پیکرِ شفقت و محبت
بریگیڈئیر ڈاکٹر قاری فیوض الرحمن صاحب
جہاں تک یاد پڑتا ہے راقم الحروف کی مولانا سے پہلی ملاقات حرمِ نبوی میں ہوئی۔ اس وقت آپ الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ میں زیرِ تعلیم تھے، پھر وہاں بکثرت ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ حضرت کا سوانحی تذکرہ بھی ان سے وہیں لیا تھا۔ پھر واپسی پر انہوں نے معہد الخلیل کے نام سے دینی مدرسہ قائم کیا، جس میں حفظ و تجوید، درسِ نظامی اور افتاء کے کورس ہو رہے ہیں۔ اس ادارہ میں ایک عرصۂ دراز تک انہوں نے نہایت اخلاص کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیں اور مدرسہ کی مسجد میں امامت و خطابت اور وعظ و نصیحت اور مجالسِ ذکر کا اہتمام رہا اور ایک دنیا آپ سے مستفید ہوئی۔ مولانا کی یہ بڑی ہی خوش نصیبی تھی کہ انہیں تقریباً دس سال حرمِ نبوی اور مدینہ منورہ کی روح پرور فضاؤں میں قیام اور عالمِ اسلام کی کئی شخصیتوں سے استفادہ کا موقع ملتا رہا۔ اور انہی اسلاف و اکابر میں حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ کے حوالے سے میرے پیر بھائی اور شیخ حضرت شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ سے بیعت کی اور پھر سلوک کی تکمیل پر حضرت سے خلافت بھی ملی۔ حضرت مولانا نے تدریسی خدمات اور دیگر مشاغل کے ساتھ روحانی سلسلہ بھی جاری رکھا اور سینکڑوں حضرات نے آپ سے بیعت ہو کر اصلاحِ نفس پر توجہ دی اور کئی ایک حضرات علماء اور دیگر نے ان سے خلافت حاصل کی۔
مجھے گاہے گاہے ان کی دینی و علمی خدمات کا ان کے بعض معاصرین سے پتہ چلتا رہتا تھا، مگر آرمی سروس کے دوران کبھی ملاقات کا موقع نہ مل سکا، ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ء کے سفرِ حج میں ان کی رفاقت ملی۔ ۲۰۱۲ء کے سفرِ حج میں ایک ہی حج گروپ اور فلائٹ سے روانگی ہوئی۔ کراچی ائیرپورٹ کے لاؤنج میں مغرب کی نماز پڑھانے کی سعادت راقم کو ملی۔ فراغت کے بعد مدینہ منورہ کے ائیرپورٹ سے ہوٹل انوار مدینہ مووِن پک میں دوبارہ ملاقات ہوئی اور اس سے پہلے مدینہ ائیرپورٹ سے ہوٹل تک ہم ایک ہی کوسٹر میں سفر کر رہے تھے۔ آپ نے ڈرائیور سے عربی میں بات چیت شروع کر دی اور پھر ڈرائیور کو غالباً دس بیس ریال ہدیۃً بھی پیش کیے۔
ہوٹل کے کمروں میں جانے کے لیے چابیاں دی جا رہی تھیں تو میں نے مولانا کو سلام کیا، مزاج پُرسی کے بعد پوچھا آپ کا تعارف؟ تو فرمایا: ’’یحییٰ‘‘۔ میں نے عرض کیا: مولانا یحییٰ مدنی؟ تو ہاں میں جواب دیا۔ عرض کیا کہ حضرت معاف کیجیے گا کہ میں آپ کو بالکل پہچان نہیں سکا۔ آپ کی تو بہت ہی اچھی صحت ہوتی تھی، کیا ہوا کہ ویل چیئر پر آ گئے اور اتنے کمزور ہو گئے؟ فرمایا کہ ’’ہاں کچھ عوارض ہیں، مگر میں نے جب کراچی ائیرپورٹ پر آپ کے پیچھے نماز پڑھی، میں نے آپ کو پہچان لیا تھا‘‘۔ پھر اس مبارک سفر میں حرمین شریفین میں ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ہوٹل میں آتے جاتے بھی بار بار بڑے پیار سے ملتے رہے۔ بیماری کے عذر کے باوجود مولانا بڑے شوق کے ساتھ حرمِ نبوی میں حاضری دیتے تھے۔ کبھی آپ کے بعض ساتھی جو خدمت کے لیے ساتھ تھے اگر وہ کہیں حرم میں آتے ہوئے آگے پیچھے ہو جاتے اور ان کی حرمِ نبوی میں مجھ پر نظر پڑتی تو مجھ سے پوچھتے کہ مولانا ادھر سے گزرے ہیں؟ تو میں کہہ دیتا کہ آگے روضۂ پاک کی طرف جاتے ہوئے میں نے انہیں دیکھا ہے۔ وہ ان کی تلاش میں آگے بڑھ جاتے۔ موقع بموقع تبادلۂ خیالات کا بھی موقع مل جاتا۔
