مضامین

صاحبزادہ حضرت مولانا محمد الیاس مدنی صاحب دامت بركاتھم العالیہ

(مہتمم جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)

اس عاجز کی ولادت ۳ جون ۱۹۷۲ء کی ہے۔ بچپن کے ابتدائی ۷، ۸ سال مدینہ منورہ کا قیام رہا۔ قاعدہ اور پارہ عم کا کچھ حصہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے زیرِ سرپرستی قائم شدہ مکتب جس کے منتظمین میں والد صاحب رحمہ اللہ بھی تھے، حضرت اقدس قاری امیر حسن صاحب رحمہ اللہ خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے پاس پڑھا۔ اس کے بعد مدرسہ تحفیظ القرآن مسجد خلیل اللہ میں حضرت قاری احمد اللہ صاحب مدظلہ کے ہاں آٹھ سپارے تک پڑھا۔ یٰس شریف وہیں حفظ کی تھی۔

اس دوران حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی زیارت کا شرف خوب حاصل رہا۔ بعد عصر کتاب کی مجلس، بعد فجر ذکر کی مجلس میں احیاناً لاشعوری شرکت اور حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا خدام کے جلو میں مغرب کی جماعت میں شرکت کے لیے ویل چیئر پر حرم شریف تشریف لے جانا اور بعد عشاء واپس آنا بھی خوب یاد ہے۔ الحمدللہ! مختلف مواقع پر حضرت شیخ رحمہ اللہ کا شفقت فرمانا، ان سے ہاتھ ملانا، حضرت شیخ رحمہ اللہ کا سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا، ویل چیئر پر بیٹھے ہوئے ساتھ کھڑا کرنا، گود میں بٹھانا اور اس قسم کی بیسیوں یادیں حافظہ کا حصہ ہیں۔

۷۹/۱۹۸۰ء میں والد صاحب کے پاکستان مستقل منتقلی کے بعد مکی مسجد میں حضرت قاری عبدالغفور صاحب رحمہ اللہ کے پاس حفظِ قرآن کی تکمیل کی اور گردان بھی یہیں مکمل کی۔ اعدادیہ سے لے کر دورۂ حدیث تک اپنے ادارے میں تعلیم حاصل کی۔ اول سے آخر تک ہر درجہ میں والد صاحب سے کوئی نہ کوئی سبق ضرور پڑھا۔ الحمدللہ! حضرت رحمہ اللہ نے جہاں تعلیم کے عمل کی بھرپور نگرانی اور اس کے لیے اچھا ماحول و اساتذہ مہیا کرنے کی ہر ممکن سعی فرمائی، وہیں تربیت و سلوک کی لائن کا ذوق پیدا کرنے اور اس کے مطابق مزاج ڈھالنے کے لیے بھی خوب خوب فکر فرمائی اور اس کا حق ادا کیا۔

درجہ ثانیہ میں باقاعدہ خود بیعت فرمایا اور اس سے قبل ہی سے مختلف مجالسِ ذکر اور اللہ والوں کی زیارت و صحبت والی تقریبات میں اپنی ہمراہی میں لے جاتے۔ بزرگوں اور اللہ والوں سے اہتمام سے ملاقات کراتے اور ان کی توجہات و دعائیں لینے کی ترغیب دیتے اور اس کے آداب سکھلاتے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے محبوب خادم و معتمد حضرت اقدس صوفی اقبال صاحب رحمہ اللہ کے سپرد فرمایا، آپ سے ذکرِ قلبی سیکھا، احیاناً مکاتبت بھی رہی، بڑی ہی محبت و شفقت فرماتے جو دیدنی تھی نہ کہ شنیدنی۔

۱۹۸۷ء سے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی نسبت اور ان کے طرز پر پاکستان میں پورے ماہِ رمضان کے اعتکاف کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس میں والد صاحب بھی اہتمام سے تشریف لے گئے، بندہ کو بھی لے گئے اور آخری پندرہ ایام کے لیے حضرت صوفی صاحب کی خدمت و صحبت میں استفادہ کے لیے چھوڑ آئے۔ اس کے بعد لاہور، راولپنڈی، مدینہ منورہ وغیرہ میں اگلے چند سالوں تک اس سلسلہ کو جاری رکھا، مگر تربیت کو ہمیشہ اپنی ذمہ داری میں ہی سمجھا اور تربیتی ہر پہلو پر بڑی باریک بین نگاہ رکھی اور خوب رہنمائی فرمائی۔

