!میرے محسن… میرے مربی
حضرت مولانا سہیل الرحمن صاحب
امام دارمی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے:
إِنَّمَا الْفَقِيهُ: الزَّاهِدُ فِي الدُّنْيَا، الرَّاغِبُ فِي الْآخِرَةِ، الْبَصِيرُ بِأَمْرِ دِينِهِ، الْمُدَاوِمُ عَلَى عِبَادَةِ رَبِّهِ۔ وَفِي الرِّوَايَةِ: إِنَّمَا الْفَقِيهُ مَنْ انْفَتَحَتْ عَيْنَا قَلْبِهِ فَنَظَرَ إِلَى رَبِّهِ۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حقیقی فقیہ وہ ہوتا ہے جو دنیا سے بے رغبت ہو، آخرت کی طرف رغبت کرنے والا ہو، دینی معاملات کو دل کی آنکھ سے دیکھنے والا ہو، (اور) رب کی عبادت پر مداومت اور ہمیشگی کرنے والا ہو۔ اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ بے شک فقیہ وہ ہوتا ہے جس کی دل کی آنکھیں کھلی ہوں اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہا ہو، یعنی ہر وقت اس کے پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، اس کو احسان کا درجہ حاصل ہو۔
ان تمام باتوں کا مصداق حضرت اقدس نور اللہ مرقدہٗ و اعلیٰ اللہ مراتبہٗ تھے۔ احکامِ شریعت کے بھی عالم تھے اور اسرارِ طریقت اپنے شیخ یعنی حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب سہارنپوری ثم المہاجر مدنی رحمہ اللہ کی طویل صحبت میں رہ کر سیکھ چکے تھے۔
حضرت مولانا رحمہ اللہ کو احسان کا درجہ حاصل تھا۔ خود کئی مجالس میں تحدیث بالنعمۃ اور مریدین اور سالکین کی تربیت اور اصلاح کے لیے یہ واقعہ سنا چکے تھے کہ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے اپنے شیخ رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ ’’حضرت! جب آپ کی صحبت میں ہوتا ہوں تو اٹھتے بیٹھتے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں اور میری نگرانی کر رہے ہیں‘‘، تو حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے تواضعاً ہنس کر فرمایا کہ ’’ہمیں تو یہ مرتبہ حاصل نہیں‘‘۔ پھر حضرت مولانا نے وضاحت کے طور پر فرمایا کہ جب کسی مرید کو اپنے شیخ سے سچی محبت اور عقیدت ہوتی ہے تو اس کی صحبت کی برکت سے درجۂ احسان سالک اور مرید کو حاصل ہو جاتا ہے۔
ہمارے حضرت مولانا رحمہ اللہ کے اندر یہ صفات موجود تھیں۔ دنیا سے بے رغبت تھے، آخرت کی طرف رغبت کرنے والے تھے۔ عبادات پر مداومت کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق والے تھے، متبعِ سنت تھے۔ اگر حضرت چاہتے تو دنیا قدموں پر ڈھیر ہو جاتی، لیکن حضرت نے اپنے آپ کو دنیا اور دنیا والوں سے بالکل یکسو کر لیا تھا، درس و تدریس اور مریدین و سالکین کی تربیت اور اصلاح میں مشغول ہو گئے تھے۔ اپنے آپ کو مدرسہ اور خانقاہ تک محدود کر لیا تھا اور جب سے حضرت نے مدرسہ معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کی بنیاد رکھی اس وقت سے حضرت رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ہمارے مدرسہ میں پڑھنے پڑھانے والوں کے لیے مدرسہ کی بنیاد رکھنے کے دو ہی مقصد ہیں:
۱۔ رسوخ فی العلم: یعنی علم میں پختگی، جو شخص بھی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہو کر نکلے اس کا علم راسخ اور پختہ ہو۔
