بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والے منافع سود کے حکم میں ہیں،جس کا لین دین جائز نہیں بلکہ حرام ہے،لہذا بینکوں سے ملنے والا نفع اگر انہیں لوٹانا ممکن ہو توانہیں واپس کردیں اور اگر واپسی کی کوئی صورت نہ ہو تو اسے ثواب کی نیت کیے بغیر فقراء و مساکین پرصدقہ کردے۔
لما فی القرآن الکریم:
يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين (۲۷۸) فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله وإن تبتم فلكم رؤس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون(۲۷۹)
ترجمہ:اے ایمان والو !اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی کسی کے ذمہ باقی رہ گیا ہوں اسے چھوڑ دو پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو، اگر تم سودسے توبہ کرو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔
و فی الصحیح لمسلم:
عن جابر رضي الله عنه قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وكاتبه وشاهديه، وقال:(هم سواء)
(باب آکل الربا( ص:٦٩٧ ،رقم الحدیث :١٥٩٧)
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سود کھانے والا، دینے والا، لکھنے والا اور اس پر گواہی دینے والا سب برابر ہیں۔
وفي الدرالمختار:
إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه. (مطلب في من ورث مالا حراما(٥/٩٩)