واضح رہے کہ کرنسی نوٹ کے بدلے سونے کی کمی زیادتی کے ساتھ خریدوفروخت جائز ہے، بشرط یہ کہ معاملہ نقد یعنی ہاتھ در ہاتھ ہو، ادھار نہ ہو، نیز ہر شخص کو اپنی چیز کم یا زیادہ قیمت پر فروخت کرنے اور دوسرے کی چیز خریدنے کا اختیار ہے، بشرط یہ کہ اس میں کسی قسم کا دھوکہ نہ ہو۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے اگر سنارگاہک کو 21 کیرٹ کا سونا بنا کرنقد میں فروخت کرنے کے بعد پھر وہی سونا آفر کی صورت میں کم کیرٹ یعنی 20 کیرٹ کے حساب سے خریدے توشرعا یہ جائز ہے۔جہاں تک جیولر کے اس وعدہ کا تعلق ہےتو دیانۃ اس پر اس کی پاسداری کرنالازم ہے۔
الدر المختار (5/ 257)
( ويشترط ) عدم التأجيل والخيار و ( التماثل ) أي التساوي وزنا ( والتقابض ) بالبراجم لا بالتخلية ( قبل الافتراق ) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح ( إن اتحدا جنسا وإن ) وصلية ( اختلفا جودة وصياغة ) لما مر في الربا ( وإلا ) بأن لم يتجانسا ( شرط التقابض ) لحرمة النساء ( فلو باع ) النقدين ( أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه ) أي المجلس ( صح و ).......الخ
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 559)
لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك
لما في فقه البيوع (1/86)
أن الوعد إذا كان جازماً يجب الوفاء به ديانة، ويأتم الإنسان بالإخلاف فيه، إلا إذا كان لعذر مقبول. أما لزوم الوفاء قضاء، فالأصل فيه أن مجرد الوعد لا يُحْكم به في القضاء، لأن المواعيد متنوعة، وليس من مهام القضاء أن يتدخل في كل ما يجري بين الناس من كلام