مضامین

صاحبزادہ حضرت مولانا محمد زکریا مدنی صاحب دامت بركاتھم العالیہ

(استاذ الحدیث جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)

احقر کا سنِ ولادت ۲ فروری ۱۹۷۷ء ہے۔ جمعیت پنجابی سوداگران سے تعلق ہے۔ قاعدہ کی بسم اللہ سے بخاری شریف کی آخری حدیث سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ تک اپنے مادرِ علمی میں پڑھا ہے۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی شفقتوں کے سایہ تلے شروع ہی سے حضرت والد صاحب سے شرفِ تلمذ حاصل رہا دورۂ حدیث تک۔ دورانِ حفظ سبق لینا، یاد کرنا اور جب ۱۵ سپارے ہو چکے تو بعد نمازِ فجر گھر میں اگلے اسباق کئی کئی رکوع لینا اور حضرت والد صاحب کا انفرادی توجہ کے ساتھ اس فقیر کو کہلوانا خوب یاد ہے۔

اپنی عمر کے چھتیس سال حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے ساتھ اللہ پاک نے گزارنے کی توفیق دی۔ ایک ہی چھت کے نیچے، صبح و شام کے ایک دسترخوان کے ساتھ، مدرسہ میں تعلیم و تعلم کی بہاروں میں، سردی گرمی، خزاں بہار، صحت و مرض، دکھ سُکھ، سفر و حضر کے کتنے موسم اور حالات میں اللہ پاک نے کہاں کہاں سے گزار دیا:
غمِ عشقی تیرا شکریہ

الحمدللہ اتنی عمر میں کسی موقع پر، کسی کام کے سبب حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی شرفِ صحبت و خدمت میں انقطاع نہیں ہوا۔ واقعات کا ایک سمندر دل و دماغ میں موجزن ہے۔ ہم اولاد حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی خون پسینہ کی کمائی ہیں۔ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ (الحدیث) نص ہے۔ اس لیے اتباعِ سنت و شریعت، تعلیم و تعلم کے ساتھ دل و دماغ میں اس نورِ نبوت کو منتقل کرنے کی ہمیشہ سعی فرمائی جو امانت وہ اپنے اکابر سے سیکھ کر آئے تھے۔ ان کا طرزِ زندگی، دماغ کی سوچ و فکر، نظام الاوقات، اپنے شیخ کے طرزِ زندگی میں فنا تھا۔

اس ناکارہ کا نام اپنے شیخ کی تجویز پر اپنے محبوب شیخ کے نام پر رکھا گیا اور پھر اسی سلسلۂ نسب کی غایت محبت کی بنا پر میرے بیٹے کا نام محمد طلحہ تجویز کیا۔ اس طرح حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی حفظہ اللہ و وعاہ بن شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا بن مولانا یحییٰ کاندھلوی کے سلسلۂ نسب کی اپنے گھر میں ایک جھلک قائم فرمائی۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی تو ساری ادائیں خاص تھیں۔ وقت کی حفاظت اور اس کے ضائع ہونے پر افسوس ان کا بڑا اہم وصف تھا۔ رات جلد سونا، صبح دوام و استمرار کے ساتھ جلد اٹھ کر شب بیداری، صفِ اول کی پابندی کا انتہائی اہتمام ان کے اوصافِ حسنہ میں سے ایک بڑا اہم وصف تھا۔

خلافت کے معنی و مفہوم سے تاحال یہ عاجز ناآشنا ہے۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے مجھے ہمیشہ اپنی نگاہوں کے سامنے رکھا۔ اعدادیہ کے سال جب عمر ۱۱ سال کے قریب ہوگی ماہِ رمضان میں حضرت صوفی محمد اقبال صاحب رحمہ اللہ سے بیعت کروایا۔ پھر مراقبۂ قلبی حضرت صوفی صاحب نے تلقین فرمایا۔ پھر کچھ وقت بعد اذکارِ مسنونہ اور پھر اذکارِ مشائخ کی تلقین حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے خود فرمائی۔ ماہِ مبارک میں دیگر معمولات کے ساتھ کئی سال پورا عشرہ اپنی نگرانی میں اعتکاف کروایا۔ ۱۴۱۴ھ میں حضرت صوفی اقبال صاحب رحمہ اللہ تشریف لائے ہوئے تھے ایک مجمع میں حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ نے اس عاجز کی دستار بندی فرمائی۔ اس کے بعد حضرت والد صاحب نے مجمع سے خطاب فرمایا تھا۔

حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے اس کے بعد مزید نگرانی فرمائی۔ نظام الاوقات لکھوانا، اس کی پابندی کرنا۔ مختلف تحریریں لکھ کر یہ عاجز اپنی اصلاح کے پہلو پوچھتا رہتا جس کے جوابات عموماً زبانی فرمایا کرتے۔ ایک موقع پر تلبیس ابلیس نامی کتاب پڑھنے کی تلقین فرمائی وغیرہ۔ اللہ پاک والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کی لحد مبارک پر کروڑ ہا کروڑ رحمتیں نازل فرمائے۔

حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی اس عاجز پر خصوصی شفقت یہ بھی رہی کہ تعویذ لکھنے وغیرہ کا عمل بارہا سکھلایا اور بارہا لکھنے کی تلقین بھی فرمائی۔ کئی رمضان المبارک میں حکم رہا کہ فلاں فلاں کو ذکر سکھلا دو۔ وصال سے تقریباً ایک سال قبل جمادی الاولیٰ ۱۴۳۳ھ اسلام آباد میں حضرت شیخ الحدیث کانفرنس میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی معیت میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت مولانا طلحہ صاحب کاندھلوی دامت برکاتہم سے حضرت والد ماجد نے کچھ گفتگو فرمائی اور پھر حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس عاجز کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ’’اللہ پاک مبارک فرمائے اور تمام سعادتوں سے مالا مال فرمائے‘‘ دعا دی۔

حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے اسی سال رمضان ۱۴۳۳ھ میں اس عاجز اور بھائی محمد مدنی کو بلا کر حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم کی طرف سے دی ہوئی دستار باندھی اور اعلان بھی فرمایا کہ حضرت مولانا طلحہ صاحب کاندھلوی مدظلہ کی طرف سے ان کو اجازت دی گئی ہے۔

باقی مصروفیت بحمداللہ وہی ہے جس کام میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ لگا گئے تھے۔ آج ایک سال گزرنے کو ہے۔ بحمداللہ تعالیٰ و حسن فضلہ و انعامہ مبشرات و منامات تواتر سے ہمت بندھا رہے ہیں۔ اللہ پاک استقامتِ کاملہ کے ساتھ اسی طلبِ علمی میں لگے رہنے کی توفیق دے۔ میری شامتِ اعمال کی وجہ سے مجھے محروم نہ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم۔

صاحبزادہ مولانا محمد زکریا مدنی
استاذ الحدیث جامعہ معہد الخلیل الاسلامی