نابغۂ روزگار شخصیت
محترم جناب شیخ عبدالسلام چاولہ صاحب
حضرت اقدس سیدی و مرشدی حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ میرا حضرت سے تعلق ۱۹۸۰ء سے ہے۔ تب میں حضرت رحمہ اللہ کا پڑوسی تھا۔ اس وقت ہم ’’رحمتِ عالم‘‘ مسجد میں اکٹھے نماز پڑھنے جایا کرتے تھے۔ ۱۹۸۲ء میں حضرت نے اپنے گھر کے ایک کمرے سے معہد الخلیل کا آغاز کیا۔ صاحبزادہ مولانا زکریا، میرا بیٹا سلیمان اور بھتیجا نوید سلطان اس مدرسے کے ابتدائی طلبہ میں سے تھے۔ حضرت نے میرے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا۔ میرے چھوٹے بیٹے نے قرآن مجید حضرت کے زیرِ شفقت حفظ کیا ہے۔
ویسے تو حضرت کی زندگی کا ہر پہلو ہی قابلِ رشک اور لائقِ تقلید ہے، البتہ اپنے پینتیس سالہ رفاقت میں میں نے حضرت رحمہ اللہ کی شخصیت میں چند صفات کا خاص طور پر مشاہدہ کیا ہے۔ حضرت کے ہاں نمازِ باجماعت کی بہت زیادہ تاکید تھی۔ کئی بار میں نے حضرت رحمہ اللہ کی صحبت میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا ہے، آخری (انتیسویں) شب میں اہم ترین نصیحت یہ ہوا کرتی تھی کہ نمازِ باجماعت نہ چھوٹنے پائے۔ بکثرت فرمایا کرتے تھے کہ عشاء کی نماز اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے سے حدیث کی رو سے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے، لہٰذا ان دونوں نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حد درجہ اہتمام کرو۔ تہجد کی ترغیب میں بھی اکثر اس حدیث کو بیان کرتے۔
چند سال قبل کی بات ہے کہ حج میں میں حضرت کے ہمراہ تھا۔ حضرت کی صاحبزادی اور داماد بھی ساتھ تھے۔ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ میں حضرت رحمہ اللہ تو بروقت پہنچ گئے، ہمیں تو نمازِ مغرب اپنے وقت میں مل گئی، تاہم حضرت کی صاحبزادی جو کہ دوسری بس میں تھیں وہ تاخیر سے پہنچیں۔ آکر جب انہوں نے بتایا کہ ہماری مغرب کی نماز رہ گئی تو حضرت رحمہ اللہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا، افسوس میں ڈوبے لہجے میں بار بار إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھتے رہے، مجھ سے غصہ اور افسوس کی وجہ سے کچھ اور کہہ ہی نہیں سکے۔
حضرت اُجلی اور صاف ستھری شخصیت کے مالک تھے۔ معاملات کی صفائی کی بڑی سختی سے تاکید فرماتے تھے۔ لین دین میں گول مول بات کرنے اور ہیر پھیر سے وہ کوسوں دور تھے۔ ہر طرح کی بناوٹ ان کے یہاں قابلِ نفرت تھی۔ طرزِ زندگی سادہ تھا۔ سنتوں کا بڑا اہتمام تھا۔ ایامِ حج میں ایک بار دورانِ سفر عصر کو آخری وقت میں اور مغرب کو اول وقت میں باجماعت ادا کر کے فرمانے لگے: ’’الحمدللہ آج جمع بین الصلوٰتین والی سنت پر بھی عمل کی توفیق مل گئی‘‘۔
