قبضہ سے پہلے کوئی چیز فروخت کرنا
سوال
کیا قبض سے پہلے کسی چیز کو فروخت کرنا جائز ہے؟ مثلاً: آج کل Internet پر بہت ساری تصویر لوگ share کرتے ہیں اس کے بعد اپنا منافع رکھوا کر اس چیز کو فروخت کر دیتے ہیں، کیا اس طرح منافع لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کوئی چیز جبتک بیچنےوالے کی ملکیت پھر قبضہ میں نہ آجائے اسوقت تک اس کیلئے وہ چیز فروخت کرنا جائز نہیں ،کیونکہ یہ ملکیت یا قبضہ سے پہلے سودا کرنے کے زمرے میں آتا ہے،اور احادیث ِ مبارکہ میں اسکی ممانعت وارد ہوئی ہے،چناچہ حدیث نبوی ہے، ﴿نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن﴾ المعجم الأوسط (2/ 154) ترجمہ :"حضور نے منع فرمایاقرض اور بیع سے اور ایک بیع میں دو شرطوں سے اوراس چیز کی بیع سے جو ابھی تک قبضہ میں نہ آئی ہو اورجو چیز اپنے ضمان و ذمہ داری میں نہیں آئی اس کا نفع وفائدہ حلال نہیں ہے"۔ لہذا ایسی صورت میں صرف نیٹ پر کسی پروڈکٹ کی تصاویر دیکھ کر اسے خریدنےاور اس پر قبضہ کرنے سے قبل اسے آگے کسٹمر کو بیچنا جائز نہیں ہے،جس سے بچنالازم ہے۔ البتہ جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ جو اس چیز کے خریدنے کا ارادہ ظاہر کرے تو اس سے وعدہ کیا جائے کہ میں یہ چیز اتنی قیمت میں آپ کو فروخت کروں گا، اس صورت میں یہ وعدہ بیع شمار ہوگا اور بعد میں باقاعدہ ایجاب وقبول یا تعاطی سے بیع تام ہوجائے گی، البتہ اس صورت میں اس چیز پر بائع یا اس کے وکیل کا قبضہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو آگےبیچنا جائز نہیں۔ نیز یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ چونکہ شرعاً یہ سودا نہیں ہےبلکہ سودے کا وعدہ ہے،لہذا دونوں فریقوں کو یک طرفہ ختم کرنے کا اختیار ہوگا،اور جس فریق نے پیشگی رقم ادا کی ہو اسکی رقم بھی واپس کرنی ہوگی ۔ لما فی بحوث في قضايا فقهية معاصرة(2/194) أن المواعدة ليست عقدا باتا،وإنما هي موافقة الطرفين على إنجاز العقد في تاريخ لاحق وهو يحتاج إلى الإيجاب والقبول في ذلك التاريخ اللاحق،والفرق أن أنجاز العقد ينقل المعقود عليه من ذمة إلى ذمة،فمن أنجز الشراء فإنه جعل الثمن دينا في ذمته،ومن أنجز البيع فإنه نقل ملكية المبيع إلى المشتري،،،إلى قوله:أما المواعدة فلا تنشئ دينا على أحد من الطرفين فلا تحدث بها هذه النتائج،الخ فتویٰ نمبر :34995
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
بیوع کے احکام |