رس بھرے نام وصفات والے حضرت یحییٰ ثانی
حضرت مولانا محمد داؤد صاحب
سیدنا حضرت زکریا (علی نبینا وعلیہ السلام) نے چپکے سے بڑھاپے میں اپنے رب سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی، لڑکا بھی عطا فرمایا اور نام بھی تجویز فرمایا۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جو نام اللہ تعالیٰ رکھیں کس قدر شیریں اور رس بھرا ہوگا؟ سورۂ مریم کی تلاوت کرتے ہوئے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ پھر مزید احسانِ عظیم فرمایا کہ لڑکے کو بچپن ہی میں بڑی صفات سے متصف فرمایا اور تین سلام بھی عطا فرمائے اور اس سارے احسان و انعام خداوندی کو ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (مریم: ۲) کے پُرکشش اور آبدار قرآنی الفاظ سے بیان فرمایا۔
قریب ہی کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کو بھی رس بھرے ناموں اور صفات والے دو یحییٰ عطا فرمائے۔ ایک والد گرامی حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلوی رحمہ اللہ کی شکل میں اور دوسرے فرزندِ روحانی حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی شکل میں۔ لگتا ہے کہ حضرت یحییٰ اول رحمہ اللہ کی خداداد صفاتِ عالیہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے ہوتی ہوئی حضرت یحییٰ ثانی رحمہ اللہ میں منتقل ہوئیں۔ غضب کی نگاہِ برق، رعب و ہیبت، فہم و ذکاء، شانِ تربیت و فراستِ ایمانی، شانِ خادمیت، حسنِ تدبیر و تنظیم، اکلِ حلال کا التزام، عقیدت و احترامِ اکابر، حد درجہ زہد و قناعت، آخرت کا شوق و خوف اور ان سب کی روح: اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ لگاؤ و تعلق سمیت بیسیوں صفات کے ساتھ ساتھ ’’چاہتِ زکریا‘‘ میں بھی مماثل و مشابہ معلوم ہوتے ہیں۔
جاننے والے ہی جانتے ہیں کہ دونوں نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو کس قدر چاہا۔ چنانچہ حضرت یحییٰ اول نے اپنے آپ کو ان کی بے مثال تعلیم و نرالی تربیت کے لیے وقف فرما دیا اور حضرت یحییٰ ثانی رحمہ اللہ نے جو اور جتنا ان سے جذب کیا، سیکھا، دیکھا، سمجھا اس کی ترویج و تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لیے اپنے آپ کو وقف فرما دیا اور اسی میں زندگی گھلا دی۔ چنانچہ بنیادی طور پر تین شعبوں کو اپنے مجاہدات کا مرکز بنایا: ۱۔ تعلیم، ۲۔ تزکیہ، ۳۔ نشر و اشاعت۔ اور تینوں دینی شعبوں کو رواجی تکلفات سے بالکل ہٹ کر انتہائی سادگی سے پروان چڑھایا۔
۱۔ شعبۂ تعلیم:
تعلیم کے لیے معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد اپنے گھر میں دو طلباء سے رکھی۔ چنانچہ یہ مدرسہ مدارس کی دنیا میں اپنے دور کا نایاب، اور نام، کام و صفات کے اعتبار سے بھی تمام مدارس میں نمایاں اور ممتاز مقام کا حامل بنا۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ کا مققولہ بڑے ذوق سے سنایا کرتے کہ ’’یہ مدرسہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، ہم تو اس کے خادم ہیں‘‘۔ اور حقیقتاً یہ اپنے ہی دل کی ترجمانی تھی کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے تاحیات نہ صرف اپنے آپ کو مدرسہ کا خادم سمجھا بلکہ خدمتِ مدرسہ میں سب کچھ قربان کیا۔ تعلیم و تربیت میں ایسے جذبات اور ایسی نظر و تاثیر رکھتے تھے کہ حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری مہاجر مدنی رحمہ اللہ اور حضرت بنوری رحمہ اللہ جیسے بڑے بڑے اکابر علماء نے اپنے بیٹوں کو تعلیم و تربیت کے لیے آپ کے حوالہ کیا۔