۲۔ تعلق مع اللہ: اللہ تعالیٰ سے طلبۂ علم اور اساتذہ کا تعلق مضبوط ہو، وہ خوب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہوں، جس کے لیے حضرت نے تعلیم کے دوران ذکر کی مجلس قائم فرمائی۔ تعلیم میں تھوڑا وقفہ کر کے بیس منٹ تک طلبہ و اساتذہ ذکر بالجہر اور اوراد و وظائف، اذکارِ مسنونہ میں مشغول رہیں، جس کی وجہ سے سب کا تعلق مضبوط ہو، تمام ہی حضرات متبعِ سنت ہوں۔
حضرت رحمہ اللہ اپنے شیخ رحمہ اللہ کا یہ ملفوظ سنایا کرتے تھے کہ ’’میری طبیعت چاہتی ہے کہ تمام مدارس میں ہر مدرسہ کے ساتھ خانقاہ ہو، جس میں طلبہ و اساتذہ یکسو ہو کر صرف ذکر اللہ کریں‘‘۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ ’’جتنے بھی فتنے مدارس میں اندرونی اور بیرونی آتے ہیں وہ اللہ کے تعلق کی کمی کی وجہ سے آتے ہیں، جس کے ختم کرنے کے لیے ذکر کی پابندی ضروری ہے‘‘۔ اسی فکر و غم کی وجہ سے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے اکابر علماء و مشائخ کو خطوط لکھے کہ میری طبیعت یہ چاہتی ہے کہ ’’ہر مدرسہ کے ساتھ خانقاہی سلسلہ بھی رہے، جس میں طلبہ اور اساتذہ بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں‘‘۔ ان علماء میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ بانی دار العلوم کراچی و خلیفۂ مجاز حضرت اقدس حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ بانی جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی تھے۔ ان حضرات نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اپنے اپنے مدرسوں میں خانقاہی نظام شروع فرمایا، جس میں طلبہ و اساتذہ کرام مل بیٹھ کر ذکر کرتے تھے۔
کسی بھی تعلق والے کے دنیا سے جانے کے بعد اس سے تعلق اور گہرا بھی ہوتا ہے اور ان کی قدر اور بڑھ جاتی ہے۔ میرے محسن اور میرے مربی دارِ فانی سے دارِ باقی کی طرف رحلت کر گئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
حضرت رحمہ اللہ اپنی صلبی اولاد اور رشتہ داروں کو ہی نہیں بلکہ تمام روحانی اولاد کو بھی سوگوار کر گئے۔ مدرسہ کی چہار دیواری سے اداسی ٹپکتی ہے۔ جہاں جہاں حضرت رحمہ اللہ تشریف فرما ہوتے تھے اس جگہ کو دیکھ کر حضرت رحمہ اللہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ بندہ کا حضرت رحمہ اللہ سے تعلق تین رشتوں سے ہے، حضرت رحمہ اللہ میرے شیخ بھی تھے، استاذ بھی تھے اور چچا بھی۔
بندہ کا حضرت سے شاگردی کا تعلق:
بندہ جب جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو اولیٰ کے سال بندہ نے ۱۴۰۳ھ میں الطریقۃ العصریۃ اور الطریقۃ الجدیدۃ حصہ دوم پڑھی، یعنی آج سے بتیس سال پہلے۔ اس کے بعد ثانیہ میں نور الإيضاح مکمل اور قدوری کتاب البیوع پڑھی۔ حضرت والا کی عادتِ مبارکہ درس کے دوران طلبہ کی تربیت کرنے کی تھی۔ حضرت صرف سبق ہی نہیں پڑھاتے تھے بلکہ ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیا کرتے تھے۔ اکابرینِ عظام رحمهم اللہ کے واقعات سنا کر ہم طلبہ کی ذہن سازی فرماتے تھے اور اپنے شیخ کے طریقہ و طرز پر نظم و ضبط رکھنے کی عادت تھی۔
