائےجہاں مثل ِاول کے ختم پر اذان وجماعت کا معمول ہے تو وہاں نماز پڑھنا درست ہے ، تاہم مثلِ اول میں عصر کی نماز پڑھنے کی مستقل عادت بنانا چوں کہ عام مفتیٰ بہ مذہب کو ترک کرنا ہے، اس لیے ایسا کرنا درست نہیں ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ عصر کی نماز میں ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہو اور اس کے بعد کہیں مثلِ ثانی میں نماز پڑھنے کی ترتیب بنائے۔ سنن أبي داود - (1 / 107) عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أمني جبريل عليه السلام عند البيت مرتين، فصلى بي الظهر حين زالت الشمس وكانت قدر الشراك، وصلى بي العصر حين كان ظله مثله، وصلى بي يعني المغرب حين أفطر الصائم، وصلى بي العشاء حين غاب الشفق، وصلى بي الفجر حين حرم الطعام والشراب على الصائم، فلما كان الغد صلى بي الظهر حين كان ظله مثله، وصلى بي العصر حين كان ظله مثليه، وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم، وصلى بي العشاء إلى ثلث الليل، وصلى بي الفجر فأسفر» ثم التفت إلي فقال: «يا محمد، هذا وقت الأنبياء من قبلك، والوقت ما بين هذين الوقتين» موطأ مالك (1/7) عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنه سأل أبا هريرة عن وقت الصلاة فقال أبو هريرة فأنا أخبرك صل الظهر إذا كان ظلك مثلك وصل العصر إذا كان ظلك مثليك والمغرب إذا غربت الشمس والعشاء ما بينك وبين ثلث الليل فإن نمت إلى نصف الليل فلا نامت عينك وصل الصبح بغلس. الدر المختار وحاشية ابن عابدين(1/359) (قوله: إلى بلوغ الظل مثليه) هذا ظاهر الرواية عن الإمام نهاية، وهو الصحيح بدائع ومحيط وينابيع، وهو المختار غياثية واختاره الإمام المحبوبي وعول عليه النسفي وصدر الشريعة تصحيح قاسم واختاره أصحاب المتون، وارتضاه الشارحون، فقول الطحاوي وبقولهما نأخذ لا يدل على أنه المذهب، وما في الفيض من أنه يفتى بقولهما في العصر والعشاء مسلم في العشاء فقط على ما فيه، وتمامه في البحر. فتویٰ نمبر :34382
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
نماز کے احکام |