دل میں ایک درد اٹھتا تھا کہ ایک تو مدرسہ ایسا ہو کہ زندگیوں میں اسلام چلتا پھرتا نظر آئے، نظر پڑے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں، پہلی صف کے پابند، علم و ذکر کا جوڑ رکھنے والے، علم کا کٹھلہ طلباء ہوں۔ امام محمد رحمہ اللہ کا مقولہ اکثر سنایا کرتے کہ راتوں کو جاگ جاگ کر مطالعہ کرتے اور فرماتے لوگ اس لیے پُرسکون سو رہے ہیں کہ کوئی مسئلہ پیش آیا تو محمد سے پوچھ لیں گے۔ اور دلی جذبہ تھا کہ تمام طلباء ممتاز ہوں، ۱۰۰ میں سے ۹۹ کیوں؟ پورے ۱۰۰ نمبر کیوں نہیں؟ آج سے کم و بیش پندرہ سال پہلے کا واقعہ حضرت کے داماد اور مجازِ بیعت حضرت مفتی محمد سلمان یاسین خلیلی صاحب زید مجدہم نے سنایا کہ حضرت شیخ کا بائی پاس (دل کا آپریشن) ہوا تھا، ساری رات کی بے ہوشی کے بعد جب ہوش آیا تو میں حافظ شاہد صاحب کے ساتھ ہسپتال میں ہی تھا۔ جب میں اندر زیارت کے لیے گیا تو حضرت نے پوچھا کہ مدرسہ کتنے بجے شروع ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: کہ آٹھ بجے۔ فرمایا: اب کیا وقت ہے؟ میں نے عرض کیا کہ پونے آٹھ بجے ہیں۔ تو فرمایا: پھر تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اللہ اکبر! اس حال میں بھی فکر ہے تو مدرسہ کی اور وقت کی پابندی کی۔ تقویٰ تو نام ہی اسی کا ہے اور اکابر کی شان ہی یہی تھی، جس سے ان کے کام میں، تعلیم و تربیت میں برکتیں تھیں۔ بگڑی ہوئی زندگیاں ان کے ہاتھ آنے کے بعد سنور جاتیں۔
اساتذہ کے لیے خصوصاً دعا فرماتے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہمارے جذبات کا اور احساس کا ادراک عطا فرما کر ہمارا معاون بنائے اور اساتذہ و طلباء میں سے جو محنت و مقصد کا دھنی ہوتا وہی حضرت کا چہیتا ہوتا۔ ایک مرتبہ دسترخوان پر مولانا وسیم احمد خلیلی مدظلہ استاذ معہد کے منہ میں اپنے ہاتھ سے لقمہ ڈالتے بندہ نے دیکھا اور بعضوں کی تعریف کرتے سنا۔
چونکہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنے مقبول بندوں کی مراد اور خواہش و رغبت کو پورا فرماتے ہیں:
تو چنان خواہی خدا خواهد چنین می دهد یزداں مرادِ متقیں
حضرت شیخ رحمہ اللہ کی تڑپ بھی رنگ لائی اور جامعہ معہد الخلیل الاسلامی ایک مستند ادارہ اور معتمد نام و کام اس کی پہچان بن گئے۔ ایک بڑے مدرسہ میں معہد کے طالب علم جب داخلہ لینے کے لیے گئے اور امتحان پاس کر کے جب جائزہ لیا جانے لگا تو پوچھا گیا کہ آپ نے کہاں پڑھا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: معہد الخلیل الاسلامی میں، تو کہا: بس آپ کے جائزہ کی ضرورت نہیں۔ ایک مرتبہ حضرت رحمہ اللہ نے بڑے درد اور پُروثوق لہجے سے فرمایا کہ ’’بہت دیکھ لیا، اور کسی چیز سے نہیں، مدرسہ تو اندر کے اسٹیم سے چلتا ہے‘‘۔ اسی وجہ سے مالداروں کے بجائے اہلِ علم و اہلِ قلوب کی معہد آمد پر بہت مسرت پاتے اور ترقی کا ذریعہ سمجھتے۔ بسا اوقات دعا میں صورت سے زیادہ سیرت اور ظاہر سے زیادہ باطن میں مدرسہ کی ترقی مانگتے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ اہلِ دنیا و دولت سے جس قدر سیر و مستغنی تھے اس سے زیادہ اہل اللہ کے پیاسے تھے۔
ایک مرتبہ آخری جمعرات کے اجتماع کے موقع پر ایک بزرگ تشریف لائے۔ انہوں نے بیان فرمایا تو کھانے کے دسترخوان پر حضرت شیخ رحمہ اللہ نے مدرسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بہت ہی لجاجت اور فقیرانہ لہجہ میں فرمایا کہ ’’حضرت ذرا توجہ فرما دیں، آپ صاحبِ نسبت ہیں‘‘۔ پھر مکرراً عرض کیا جس کا ان بزرگ پر یہ اثر ہوا کہ چونک گئے اور بندہ نے دیکھا کہ آنکھیں چمک اٹھیں اور زیرِ لب مسکرا دیے، ایسا لگا کہ دو روشنیوں کا انعکاس ہوا ہو۔
