ان کی شفقتیں … میرا سرمایۂ حیات
از: اہلیہ ڈاکٹر فاروق علی
اللہ پاک نے اس دین کی حفاظت اپنے بندوں میں سے ایسی برگزیدہ ہستیوں کے ذریعہ کروائی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس دین کی بقا، اشاعت و حفاظت کے لیے وقف کر دیں۔ انہی عظیم ہستیوں میں ایک بڑی شخصیت اور عظیم ہستی میرے شیخ و مربی حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی ہے۔ وہ دینی مقتداء تھے، مربی تھے، معلم تھے، مردِ صالح تھے، عابد تھے، مثالی منتظم تھے، بہترین مہتمم تھے، صاحبِ دعا تھے اور جانے کیا کیا…
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے کہ جب میں حضرت رحمہ اللہ کی خدمت میں ان سے بیعت ہونے کی غرض سے حاضر ہوئی، حضرت رحمہ اللہ پردے کے پیچھے تشریف فرما تھے، مجھ سے دو سوالات کیے، پہلا سوال یہ کہ بیعت کی غرض کیا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ آمدنی کے ذرائع کیا ہیں؟ جوابات پا کر اپنی شفقت کی ٹھنڈی چھاؤں ہمارے سروں پر بھی تان دی اور اسی سال ختمِ نبوت کا ایک کلینڈر بطور ہدیہ عنایت فرمایا، کچھ معمولات تجویز فرمائے۔ جب کبھی حضرت رحمہ اللہ سے فون پر رابطہ کرتی تو کوشش ہوتی تھی کہ سلام میں پہل کر سکوں مگر ہمیشہ ناکام رہی، حضرت کا صرف یہ پوچھنا: ’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ (جو آج بھی کانوں میں گونجتا ہے) ہر دکھ اور پریشانی کو دور کر دیتا تھا۔
رہائش کی فکرمندی، نبوی وظائف اور عاجزی
اب ان کو اللہ نے اپنے پاس بلا لیا ہے، آج بھی دل غمگین ہے اور دورانِ تحریر آنکھیں ان کی یاد میں نم ہو جاتی ہیں۔ بیشک وہ اللہ پاک کی ایک نعمت تھے اور نعمت چھن جائے تو صدمہ ہونا یقینی بات ہے۔ کچھ عرصہ قبل مجھے رہائش کے سلسلے میں پریشانی اٹھانی پڑی، تو ہمارے ساتھ حضرت رحمہ اللہ بھی فکرمند تھے، ہر بار اتنی اپنائیت اور فکر مندی سے پوچھتے کہ باپ کی بپتا محسوس ہوتی۔ حضرت رحمہ اللہ کی بڑی خواہش تھی کہ ہمیں ایسی رہائش ملے کہ جہاں میں اپنی پریکٹس کر سکوں۔ اس سلسلے میں اکثر فرماتے تھے کہ ہماری دعا ہے کہ ’’آپ یہیں آ جائیں‘‘ اور سچ پوچھیں تو آج جو سکون اللہ پاک نے عطا فرمایا ہے اس میں یقیناً حضرت رحمہ اللہ کی دعاؤوں کا بڑا حصہ ہے۔
دورانِ تعلیم میں نے حضرت رحمہ اللہ سے گزارش کی کہ اب دماغ میں اتنی استطاعت نہیں رہی اور گھریلو مصروفیات بھی زیادہ ہیں لہٰذا سبق یاد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تو حضرت رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’فجر اور مغرب کی نماز کے بعد تین تین بار درود شریف اول آخر پڑھیں اور سات بار سورۂ الم نشرح‘‘، الحمدللہ! بہت نافع رہا۔ حضرت رحمہ اللہ سے جب بھی دعاؤوں کی درخواست کرتی یا حجاز کے سفر سے قبل روضۂ اقدس پر سلام پیش کرنے کی گزارش کرتی تو بہت اپنائیت اور خلوص سے فرماتے: ’’دل و جان سے‘‘۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اتنے شفیق اور مہربان شیخ، معلم، مربی عطا فرمائے۔ الحمد لله رب العالمين۔
بچوں کے سروں پر دستِ شفقت اور بے مثال انکساری
جب عمرہ پر جانے کی سعادت نصیب ہوئی تو جانے سے قبل میرے شوہر اور بچے حضرت رحمہ اللہ سے ملنے کے لیے گئے۔ بچوں کے سروں پر دستِ شفقت پھیرا (جو ہمارا سرمایۂ حیات ہے) اور فرمانے لگے (بچوں سے) کہ ’’میرا نام محمد یحییٰ بن محمد یونس ہے۔ روضۂ اقدس پر میرا سلام بھی پیش کر دیجیے گا‘‘۔ رمضان کے مہینے میں میرے شوہر سے فرماتے کہ ’’آپ کلینک سے یہیں آ جایا کریں اور ہمارے ساتھ افطاری کر لیا کریں‘‘ اور ایک بار تو مجھے بھی افطاری و طعام بھجوایا اور شوہر سے فرمانے لگے کہ ’’گھر بھی لیتے جائیں‘‘۔ معلوم ہوتا تھا کہ اللہ نے حضرت رحمہ اللہ کے قلب و باطن کو حبِ جاہ کے جذبے سے بالکل پاک کر دیا تھا۔
بلاشبہ حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت میں انا کی نفی کا غلبہ تھا۔ ایک بار حفظِ قرآن کی ایک تقریب میں فرمانے لگے ’’بیٹے! اللہ کے ہاں مجھ بوڑھے کو بھی یاد رکھنا، میرا اپنا تو کوئی عمل نہیں‘‘۔ حضرت رحمہ اللہ سب چھوٹے بڑوں کو اپنی یادیں دے کر تقریباً ایک سال ہوا دنیا چھوڑ گئے۔ انہوں نے بھرپور زندگی گزاری، اللہ تعالیٰ انہیں آگے کی زندگی میں ہر طرح کی کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں اور ہم سب کو اس راستے پر قائم و دائم رکھیں جو انہوں نے ہمارے لیے پسند فرمایا۔ آمین۔