کہते ہیں کہ ساتھ رہنے والے کا حقیقی چہرہ سفر میں سامنے آتا ہے۔ میں نے اسفارِ حج سمیت مختلف نوعیتوں کے درجنوں سفر حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ کیے ہیں۔ الحمدللہ جیسا انہیں حضر میں پایا ویسا ہی انہیں سفر میں پایا۔ ایک طویل عرصہ میں نے حضرت رحمہ اللہ کے پڑوس میں گزارا ہے، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی ایک پڑوسی کی حیثیت سے مجھے کسی طرح کی ناگواری کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ تیس سے زائد حج و عمرہ میں نے حضرت رحمہ اللہ کی معیت میں کیے ہیں۔ حرمین شریفین کے قیام میں ہر لایعنی سے بچنے کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ وقت کی بہت قدر فرماتے، ذکر و تلاوت، مراقبہ، نوافل، دعاؤں اور بیانات سے اپنے اوقات کو آباد رکھتے۔ تادمِ واپسی خود بھی معمولات پر کاربند رہے اور نیازمندوں کو بھی اس کی تاکید کرتے رہے۔ رات کو آرام کا موقع خواہ کتنی ہی دیر سے کیوں نہ ملتا صبح فجر کی نماز میں پہلی صف میں ہی دکھائی دینیتے۔ ذکر کی بارہا تلقین فرماتے۔ ذکر کے لیے وقت کی نایابی کا میں نے ایک بار عذر پیش کیا تو بڑی نرمی سے فرمایا کہ چلیں ایک تسبیح ہی کر لیا کریں۔
حضرت کی مجھ پر خاص عنایت تھی۔ بڑی محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ اللہ نے انہیں ایک مومنانہ شان اور رعب عطا فرمایا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ بسا اوقات مجھ میں ان کے سامنے بولنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی۔ مختلف معاملات میں ہماری باہمی مشاورت بکثرت ہوا کرتی تھی۔ حضرت کے مشورے پر عمل کو میں اپنے لیے سعادت سمجھتا تھا۔ حضرت کی شفقت اور ذرہ نوازی تھی کہ نجی امور سمیت دیگر معاملات میں بسا اوقات حقیر رائے کو حتمی رائے قرار دیتے۔
آخر میں دو باتیں ایسی ذکر کی جاتی ہیں جو میرے اور حضرت رحمہ اللہ کے مابین راز تھیں۔ اب چونکہ حضرت اس عالمِ آب و گل کی سرحد عبور کر چکے ہیں اس لیے ان باتوں کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں۔ تین سال پہلے کی بات ہے، میں حضرت کے ساتھ سفرِ حج پر تھا، مدینہ منورہ میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے، روانگی سے ایک دو دن قبل حضرت رحمہ اللہ کو خواب میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی زیارت ہوئی۔ بیدار ہوئے تو مجھ سے فرمانے لگے: ’’خواب میں مجھے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی زیارت ہوئی ہے، مجھے لگ رہا ہے کہ میرا وقت آن پہنچا ہے، میں تو چاہتا ہوں کہ قیامِ مدینہ کی میری مدت کسی طرح بڑھا دی جائے‘‘۔ اس وقت حضرت رحمہ اللہ پر مدینہ منورہ میں خاک پوش ہونے کی فرحت اور اپنے رب کی ملاقات کا والہانہ حال طاری تھا۔ ہم سے ملتے تو آبدیدہ ہو جاتے۔ گروپ سربراہ نے قیامِ مدینہ کی مدت بڑھانے کی بہت کوشش کی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ حضرت نے مجھ سے فرمایا کہ ’’اس خواب کا کسی کے سامنے تذکرہ نہ کیا جائے‘‘۔
۱۴۲۷ھ کے حج میں عرفات میں ذکر کی اہمیت پر بیان فرمایا، مجلس برخاست ہوئی تو مجھے ایک خط تھمایا اور فرمایا کہ اسے بعد میں کھول لیجیے گا۔ پُر تجسس نگاہوں کے ساتھ میں نے خط لے لیا، بعد میں تنہائی کے اندر اسے کھولا تو حیرت زدہ رہ گیا، ندامت سے پیشانی عرق آلود ہو گئی، رہ رہ کر میری نالائقی کا احساس ستانے لگا۔ یہ خط آپ کی طرف سے اجازت نامہ تھا۔
اللہ ہمارے حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے، اعلیٰ علیین میں ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