میت کوع احتجاجا سرد خانہ میں رکھنا اور تدفین سے پہلے سوال وجواب کا حکم
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! كيا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ آج کل کوئٹہ شہر میں شہداء زیارت کے نام سے دھرنا ہورہا ہے اور اس میں شہداء کی لاشیں بھی ابھی تک کسی سردخانے میں احتجاجاً رکھی ہوئیں ہیں کیا اس طرح کسی میت یا شہید کو انصاف دلانے کےلئے تأخیر سے دفنانا جائز ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کہ ان سے سوال وجواب قبر میں رکھنے سے پہلے ہوگا یا دفنانے کے بعد ؟ مسئلہ کی وضاحت فرما کر ثوابِ دراین حاصل کریں۔
جواب
واضح رہے کہ کسی بھی شخص کے انتقال کے بعد جتنا جلد ممکن ہو، اسے دفن کردینا مسنون ہے،کسی غیرمعقول عذر کی وجہ سے تدفین میں تاخیر کرنامکروہ ہے، اس لئے صورتِ مسئولہ میں شہداء کو انصاف دلانےکےلئے سردخانوں میں لاشیں رکھ کر تدفین کے عمل میں تأخیر کرنا مناسب عمل نہیں جبکہ اس کےعلاوہ اور بھی مناسب طریقے ہوسكتےہیں جن سے شہید اور اس کے اہلِ خانہ کو انصاف دلوایا جاسکے۔ اور جہاں تک تدفین سے پہلے میت سے سوال و جواب کا تعلق ہے تو میت کو قبر میں یاکسی دوسری جگہ دفن کرنے کے بعد سوال و جواب کا مرحلہ آتا ہے۔ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (3 / ) عن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة» . رواه البيهقي في شعب الإيمان.... «إذا مات أحدكم فلا تحبسوه» ) أي: لا تؤخروا دفنه من غير عذر. قال ابن الهمام: يستحسن الإسراع بتجهيزه كله من حين يموت. (وأسرعوا به إلى قبره) وهو تأكيد وإشارة إلى سنة الإسراع في الجنازة. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 239) يندب دفنه في جهة موته وتعجيله... (قوله وتعجيله) أي تعجيل جهازه عقب تحقق موته، ولذا كره تأخير صلاته ودفنه ليصلي عليه جمع عظيم بعد صلاة الجمعة كما مر مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (1 / 204) وعن أنس - رضي الله عنه - قال، قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ( «إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه وإنه ليسمع قرع نعالهم أتاه ملكان فيقعدانه، فيقولان: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ لمحمد - صلى الله عليه وسلم -: فأما المؤمن فيقول: أشهد أنه عبد الله ورسوله فيقال له: انظر إلى مقعدك من النار، قد أبدلك الله به مقعدا من الجنة، فيراهما جميعا. وأما المنافق والكافر فيقال له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: لا أدري كنت أقول ما يقول الناس فيقال لا دريت ولا تليت ويضرب بمطارق من حديد ضربة، فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين» ) فتویٰ نمبر :35235
دارالافتاء :معہدالخلیل الإسلامی بہادرآباد کراچی۵
حظر و اباحت کے احکام |