مضامین

!مجھ کو تو تم پسند ہو اپنی نظر کو کیا کہوں

جناب حافظ محمد شاہد
دامادِ حضرت والا

سچے عاشق کی بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو معشوق کی مرضی اور تابعداری میں فنا کر دے، اس راہ میں پیش آنے والے نامساعد حالات اور زمانے کی تلخیوں کو استقامت اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرے اور اپنے قول و فعل سے سچا عاشق ہونے کا ثبوت پیش کرے۔ الحمدللہ ہم نے ایسے ہی ایک شیخ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ اور محبوبِ رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور اللہ پاک اور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق اکابرین کی محبت میں فنائیت کے درجہ میں پایا۔

حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے مومنین کی بہت سی اعلیٰ درجہ کی کامل صفات کا مظہر بنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ناموں کی عظمت، دینی شعائر کی عظمت، اہل علم اور طالبانِ علم کی عظمت، دین کے مختلف شعبوں میں کام میں منہمک علماء، مشائخ اور خدام سے تعلق، محبت، عظمت و اکرام حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کی زندگی کے خاص اوصاف تھے۔

بیعت و سلوک کا تعلق

طائفۂ عشاق میں سے پہلے حضرت جی مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ امیرِ تبلیغ، اور ان کے وصال کے بعد حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ کے محبوب و مربی قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی اداؤں، محبتوں، تعلیمات اور عشق و سوز کو اپنے اندر سمویا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ساری زندگی جن کا تذکرہ سنا اور زندگی کے ہر موڑ پر جن کو اسوہ بنایا وہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی اور ان کے اکابر نور اللہ مراقدہم تھے۔ اکثر مجالس، بیانات، نصائح، اسباق، یہاں تک کہ نجی گفتگو اور شادی بیاہ تک میں حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کو بے شمار لوگوں نے اکابر کا تذکرہ، ان کے ملفوظات، اکابر کی دینِ اسلام کے لیے قربانیاں اور اکابر کے حالاتِ زندگی سناتے ہوئے پایا۔

حضرت نے اپنے اکابر سے امتِ محمدیہ کا غم پایا، اس کو اپنا مشن و مقصد بنایا اور عملی زندگی میں اپنی جان، مال، وقت، صلاحیتیں، یہاں تک کہ اپنی جوانی اور بڑھاپے تک کو اس مشن میں کھپا دیا۔ اس مقصد کے لیے اپنی ساری اولاد اور متوسلین کو نہ صرف تربیت اور نگرانی کر کے لگایا، بلکہ ہمیشہ اس مشن کو فکر اور ہمت سے اپنے اکابر کے طرز پر آگے بڑھانے کی وصیت فرماتے رہے۔

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو آخری سفرِ مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کراچی لایا گیا، جبکہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ صاحبِ فراش تھے، قیام گاہ تک جانے کے لیے ہمارے حضرت رحمہ اللہ پیدل تشریف لے جا رہے تھے، اس عاجز نے سواری پر باصرارِ تمام بیٹھنے کے لیے عرض کیا، قبول فرما لیا، فرمایا: ’’چونکہ تم نے احسان کیا اس لیے بندہ بھی بدلہ میں تمہیں حضرت شیخ الحدیث کی زیارت کرا دیتا ہے‘‘۔ مدینہ منورہ میں ایک لمبے عرصہ قیام کے دوران حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے خادمِ خاص اور حضرت کے دسترخوان کے ناظم رہے، اوروں کی نسبت زیادہ قریب سے دیکھنے کا اور صحبت اٹھانے کا موقع ملا، حضرت کے درِ دولت پر بڑے بڑے اکابرین اور مشائخ کی نیاز مندانہ اور والہانہ حاضری کا ایک عرصہ تک مشاہدہ کیا۔

