قصیدہ بیاد محبوب المشائخ حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ
چال سے تقویٰ جھلکتا باتیں ریشم سی نرم لگتا ہے کہ چھٹ گیا ہم سے وہ سایہ ایک دم
ہے یہ ناممکن دلوں سے درد ہو جائے یہ کم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم
کیسی ہمت سے تناور کر دیا تھا مدرسہ فیض حاصل کر رہے تھے سب یہاں سے شیخ کا
ہیں سبھی استاذ کی طلباء کی آنکھیں آج نم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم
روشنی کا منبع تھے اخلاص کا پیکر تھے شیخ پھوٹتا چشمہ جہاں سے علم کا وہ دَر تھے شیخ
اب ہوئے ہیں کس قدر محروم اور مغموم ہم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم
اِک شفیق انسان کے جیسی تھی مولانا کی ذات باپ کی طرح سمجھتی تھیں جنہیں سب طالبات
زندگی کے موڑ پر ہوگی کمی اب ہر قدم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم
ہو رہا محسوس ہم نے قیمتی کچھ کھو دیا آنکھیں پُر نم جب ہوئیں تو آسماں بھی رو دیا
لکھ نہ پایا شان میں کچھ آپ کی میرا قلم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم
زندگی بھی کامیاب اور آخرت میں راضی رب شیخ کے حق میں دعائیں مل کے کرتے ہیں یہ سب
حد نگاہ تک نور برسے ، برسے اللہ کا کرم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم
شیخ کی اُلفت میں سب شمع کے پروانے ہوئے خادم و استاذ و طلباء سب ہی دیوانے ہوئے
پیار سے سکھلا گئے ہیں زندگی کے پیچ و خم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم
کس قدر انمول ہیرا تھا ہمارا شیخ بھی تا قیامت اب نہ پوری ہو سکے گی یہ کمی
پیارے مولانا زکریا کے چلے راہِ عدم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم
چال سے تقویٰ جھلکتا، باتیں ریشم سی نرم لگتا ہے کہ چھٹ گیا ہم سے وہ سایہ اِک دم
ہے یہ ناممکن دلوں سے درد ہو جائے یہ کم کیسے بھولیں شیخ یحییٰ مدنی کی فرقت کا غم