جن قواعد و ضوابط کا ذکر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے آپ بیتی میں فرمایا ہے کہ مثلاً چھوٹے طلبہ آگے صف میں بیٹھیں گے اور بڑے طلبہ پیچھے، آگے پیچھے ترتیب سے بیٹھیں گے۔ کتاب پر ٹیک نہیں لگانی، کتاب اور استاذ کی کوئی بے ادبی نہیں کرنی، کوئی طالب علم سو جاتا تو تنبیہ فرماتے، دورانِ درس طالب علموں کو آپس میں بات کرنے کی اجازت نہیں تھی، اگر کوئی کرتا تو اس پر سخت تنبیہ فرماتے، کوئی ایسا جملہ آتا جس میں شرمگاہ کا یا اس جیسا کوئی لفظ ہوتا تو اس کا ترجمہ فرماتے اور فرمایا کرتے کہ جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے یہ لفظ ادا ہوا ہے تو پھر اس کے ترجمہ کرنے میں شرم کیسی؟ لیکن کسی طالب علم کا ہنسنا تو درکنار مسکرانے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اگر کوئی طالب بے اختیار ہنس دیتا تو اس پر اچھی خاصی سرزنش فرماتے تھے۔
بندہ جب درجہ رابعہ میں پڑھتا تھا تو اس وقت طالب علمی کے زمانہ میں بیعت کی تھی۔ حضرت رحمہ اللہ کا قدیم گھر جو مدرسہ بھی تھا اور خانقاہ بھی، اس گھر کے ایک کمرے میں بندہ حضرت اقدس رحمہ اللہ سے بیعت ہوا۔ حضرت اقدس رحمہ اللہ نے بندہ کو اذکارِ مسنونہ، تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار کی ایک ایک تسبیح اور ذکر بالجہر تلقین فرمایا۔ جس وقت بندہ حضرت سے بیعت ہوا اس وقت حضرت کے چہرے پر جو رُعب تھا وہ بندہ کبھی نہیں بھولتا۔
حضرت شیخ سے حضرت رحمہ اللہ کا تعلق و الفت:
حضرت اقدس رحمہ اللہ اپنے شیخ کے عاشق تھے اور حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو بھی حضرت سے خصوصی تعلق تھا اور محبت تھی۔ اسی خصوصی تعلق کا ثمرہ تھا کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے حضرت اقدس رحمہ اللہ کا آپ بیتی میں کئی جگہ تذکرہ فرمایا۔ حضرت شیخ حضرت اقدس کو ’’بھائی یحییٰ‘‘ کے نام سے پکارتے تھے اور یہی نام آگے چل کر حضرت شیخ رحمہ اللہ کے بہت سے خصوصی متعلقین میں چل پڑا۔
حضرت شیخ رحمہ اللہ کی صحبت میں رہ کر حضرت نے اپنی اصلاح کروائی۔ جب حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے مدینہ طیبہ ہجرت فرمائی تو حضرت نے بھی اپنے شیخ کے حکم سے مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کی اور اپنے شیخ کی بڑی خدمت فرمائی۔ حضرت خود سنایا کرتے تھے کہ مدینہ پاک کے قیام کے دوران حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اقدامِ عالیہ میں بیٹھتے تھے اور اپنے اوراد و وظائف اور معمول کو پورا کرتے تھے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ گھنٹوں وہاں تشریف فرما ہوتے تو حضرت اقدس بھی حضرت کے پیچھے گھنٹوں بیٹھے رہا کرتے تھے، مبادا حضرت کو کوئی ضرورت درپیش ہو جائے تو حضرت اقدس اس کو پورا کریں۔ حضرت فرمایا کرتے تھے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’تم میری خدمت کے لیے میرے پیچھے بیٹھے رہتے ہو تو میں بھی تمہارا اور تمہارے والد کا نام لے کر تمہاری طرف سے درود شریف حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں پیش کرتا رہتا ہوں، اور تمہارے لیے اور تمہارے بیوی بچوں کے لیے دعائیں کرتا رہتا ہوں‘‘۔
حضرت کی تین خاص خوبیاں اور اوصاف:
حضرت اقدس میں ویسے تو بہت خوبیاں تھیں، لیکن بعض خوبیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن اکابر سے محبت کا تعلق ہو ان سے اور خصوصاً اپنے شیخ سے منتقل ہوتی ہیں:
۱۔ حسنِ نظم: یہ خاص وصف تھا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس میں ودیعت رکھا تھا، ہر کام تیقظ، بیدار مغزی اور حسنِ ترتیب کے ساتھ کرنے کی عادت تھی۔ کسی کو کوئی چیز پہنچانی ہو، وصول کرنی ہو، کسی سے کوئی وعدہ کر رکھا ہو، ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں فرماتے تھے، بلکہ تربیتِ سالکین کے لیے خود سنایا کرتے تھے کہ حضرت کے خاص دوست جو شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ کے اجل خلیفہ تھے حضرت صوفی محمد اقبال صاحب رحمہ اللہ، اگر ان سے کوئی وقت طے ہوتا تو وہ اپنے گھر سے نیچے اتر رہے ہوتے اور حضرت اقدس ٹھیک وقت پر ان کے گھر پہنچ جاتے، مجال ہے کہ وقت میں تاخیر ہو۔ آج کل لوگ ایک دوسرے سے ملنے کا، آنے کا وعدہ کرتے ہیں یا کسی چیز کو وقت مقررہ پر پہنچانے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن اس میں کمال یہ سمجھا جاتا ہے کہ دوسرے شخص کو بے وقوف بنا دیا اور وقت پر اس چیز کو یا پیسوں کو ادا نہیں کیا۔ اسی طرح آج کل شادی بیاہ میں کھانے کا وقت لکھا ہوا ہوتا ہے، مثلاً ساڑھے دس بجے کا لیکن طعام پیش کرتے ہیں ساڑھے گیارہ، پونے بارہ بجے، یہ بہت بڑا المیہ ہے۔
۲۔ صاف معاملات: دوسری صفت جو پہلی صفت کا تکملہ اور تتمہ ہے وہ ہے صفائی معاملات۔ اگر کسی کے لیے پیسوں کی ادائیگی کا وقت طے کر دیا تو وقت سے پہلے ادا کرنے کی کوشش اور ادا کرنے کو یقینی بنانا حتی کہ خود فرماتے تھے کہ ’’اگر کسی اخبار والے کو مہینے کے بعد آج اپنی رقم لینے آنا ہوگا تو سر میں کھجلی شروع ہو جائے گی اور دل چاہے گا کہ اس کی رقم جلد سے جلد ادا ہو جائے‘‘، بلکہ یہاں تک فرماتے کہ ’’میں اس دن اپنے ذکر اور معمولات کو مقدم یا مؤخر کر دیتا ہوں، تاکہ کسی کو میری وجہ سے تکلیف نہ پہنچے۔ اس غریب نے تو تیس دن تک محنت کی اور میں اس کو وقت پر پیسے ادا نہ کروں، ایسا نہیں ہو سکتا‘‘۔ یہی حال دوسرے لوگوں سے معاملات کا تھا۔ حضرت نے دینی ضرورت کے لیے مدرسہ یا کسی اور کام کے لیے لاکھوں روپے لوگوں سے قرض لیے اور جس وقت ادا کرنے کا معاملہ کیا تو اس سے ایک یا دو دن پہلے ہی رقم ادا کر دی، اس کی وجہ سے لوگوں میں عزت بڑھی کہ معاملہ کی صفائی والے بزرگ ہیں۔ یہی صفت حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی تھی، مسلمان تو مسلمان کافر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین کہا کرتے تھے۔
حضرت رحمہ اللہ کا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق:
بندہ کو حضرت کی خدمت کے لیے دو سال عمرہ پر جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضرت رحمہ اللہ کا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عشق کا تعلق تھا وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ باوجود اس پیرانہ سالی کے مدینہ منورہ میں فجر کی نماز سے ایک گھنٹہ پہلے بیدار ہونا، جماعت سے تقریباً آدھے گھنٹے پہلے مسجد نبوی تشریف لے جانا، نماز باجماعت کھڑے ہو کر ادا کرنا حالانکہ حضرت کو بندہ وہیل چیئر پر لایا لے جایا کرتا تھا، لیکن فرض نماز کھڑے ہو کر ادا کرنا، اس کے بعد دو یا سوا دو گھنٹے بیٹھ کر اوراد و وظائف مکمل کرنا، اس کے بعد اشراق و چاشت کی نماز ادا کرنا، نماز کے بعد روضۂ اقدس پر حاضری تقریباً آدھا گھنٹہ کے قریب۔ مسجد سے باہر تشریف لے جانے کے بعد بھی روضۂ اقدس کی طرف رخ کر کے صلوٰۃ و سلام عرض کرنا۔