صفاتِ عالیہ

حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نمایاں صفات سے نوازا تھا، حضرت کا حافظہ بہت قوی تھا، ذہانت کے سب قائل تھے، زبردست مردم شناسی اور انتظامی صلاحیتوں سے اللہ پاک نے مالا مال کیا ہوا تھا، امیرِ تبلیغ حضرت جی مولانا یوسف صاحب اور حضرت شیخ الحدیث رحمهم اللہ نے ان خداداد صلاحیتوں کو محسوس فرما کر دین کے مختلف تبلیغی اجتماعات کے انعقاد کی تیاری، جماعتوں کی تشکیلات، بیرون ممالک کے اسفار نیز مدینہ منورہ میں تبلیغی مرکز ’’مسجد نور‘‘ اور ’’علوم شرعیہ‘‘ میں آنے والے وفود اور علماء، مشائخ و مہمانوں کی خاطر مدارات اور دوسری ذمہ داریاں حضرت مدنی رحمہ اللہ کے کندھوں پر ڈالیں۔ جنہیں حضرت نے انتہائی احسن طریقے سے نبھا کر خوب خوب دعائیں اور توجہات سمیٹیں۔

حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کو ان کے اکابر نے اپنے ساتھ رکھ کر پرکھا اور تربیت فرمائی۔ ان حضرات رحمهم اللہ کی دور اندیش نگاہوں نے پہچان لیا تھا کہ اللہ پاک کی ذات اس بندے سے مستقبل میں کوئی بڑا کام لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا اندازہ حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کی عین عالمِ شباب میں دنیاوی اعلیٰ تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر اللہ پاک اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عشق کے حصول کے لیے اپنے زمانے کے اللہ والوں کے در پر حاضری اور سلوک و احسان کا راستہ طے فرمانے سے ہوتا ہے۔

اس مکتب کے پہلے استاذ و مربی امیرِ تبلیغ حضرت جی مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ تھے، ہمیں حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ کی اپنے اوپر ہونے والی شفقتوں، اندازِ تربیت اور خصوصی توجہ کے اکثر واقعات سناتے۔ اس کے علاوہ حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ کی گھنٹوں طویل تقاریر کو اپنے دستِ مبارک سے قلم بند فرما کر محفوظ کیا۔ (ان تقاریر کو حضرت رحمہ اللہ کے بچپن کے ایک مخلص اور عصری تعلیم کے ساتھی الحاج بھائی عتیق صاحب نے حضرت کی زندگی میں مشاورت کے ساتھ سلسلہ وار شائع کرنا شروع کیا تھا، الحمدللہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کی دو جلدیں ’’بياناتِ حضرت جی مولانا محمد يوسف کاندھلوی رحمہ اللہ‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر بھی آچکی ہیں)۔

پاکستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں پیدل جماعتوں کے ساتھ گھنٹوں بھوکے پیاسے چلना، نامساعد حالات کے باوجود مرکز کی تشکیل پر نئے علاقوں میں اجتماع کے لیے پہلے سے پہنچ کر اس علاقے کے لوگوں پر محنت، کام کی فضا بنانا، اجتماع کی تیاری، اس وقت کی جماعتوں میں چنے کھا کر مجاہدہ کے ساتھ کام میں لگے رہنا، راتوں کو اٹھ کر امت کی ہدایت کے لیے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش، نیز بیرون ممالک کے اسفار، مثلاً حجازِ مقدس، بیت المقدس اور ملکِ حبشہ کے حالات حضرت رحمہ اللہ کی زبانی سن کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ جوانی میں بھی اللہ پاک نے خوب دین کا کام لیا۔

حضرت جی مولانا یوسف صاحب رحمہ اللہ کے وصال کے بعد حضرت رحمہ اللہ نے قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے اپنے دامن میں لینے کی درخواست کی جسے شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے خوشی سے قبول فرما لیا، بعد میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے اجازت و خلافت عطا فرمائی۔