دورۂ حدیث کے سال ختمِ بخاری شریف کے موقع پر حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے سلسلہ میں اجازت مرحمت فرمائی۔ حضرت صوفی اقبال صاحب رحمہ اللہ نے بھی اسی موقع پر اجازت دی۔ ۱۹۹۲ء میں اسی موقع پر والد صاحب نے ایک تحریر خصوصی طور پر میرے نام دی جس کا عکس بعض ساتھیوں کی خواہش پر اس مضمون کی زینت بنایا جا रहा ہے۔

فراغت کے بعد اپنی نگرانی میں تدریس کا آغاز کروایا۔ ساری عمر اپنی شفقت و محبت کے آغوش میں رکھا، کبھی دور نہیں ہونے دیا۔ بے اعتدالیوں اور بے ادبیوں کے باعث کبھی بھی تعلق میں کمی نہیں آنے دی، یہاں تک کہ بندہ کی اپنی ذاتی زندگی کا ہر مسئلہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو اسے اپنا مسئلہ سمجھا اور اس میں بجائے مشورہ دینے یا رائے لینے کے حکم صادر فرمایا اور از خود اس کو عملی جامہ پہنایا، جس کی وجہ سے زندگی کے کسی بھی موڑ اور کسی موقع پر بھی خود کو اکیلا محسوس نہ کیا۔ بڑی باریک بینی سے معاملے اور ہر ضرورت پر نظر رکھتے، ہمیں کبھی اپنی نگاہوں سے دور نہیں ہونے دیتے، نہ ہی بلاضرورت کسی سفر کو پسند فرماتے، نہ ہی گھر سے نکلنے کو۔ الحمدللہ! مسجد، مدرسہ، خانقاہ چوبیس گھنٹے کے معمولات کا محور تھے۔ میل ملاقات، دوستی، بے تکلفی قطعاً محرمات میں سے تھے۔ سادہ اور عزیمت سے بھرپور زندگی گزاری۔ ہر معاملہ میں خود اسوہ بن کر دکھایا اور ہمارے لیے بھی اسی کو پسند کیا۔

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے طریق و منہج، مزاج و مذاق سے ہر معاملہ میں انسلاک آپ کی طبیعتِ ثانیہ تھی۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ ہی کا فیضان ’’جامعہ معہد الخلیل الاسلامی‘‘ کو اپنے خونِ جگر سے سینچا۔ اپنی صحت، جوانی بلکہ زندگی اس کی آبیاری میں نچھاور کر دی۔ اس سے تعلق اور اس کی خدمت کو اپنے سے تعلق کا معیار قرار دیتے۔ اس عاجز اور دیگر بھائی اور اصحاب و احباب کے لیے اس کی خدمت اور اس سے انسلاک کو اسی طریق و منہج کے مطابق مضبوط تھامنے اور اس کے استحکام و ترقی کے لیے کوشاں رہنے کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ اس کا پابند بنایا۔

حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی اجازت کے بعد دیگر کئی بزرگوں نے اپنے سلاسل میں بیعت کی اجازت دی جو درحقیقت حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی محنت و تربیت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ وگرنہ بندہ اپنی حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ حضرت رحمہ اللہ کی وفات کے بعد بھی بحمداللہ روحانی توجہات و عنایات کا سلسلہ جاری ہے۔ اللہ جل جلالہ اپنے فضل سے کچھ حقیقت بھی پیدا فرما دیں۔ فی الحال بندہ اپنی ہمت و استعداد کے مطابق ادارے کی تعلیمی، انتظامی کام میں حصہ ڈالنے کے لیے کوشاں رہتا ہے، اس امید پر کہ اللہ جل جلالہ قبول فرما کر نجات کا ذریعہ بنا دیں۔ شامتِ اعمال کی وجہ سے محروم نہ فرمائے اور دین کے خادمین اور طالب علموں میں مرتے دم تک شامل رکھیں۔

صاحبزادہ مولانا محمد الیاس
مہتمم جامعہ معہد الخلیل الاسلامی