حرام مال کا حلال مال سے تبادلہ
سوال
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر میرے ایزی پیسہ یا جیز کیش یا کسی اور موبائل والٹ میں میرے حلال کے پیسے ہوں اور کوئی جوا کے پیسے اس میں بھیج دے تو کیا میرے حلال کے پیسے بھی حرام ہو جائیں گے ؟ اور اگر میرے پیسے حرام کے ہیں موبائل والٹ میں اور میں وہ کسی اور کے موبائل والٹ میں بھیج کہ اس سے پیسے لیتا ہوں اور وہ اس دینے والے کہ پیسے چوں کہ حلال کے ہیں تو کیا میرے پاس آنے سے وہ حرام ہیں۔
جواب
صورت مسؤلہ میں آپ کے اکاؤنٹ میں جوئے کے پیسے آنے سے آپ کے پاس موجودہ حلال رقم بدستورحلال ہی رہے گی ،جوئے کی رقم سے بقیہ حلال رقم حرام نہیں ہوگی، بلکہ صرف جوئے کی رقم حرام ہوگی،اسی طرح اگر آپ حرام رقم کا تبادلہ حلال رقم سے کریں گے تو اس سے بھی آپ کے حق میں وہ حرام رقم حلال نہیں ہوگی،بلکہ حرام ہی رہے گی۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 98) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام الفتاوى الهندية (5/ 342) قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - اختلف الناس في أخذ الجائزة من السلطان قال بعضهم يجوز ما لم يعلم أنه يعطيه من حرام قال محمد - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ ما لم نعرف شيئا حراما بعينه، وهو قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وأصحابه، كذا في الظهيرية. الدر المختار وحاشية ابن عابدين(99/5) والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه امداد الفتاویٰ میں ہے: سوال (128) جواری دغاباز اعنی کسب حرام والے تائب ہو کر اگر چاہیں کہ اپنے مال کو خدا کی راہ میں صرف کریں تو اس کی کیا صورت ہے...کوئی شرعی حیلہ حلال کرنے کا ہے یا نہیں؟ الجواب، وہ مال حرام رہتا ہے، جو لوگ فقر و فاقہ سے بہت پریشان ہوں ایسوں کو وہ مال بنیت رفع حاجت دینا چاہئے، نہ بہ نیت حصول ثواب ، اور اگر وہ شخص جس سے وہ مال ان لوگوں کا حاصل ہوا ہے وه با تعیین با تخصیص معلوم ہو تو اسکو واپس کر دینا چاہئے، اور حرام کو حلال کرنے کے لئے کوئی حیلہ مفید نہیں...فقط واللہ تعالیٰ اعلم مالِ حرام ومشتبہ کے احکام، عنوان: حکمِ مالِ حرام بعد توبہ، ج:4، ص:144، ط:دارالعلوم کراچی) فتویٰ نمبر :34460
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
متعلقہ فتاویٰ |