مضامین

وہ جن کا فیض پورے عالم میں پھیلتا ہے

مولانا عبداللہ البرنی المدنی (مدینہ منورہ)
صاحبزادہ حضرت مفتی عاشق الٰہی بلندشہری رحمہ اللہ

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، وَبَعْدُ!

حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے علمِ شریعت و علمِ طریقت دونوں میں کمال حاصل کیا۔ جس شخصیت میں علمِ شریعت کے ساتھ طریقت و دردِ دل جمع ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا فیض پورے عالم میں پھیلاتے ہیں۔ بالخصوص وہ شخصیت کہ جس نے اپنے اساتذہ و مشائخ کی کما حقہ قدر کی ہو۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے بھی اپنے شیخ و مرشد حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خوب خوب قدر کی۔ اگرچہ کسی مسترشد کے لیے کما حقہ اپنے شیخ کی قدر کرنا تو ممکن نہیں ہے البتہ کسی وفادار مسترشد سے حتی الامکان جس قدر دانی کی توقع کی جا سکتی ہے اس سے بڑھ کر حضرت مولانا نے اپنے شیخ کی قدر کی اور ان کے علوم و معارف کو خوب آگے بڑھایا اور پھیلایا۔

مجھے یاد ہے کہ حضرت والد ماجد مولانا عاشق الٰہی البرنی رحمہ اللہ مجھے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کی مجالس میں لے جایا کرتے تھے۔ یہ ۱۴۰۱ھ کی بات ہے، جب میں لڑکا تھا۔ میری عمر دس برس کے لگ بھگ تھی۔ ان مجالس میں حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی ہوا کرتے تھے۔ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے ابتدائی دور میں حضرت مولانا ہمارے پڑوسی ہوا کرتے تھے۔ ان کے بڑے صاحبزادے مولانا محمد الیاس میرے حفظ کے ساتھی تھے۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے بارہا مجھے اور اپنے دیگر شاگردوں کو حضرت مولانا رحمہ اللہ سے استفادے کی تاکید فرمائی۔

ہماری رہائش گاہ کے قریب مسجد خلیل اللہ واقع تھی۔ اس مسجد میں حضرت والد ماجد اور حضرت مولانا رحمہما اللہ حدیث و فقہ کا درس دیا کرتے تھے۔ ان دروس میں مختلف طلبہ شریک ہوا کرتے تھے۔ میں بھی ان دروس میں شرکت کی سعادت حاصل کرتا تھا۔ حضرت والد ماجد اور حضرت مولانا رحمہما اللہ کی باہمی بڑی محبت تھی۔

حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی وفات کے بعد میں حضرت مولانا رحمہ اللہ سے ملا تو حضرت نے فرمایا: ’’آپ کے والد صاحب سے جو میرا تعلق تھا، وہ تعلق آپ سمجھ نہیں سکتے۔ وہ تو بات ہی کچھ اور تھی‘‘۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، حضرت رحمہ اللہ کے یہی الفاظ تھے: ’’وہ تو بات ہی کچھ اور تھی‘‘۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی وفات کے بعد حضرت رحمہ اللہ کی مجھ پر بڑی شفقت و عنایت رہی۔ حضرت رحمہ اللہ نے ماہنامہ ’’سلوک و احسان‘‘ کا والد ماجد رحمہ اللہ پر خصوصی نمبر بھی نکالا۔ یہ حضرت کا والد ماجد سے قلبی تعلق کی دلیل ہے۔ ان دونوں حضرات کی شخصیتوں سے میں نے علم و عمل میں اخلاص، معاصر علماء کا ادب و احترام، ایک دوسرے کے مقام کو پہچاننا اور للٰہیت کا سبق سیکھا ہے۔

میں نے حضرت رحمہ اللہ سے باقاعدہ کوئی کتاب تو نہیں پڑھی، لیکن وہ میرے اساتذہ بلکہ استاذ الاساتذہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ حضرت رحمہ اللہ سے تلمذ کی شرف یابی سے محرومی کی وجہ یہ ہے کہ جس زمانے میں حضرت رحمہ اللہ کی تدریسی مجالس سجتی تھیں، اس زمانے میں میں درجۂ حفظ میں تھا۔

یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ والد صاحب رحمہ اللہ نے التسهيل الضروري لمسائل القدوري حضرت مولانا شمیم صاحب رحمہ اللہ (رئیس مدرسہ صولتیہ، مکہ مکرمہ) کی تحریک پر تالیف فرمائی۔ اس تحریک کے ساتھ حضرت مولانا شمیم صاحب رحمہ اللہ کا اصرار تھا کہ التسهيل الضروري کی اشاعت بھی ان کے ذمہ ہے۔ کتاب کی تالیف مکمل ہونے پر حضرت والد صاحب نے مسودہ مولانا شمیم صاحب رحمہ اللہ کے حوالے کر دیا۔ مولانا رحمہ اللہ کی طرف سے کتاب کی طباعت میں غیر معمولی تاخیر ہوئی تو حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے کتاب برائے طباعت حضرت مولانا یحییٰ صاحب رحمہ اللہ کے حوالے کر دی، حضرت مولانا رحمہ اللہ نے کتاب شائع کر دی۔ مولانا شمیم صاحب رحمہ اللہ اس کا برا مان گئے۔ انہوں نے حضرت مولانا رحمہ اللہ کو پرشکوہ فون کیا کہ کتاب تو ہماری تحریک پر تالیف کی گئی تھی، اس کی اشاعت بھی ہمارا حق تھا۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے بتا دیا کہ میں نے حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحب کے کہنے پر شائع کی ہے۔ اس کے بعد مولانا شمیم صاحب رحمہ اللہ نے والد صاحب کے سامنے فون پر اپنا شکوہ پیش کیا تو والد صاحب نے فرمایا: ’’میری کتابوں کے حقوق محفوظ تو ہوتے نہیں، لہٰذا پہلے اور بعد ہی کی بات ہے، پہلے مولانا یحییٰ صاحب نے شائع کر دی اب آپ شائع کر دیں‘‘۔

اس پر حضرت مولانا شمیم صاحب رحمہ اللہ نے ذرا تلخی کا اظہار کیا تو والد صاحب رحمہ اللہ نے بھی ذرا جلال میں انہیں تلخ نوائی سنا دی۔

اس واقعے کے کچھ عرصے بعد حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ عمرے پر تشریف لائے تو حضرت مولانا شمیم صاحب رحمہ اللہ نے حضرت مولانا یحییٰ صاحب رحمہ اللہ کے سامنے اپنا خواب بیان کیا کہ خواب میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے التسهيل الضروري کی قبولیت کا ارشاد فرما کر مجھ سے فرمایا: ’’تم نے اچھا نہیں کیا!‘‘۔

اپنا خواب بیان کر کے حضرت مولانا شمیم صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’آپ (حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب) مدینہ جا رہے ہیں، میری طرف سے حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحب کی خدمت میں معافی کی درخواست پیش کر دینا‘‘۔ حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ نے والد صاحب کے سامنے خواب بیان کیا تو والد ماجد نے فرمایا: ’’میں تو پہلے ہی انہیں معاف کر چکا تھا۔ اس خواب سے تو میرے دل میں مولانا شمیم کا مقام بڑھ گیا ہے، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی مقبول کو ہی تنبیہ ہوتی ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