صبح حاضری میں ایک دو منٹ کی تاخیر کو طلباء معمولی سمجھتے جبکہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کا اصول یہ تھا کہ دس منٹ پہلے کیوں نہیں؟ دو منٹ تاخیر کیوں؟ حقیقت یہ ہے کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے مدرسہ کو دیا تو بہت کچھ، بلکہ سب کچھ دیا اور اگر مدرسہ سے لیا تو صرف اللہ تعالیٰ کو لیا ہے۔ ایک مرتبہ فرمایا: ’’اللہ کا شکر ہے، مدرسہ سے کبھی ایک پیسہ نہیں لیا‘‘۔ اور یہی شان حضرت یحییٰ اول رحمہ اللہ کی تھی کہ سالہا سال مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور میں تدریس للہ فی اللہ فرماتے رہے اور ایسے افراد بھی تیار فرمائے۔
۲۔ شعبۂ تزکیۂ نفوس:
دوسری چیز جو حضرت شیخ رحمہ اللہ کی محنت و توجہ کا مرکز بنی وہ تزکیۂ نفوس تھی، جس کے لیے معہد الخلیل کے ساتھ خانقاہِ خلیلیہ امدادیہ قائم فرمائی، لیکن دونوں کو ایسے رکھا جیسے مکھن اور گھی۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے سوزِ دروں اور شانِ تربیت کا مظہر ہے کہ مدرسہ و خانقاہ کا ایسا حسین امتزاج پیدا فرمایا کہ علم و ذکر معہد الخلیل الاسلامی کا نمایاں وصف بن گیا۔ دونوں لائنیں ایک دوسرے کے لیے معاون و مقوِّی بن گئیں اور اہلِ نسبت میں سے حضرت الحاج قاری فتح محمد پانی پتی مہاجر مدنی رحمہ اللہ کے خلیفۂ مجاز حضرت الحاج نثار احمد خان فتحی زید مجدھم نے دعائیہ جملوں میں اس کی ترجمانی اس طرح فرمائی ہے:
تشنگانِ معرفت سیراب ہوں علم کی بہتی رہے یہ سلسبیل
ذکرِ اسمِ ذات کی آواز سے تا ابد گونجا کرے معہدؔ الخلیل
یہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کی قناعت و جامعیت کی نرالی شان تھی کہ آئے دن عمارت کے توڑ پھوڑ سے حتی الامکان آخرحیات تک بچتے ہوئے میسر جگہ و عمارت سے زیادہ سے زیادہ کام لیا۔ چھوٹی سی جگہ کی بھی کسی نہ کسی کام میں تشکیل کر دی۔ نمازوں کے اوقات میں مسجد کا رنگ، تعلیم کے اوقات میں مدرسہ کا رنگ اور ذکر و شغل کے وقت میں خانقاہ کا رنگ نمایاں ہو جاتا۔ رسمی و رواجی طور پر نہ امام و مؤذن مقرر، نہ مدرسہ و خانقاہ کے بورڈ و نام نمایاں، نہ مسجد کا نام مقرر، لیکن شانِ تربیت یہ کہ سارے کام پورے نظم کے ساتھ بروقت ایسے ہو رہے ہیں جیسا کہ کوئی آٹومیٹک مشین چل رہی ہو۔ حیرت ہوتی ہے کہ جب بندہ اللہ کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے کاموں کی کیسی کفایت فرماتے ہیں۔
ان تمام متنوع اور تھکا دینے والی ذمہ داریوں کے باوجود ملنے اور دیکھنے والے کو حضرت شیخ رحمہ اللہ ایسے ہلکے پھلکے معلوم ہوتے گویا کوئی کام اور ذمہ داری ہے ہی نہیں۔ دار العلوم دیوبند کے مہتمم شاہ رفیع الدین رحمہ اللہ دارالعلوم کے سالانہ جلسے کے موقع پر باطمینان چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ کسی خادم نے عرض کیا کہ حضرت! سالانہ جلسہ ہے، دور دراز سے بڑے بڑے علماء تشریف لا رہے ہیں اور حضرت ایسے باطمینان بیٹھے ہیں؟ تو حضرت نے فرمایا: ’’اگر ہفت اقلیم کی بادشاہت ہوتی تو بھی اسی طرح اطمینان سے ہوتی‘‘۔ یہی شان حضرت مولانا مدنی رحمہ اللہ کی دیکھی۔ درحقیقت اہل اللہ مقامِ مشاہدہ پر فائز اصحابِ تمکین ہوتے ہیں اور گویا:
توحید خدا یک دیدن نہ یک گفتن
کے حامل ہوتے ہیں اور ان کا یہی حال و قال ہوتا ہے:
کارسازِ ما بفکر کارِ ما فکر ما در کارِ ما آزارِ ما
چنانچہ ایک مرتبہ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے انتہائی درد کے ساتھ فرمایا کہ ’’افسوس! دین سے ہونے کو سمجھنے والے نہ رہے، کہنے والے تو بہت ہیں، سمجھنے والے کم ہیں‘‘۔ اور یہی چیز حال و قال اور قول و عمل میں خلیج بن جاتی ہے۔ حضرت رحمہ اللہ اس خلیج کو پاٹنے کا جذبہ رکھتے تھے اور اس کا ذریعہ علم و ذکر کے جوڑ کو سمجھتے تھے اور یہی فضا و ماحول معہد الخلیل کے درو دیوار سے روشن فرما رکھا تھا، جو ہر آنے والے کو بے خود کر کے سنجیدہ بنا دیتا۔ ایک مرتبہ حضرت اقدس مولانا عبدالمجید لدھیانوی زید مجدھم تشریف لائے تو فرمایا کہ ’’میں سمجھا کہ چند طلباء ہوں گے جن میں بات کرنی ہے، لیکن یہاں آکر دیکھا کہ یہاں تو بہت سارے بزرگ بیٹھے ہیں جن سے میں بھی گھبرا گیا‘‘۔ کسی نے دار العلوم دیوبند حاضری دی تو بے ساختہ کہا:
در مدرسہ خانقاہ دیدم
جبکہ بندہ معہد الخلیل حاضری کے بعد بے ساختہ اضافہ کے ساتھ کہنے پر مجبور ہے:
در مدرسہ مسجد و خانقاہ دیدم
۳۔ شعبۂ نشر و اشاعت:
تیسری بنیاد جو آپ نے امت کی اصلاح و تربیت کے لیے رکھی وہ مکتبۃ الشیخ اور سلوک و احسان کا سلسلہ ہے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ سلوک و احسان کے مبارک فن کا مأخذ، اہمیت و ضرورت اور سلفاً و خلفاً اور زمانہ بعید و قریب کے اکابر اہل اللہ کی مساعی اور مشائخ حقہ کی خانقاہوں کے احوال اور اصلاحی سلسلوں کی تفاصیل پیش کی جائیں، تاکہ اللہ کے بندے ان سے خوب استفادہ کریں۔ چنانچہ حضرت رحمہ اللہ کے اس قلبی جذبہ کی تکمیل کے لیے مکتبۃ الشیخ اور بالخصوص ماہنامہ ’’سلوک و احسان‘‘ مصروفِ عمل ہیں، جو نامعلوم کتنے دلوں کی سیرابی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
سانحۂ ارتحال:
ربیع الاول کا چاند رخصت ہو گیا تھا۔ ۱۱ فروری بروز پیر حسبِ معمول خانقاہ میں حاضری دی اور حضرت رحمہ اللہ کی زیارت کے لیے گھر گیا۔ سلام عرض کیا، حضرت رحمہ اللہ نے مسکرا کر دیکھا، کیا معلوم تھا کہ اس عالمِ فانی میں یہ حضرت رحمہ اللہ کی آخری دل نواز مسکراہٹ ہے۔
چنانچہ ۳ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ بمطابق ۱۴ فروری ۲۰۱۳ء جمعرات کا دن کبھی نہیں بھولے گا، کہ پہلی مرتبہ حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کو پُرسکون، آرام سے گہری نیند میں لیٹا ہوا دیکھا۔ اللہ تعالیٰ ابدی سرمدی روح و ریحان نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت ہی قبولیت اور حسنِ قبول سے نوازا تھا۔ علماء، مفتیان، مدرسین، مہتممینِ مدارس سمیت نامعلوم کتنے خواص و عوام کو سلوک و احسان کی منازل طے کروائیں اور بعضوں کو مجازِ بیعت فرمایا۔ بڑے بڑے باقیاتِ صالحات، مدارس، مساجد، مکاتب، خانقاہوں سمیت جسمانی و روحانی آل و اولاد اور سالکین مجازین کی صورت میں چھوڑ گئے۔ اب ان کی ایک ایک یاد آٹھ آٹھ آنسو رلاتی ہے:
تڑپائے گی دنیا میں رہ رہ کر تیری یاد جلوے تیرے با دیدۂ تر یاد رہیں گے
بھولے ہیں نہ بھولेंगे نفیس اہلِ محبت کچھ اہلِ دل و اہلِ نظر یاد رہیں گے
اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حریمِ قدس اور جوارِ رحمت میں اپنے مقربین بندوں میں شامل فرما کر، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت و رفاقت سے نوازے اور محض اپنے فضل و احسان سے ہمیں بھی ان کے ساتھ ملحق فرما دے۔
شنیدم کہ در روزِ امید و بیم بداں را بہ نیکاں بہ بخشد کریم