۲۰۱۳ء کا جو ان کی زندگی کا آخری حج تھا اس میں بھی راقم ان کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ سے کمرہ کا نمبر پوچھا کہ میں حاضرِ خدمت ہونا چاہتا ہوں اور مناسب وقت بھی بتا دیجیے تو انہوں نے بخوشی بتا دیا اور میں ٹیلیفون کر کے حاضرِ خدمت ہو گیا۔ بڑے ہی تپاک سے ملے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت! میں روحانی سلسلہ میں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں۔ اس بات پر ان پہ رقت طاری ہو گئی اور پھر روتے رہے، میری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ فرمایا: ’’کہاں اس قابل ہوں کہ آپ میرے پاس آئے ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ آپ حضرت شیخ کے خلیفہ ہیں، مراقبہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ فرمایا: ’’آپ تنہائی میں کچھ ذکر کر لیا کریں اور بیعت کیا کریں‘‘ اور اس پر بہت زور دیا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ’’مراقبہ کے بارے میں بالکل فکر مند نہ ہوں، بلکہ دوسروں کی اصلاح کی فکر ہونی چاہیے‘‘۔ غالباً مجلسِ ذکر کے سوال کے جواب میں عرض کیا کہ جامع مسجد الفرقان ملیر کینٹ جہاں آپ کے شاگرد مولوی محمد عظیم صاحب رہتے ہیں ہفتہ میں دو مرتبہ جمعرات اور ہفتہ مغرب کی نماز کے بعد مجلسِ ذکر ہوتی ہے۔ اس پر خوشی کا اظہار فرمایا۔ یہ بھی عرض کیا کہ اس میں آپ کی تشریف آوری سے ہمیں بڑی خوشی ہوگی۔ فرمایا: ’’میں ضرور آؤں گا، آپ بھی مولوی محمد عظیم کے ذریعے مجھے اطلاع کیجیے گا‘‘۔
واپسی پر مولوی محمد عظیم صاحب سے بات ہوتی رہی کہ حضرت کی آسانی کے پیشِ نظر حضرت سے وقت لے کر بتائیں۔ پوچھنے پر مولوی محمد عظیم صاحب بتاتے رہے کہ آج کل طبیعت ناساز ہے، بہتری پر بات کر لیں گے، اور میں انتظار کرتا رہا، مگر ایسے میں وہ وہاں چلے گئے جہاں ہم سب کو جانا ہے اور پھر کبھی واپس نہیں آنا، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، لِلَّهِ مَا أَخَذَ۔
حضرت کے وصال کے بعد مولوی محمد عظیم صاحب بھی مجھے حضرت کے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے کہتے رہے۔ دو تین ہفتے پہلے حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کے فرزند اور خلیفہ مولانا محمد یوسف مدنی صاحب محمد عظیم صاحب کے ہاں تشریف لائے، جمعہ کی نماز ہمارے ہاں پڑھی اور پھر مولوی محمد عظیم صاحب کے ہاں کھانے پہ حضرت رحمہ اللہ کی زندگی پر گفتگو ہوتی رہی، انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ اپنے قلم سے میں کچھ لکھ کر دے دوں۔ ان دونوں کے ارشاد پر یہ چند سطریں اپنی یادداشت کے مطابق لکھ دی ہیں۔
مولانا مدنی رحمہ اللہ اب وہاں ہیں جہاں صدقاتِ جاریہ اور دعاؤں کے علاوہ اور کوئی چیز پہنچ نہیں سکتی۔ میں بھی، ان کے احباب، تلامذہ، اولاد اور متعلقین کی طرح ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔ ان کے قائم کردہ اداروں، مسجد اور ان کی عالم و صالح آل و اولاد کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ ہمیں اپنے اسلافِ کرام کی طرح فکرِ آخرت نصیب فرمائے۔ پورے اسلام پر پوری طرح عمل کی توفیق بخشے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت کو حسنِ خاتمہ کی دولت سے نوازے۔ آمین، وآخر دعوانا أن الحمد للّه رب العالمين۔