بندہ باوجود حضرت اقدس سے عمر میں چھوٹے ہونے کے (علم و عمل میں تو کوتاہ و چھوٹا ہے ہی) بہ مشقت بیٹھता تھا اس لیے کہ آدھے ایک گھنٹے کے بعد نیند کا غلبہ ہوتا تھا، لیکن مدینہ منورہ تو آدمی جاتا ہی اسی لیے کہ نفس کے تقاضوں کو دبائے، بہرحال اس کے بعد مکان کی طرف واپسی۔ اسی طرح دوپہر کے اوقات میں لمبا دورانیہ خاص کر غیر رمضان میں عصر کی نماز سے آدھا گھنٹہ پہلے مسجد نبوی پہنچ جانا اور تقریباً چار سوا چار بجے عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد سے لے کر عشاء کی نماز کے اختتام تک اعتکاف کی نیت سے مسجد میں گزارنا جس کا دورانیہ تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے بنتا ہے۔ اس دوران حضرت اقدس کو دو سے تین مرتبہ پیشاب کی حاجت ہوتی تو بندہ حضرت اقدس کو قریبی حمامات کی طرف لے جاتا، حضرت وہیل چیئر کا استعمال کرتے تھے۔ اور عصر کی نماز کے بعد روضۂ اقدس پر حاضری۔ حضرت کھڑے ہو کر صلوٰۃ و سلام حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے اور صلوٰۃ و سلام پیش کرتے رہتے۔ اور مکہ مکرمہ میں حضرت کو وہ شخص پسند تھا جو وہیل چیئر رفتار سے چلا سکتا ہو اور کسی کو ایذاء دیے بغیر عصر اور مغرب کے درمیان (جس میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹوں کا فاصلہ ہوتا ہے) کئی طواف کرا دے۔ حضرت کمرِ ہمت باندھ کر وہیل چیئر پر کئی طواف فرماتے کبھی تو ایک ہی شخص ہمت کرتا کبھی باری باری حضرت کو طواف کرایا جاتا۔ طالب علم جو عمرہ پر گیا ہوا ہوتا اس کی خواہش یہ ہوتی کہ میں حضرت کو زیادہ سے زیادہ طواف کرا دوں۔
معمولات کی پابندی:
۱۔ حضرت کی عادتِ شریفہ جماعت سے نماز پڑھنے کی تھی، کتنی ہی بیماری، ضعف، کمزوری کیوں نہ ہو، مگر نماز باجماعت ادا فرماتے تھے۔ کوشش تو یہ ہوتی کہ مسجد میں تشریف لا کر امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا فرمائیں، لیکن اگر ضعف بڑھ جاتا تو گھر میں کسی صاحبزادے کی اقتداء میں نماز ادا فرماتے تھے۔
۲۔ باوجود کمزوری اور نقاہت کے صبح فجر کی نماز سے پہلے تہجد میں بیدار ہوتے اور تہجد ادا فرماتے اور خود فرماتے کہ ’’رات بھر عوارض کی وجہ سے نیند نہیں آتی‘‘۔ اس کے باوجود صبح سویرے اٹھਣਾ اور فجر کی نماز سے پہلے مسجد میں آنا اور باجماعت نماز ادا کرنا، یہ برسوں کا معمول تھا۔ اگر کسی شخص کی ایمانی قوت دیکھنی ہو تو اس میں یہ صفت دیکھی جائے کہ فجر کی نماز کا کتنا پابند ہے، اس لیے کہ بموجبِ حدیث فجر کی نماز منافقین پر بھاری ہوتی ہے۔ میٹھی نیند کا وقت ہوتا ہے، نیند کا غلبہ ہوتا ہے، اس وقت کوئی شخص نیند کو قربان کر کے اللہ کے منادی کی آواز پر لبیک کہے تو یہ اس کی قوتِ ایمانی کی دلیل ہے اور یہ وصف ہمارے حضرت رحمہ اللہ میں موجود تھا، فجر سے پہلے مسجد پہنچنا اور باجماعت نماز ادا کرنا۔
۳۔ تیسرا معمول ذکر کی پابندی۔ یہ پابندی آخر دم تک رہی، ذکر بالجہر اہتمام کے ساتھ فرماتے تھے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے مشائخ کے معمولات لکھے اس میں یہ لکھا ہے کہ ’’جتنا میں نے اپنے اکابر میں سے ذکر بالجہر کا پابند حضرت مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ بانیِ تبلیغ کو پایا اتنا کسی کو نہیں پایا۔ حضرت رحمہ اللہ رمضان المبارک میں عصر سے مغرب تک ذکر بالجہر کیا کرتے تھے‘‘۔ اسی طرح ہمارے حضرت رحمہ اللہ نے بھی ذکر بالجہر کی عادت کو نبھایا اور اس کے بغیر ایسے بے چین ہوتے جیسا کہ مچھلی بغیر پانی کے، اور مسجد میں آکر ذکر بالجہر بڑے اہتمام سے کرتے تھے۔ فجر کی نماز کے بعد معہد الخلیل کی مسجد میں ذکر بالجہر کی مجلس ہوتی ہے، اس میں حضرت اشراق تک شریک ہوتے تھے اور باوجود بیماری کے نہ صرف یہ کہ خود بھی شریک ہوتے تھے بلکہ طلبہ و سالکین کی نگرانی بھی کرتے تھے کہ کون سا شخص پابندی سے شریک ہوتا ہے یا ناغہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں:
بنوری ٹاؤن میں ہمارے ایک استاذ تھے حضرت مولانا ادریس میرٹھی رحمہ اللہ جو حضرت اقدس رحمہ اللہ کے بھی استاذ تھے اور حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ بہت ضعیف العمر تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ’’میرے دو ہی کام ہیں: نماز پڑھنا اور سبق پڑھانا‘‘۔ جلالین کا درس بڑے اہتمام سے دیا کرتے تھے۔ تقریباً چالیس سال جلالین شریف کا درس دیا۔ جلالین سے حضرت کو خصوصی محبت اور تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ بندہ کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتے ہیں جیسا کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے گمان رکھتا ہے، جب حضرت مولانا میرٹھی رحمہ اللہ کی خواہش تھی کہ جلالین کا درس دیتے ہوئے انتقال ہو، تو اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت کے گمان کے مطابق معاملہ فرمایا، چنانچہ آپ کا جلالین پڑھاتے ہوئے وصال ہوا۔ سورۂ انفطار کا درس دیا، اس آیت تک پہنچے إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ اور درس ختم کر دیا، آدھے گھنٹے بعد وصال ہو گیا۔ جاتے جاتے ہم جیسوں کو سبق دے گئے کہ بے شک جو لوگ ہمت کے ساتھ دین کے کاموں میں لگے رہتے ہیں ان کا انجام بہت ہی عمدہ ہوتا ہے، ’’بے شک نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے‘‘۔
اسی طرح ہمارے حضرت رحمہ اللہ زندگی بھر ذکر بالجہر کرتے رہے اور اپنے سالکین کو اس کی تلقین کرتے رہے۔ اسی حالت میں اللہ کے پاس چلے گئے۔ جب حضرت رحمہ اللہ ہسپتال میں تھے تو غنودگی کی حالت تھی، حضرت کا چیک اپ کرنے کے لیے بڑے ڈاکٹر اور ان کی ٹیم آئی۔ تو ہمارے بڑے بھائی حافظ محمد شاہد صاحب مدظلہ بھی وہیں موجود تھے۔ ان کا بیان ہے کہ حضرت کو غنودگی تھی اور زبان بالکل بند تھی، لیکن جب ڈاکٹروں نے دل کے پاس آلہ لگایا تو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کی آواز آ رہی تھی، ان بڑے ڈاکٹر نے چھوٹے ڈاکٹروں کو متوجہ کر کے ان کو سنوایا، ان حضرات نے بھی تصدیق کی۔ اسی طرح جب آلہ منہ کے قریب لے گئے تو اللہ اللہ کی آواز آ رہی تھی، حالانکہ زبان بند تھی۔ یہ سب کیا تھا؟ یہ اسی محنت کا ثمرہ تھا جو حضرت کرتے چلے آ رہے تھے، زبان تو بند ہے لیکن دل جاگ رہا ہے، پاسِ انفاس کر رہے ہیں کہ ہر سانس سے اللہ اللہ کی آواز آ رہی ہے اور حضرت رحمہ اللہ کا وصال بھی کلمۂ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پر ہوا۔
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ جس کا آخری کلام لا الٰہ الا اللہ ہوگا وہ شخص جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی پاک ہستیوں کا اتباع نصیب فرمائے اور ان کے ساتھ ہی ہمارا حشر فرمائے۔