مارکیٹ کے ریٹ سے زیادہ پر بیچنا
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جناب مفتی صاحب ! میں کپڑے کی دکان پر کام کرتا ہوں۔ ایک شیروانی میرے پاس 2 ہزار کی ہے۔ کسٹمر کہے کہ پڑوس کی دکان پر یہ چیز 18 سو کی مل رہی ہے، تو ہم اسے کسی طرح ڈیل کریں ؟ جبکہ سیٹھ کا کہنا ہے کہ اس میں بکرم اچھی والی لگی ہے ، لیکن مجھے معلوم ہے کہ اس میں اور پڑوس والی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مجھے لازمی کسٹمر ڈیل کرنا ہوتا ہے ، ورنہ نوکری کا خطرہ ہے۔ اس موقع پر مجھے کیا کرنا چاہئے کہ کسٹمر بھی خراب نہ ہو اور جھوٹ بھی نہ کہنا پڑے؟ میں اس معاملے میں الجھا ہوا ہوں۔ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں گاہک کو ڈیل کرنے کا مناسب طریقہ یہ ہی ہے کہ اس سے یہ کہا جائے کہ یہ چیز ہم اتنے کی دے سکتے ہیں اس سے کم میں نہیں دے سکتے، نیز یہ کہنا بھی درست ہے کہ مالک کی طرف سے اتنے تک دینے کی اجازت ملی ہوئی ہے میں تو ایک ملازم ہوں خود سے کچھ کم نہیں کرسکتا، یا ہمارے ہاں ایک نمبر مال ہوتا ہےاور ہم گارنٹی کے ساتھ یہ کپڑاآپ کو دے رہے ہیں وغیرہ۔ اس صورت میں یہ جھوٹ نہیں کہلائے گا۔ صحيح مسلم - (1 / 103) عن أبي هريرة، وهذا حديث أبي بكر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاث لا يكلمهم الله يوم القيامة، ولا ينظر إليهم، ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم: رجل على فضل ماء بالفلاة يمنعه من ابن السبيل، ورجل بايع رجلا بسلعة بعد العصر فحلف له بالله لأخذها بكذا وكذا فصدقه وهو على غير ذلك، ورجل بايع إماما لا يبايعه إلا لدنيا فإن أعطاه منها وفى، وإن لم يعطه منها لم يف " (ترجمہ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے اس قدر ناراض ہو گا کہ نہ تو ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا: ایک وہ شخص جس کے پاس چٹیل میدان میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ اسے مسافر کو نہ دے، دوسرے وہ شخص جو اپنا مال نماز عصر کے بعد بیچے اور اللہ کی قسم کھائے کہ اسے اس نے اتنے اتنے میں خریدا ہے، اور خریدار اسے سچا جانے حالانکہ وہ اس کے برعکس تھا، تیسرے وہ شخص جس نے کسی امام سے بیعت کی، اور اس نے صرف دنیا کے لیے بیعت کی، اگر اس نے اس کو کچھ دیا تو بیعت پوری کی، اور اگر نہیں دیا تو نہیں پوری کی“ فتویٰ نمبر :34204
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
بیوع کے احکام |