اکابر کا اعتماد و توجہ

’’بھائی یحییٰ‘‘ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی زبانِ مبارک سے نکلا، یہ رس بھرا نام کچے گھر و مرکز نظام الدین کے بچوں، بڑوں، متوسلین، خادمین یہاں تک کہ خلفائے کرام کی زبانوں پر چڑھ گیا۔ شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے اہلِ خاندان، حضرت صاحبزادہ مولانا طلحہ صاحب مدظلہ کی زبانی رائے ونڈ و حجازِ مقدس ملاقات پر خیر خیریت، سلام و پیغام، ’’بھائی یحییٰ سے ملنے کو بہت جی چاہ رہا ہے‘‘ جیسے دیگر محبت بھرے پیغامات سن کر محسوس ہوتا جیسے کچے گھر کا ایک فرد کسی خاص مقصد و مشن کے لیے دوسری جگہ جا بسا ہو اور پیچھے اپنے خاندان والوں کے لیے اپنی یادیں چھوڑ گیا ہو۔ صاحبزادہ حضرت مولانا طلحہ صاحب مدظلہ کے کئی بیرون ممالک کے اسفار و مجالس میں حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ محبت و شفقت آمیز مناظر دیکھے۔ ایک سفرِ حج میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا تینوں دنوں کی رمی ’’بھائی یحییٰ‘‘ کی معیت میں کرنے کے لیے انتظار و اصرار بھی یاد آتا ہے۔ اس کے علاوہ مفتیِ اعظم حضرت مفتی ولی حسن رحمہ اللہ باوجود استاذ ہونے کے ہمیشہ ’’بھائی یحییٰ‘‘ کے نام سے یاد فرماتے۔ اسی طرح دہلی برادری کے اکابر کو بھی اسی نام سے یاد کرتے سنا۔

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خدمت میں رہ کر جب جوہر کھلے تو خصوصی تربیت و اصلاح کے ساتھ اعتماد فرماتے ہوئے مدینہ منورہ میں حضرت کی سرپرستی میں قائم قرآن کے مکتب کے نگران بنے، نیز حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے آستانہ پر آنے والے علماء، مشائخ و مہمان حضرات کے میزبان اور رقومات کے امین بھی رہے۔ اپنے شیخ رحمہ اللہ کی شفقتوں اور اعتماد کا نتیجہ تھا کہ شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے خلفاء اور دوسرے علماء و مشائخ کے بھی منظورِ نظر بنے، جہاں اور اکابر کو کثرت سے جامعہ معہد الخلیل میں آتے دیکھا وہیں شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے خلفاء میں سے مفتیِ اعظم ہند حضرت مفتی محمود الحسن رحمہ اللہ جب بھی چند گھنٹے یا کچھ دنوں کے لیے کراچی تشریف لاتے تو معہد الخلیل الاسلامی کی حاضری لازمی ہوتی اور کراچی کے سفر کا اکثر حصہ حضرت کے ساتھ گزارتے اور حضرت ہی ان کے پورے سفر کے نظام کے ذمہ دار ہوتے۔

ایک سفر میں حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ اچانک بغیر اطلاع کے آئے اور معہد الخلیل میں حضرت رحمہ اللہ کے سیڑھیوں کے نیچے دفترِ اہتمام کے ٹوٹے فرش کے ملبہ پر بیٹھ کر اکابر کے واقعات سنانے شروع فرما دیے، اس دوران دیکھا حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں اور درد سے فرما رہے ہیں کہ اب تو اکابر کے تذکرے سننے سنانے والے بھی نہ رہے۔

حضرت رحمہ اللہ کے اکابر و اساتذہ میں سے حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ نے تعلیم و تربیت کے لیے اپنے اکلوتے بیٹے مولانا محمد بنوری مرحوم کو، اسی طرح حضرت مولانا عاشق الٰہی ثم المہاجر المدنی رحمہ اللہ نے بڑے صاحبزادے مولانا عبدالرحمن مدظلہ کو حضرت شیخ رحمہ اللہ کے حوالے فرمایا۔ افسوس! ہم نے اپنے بڑوں کے مقام کو نہ پہچانا۔ افسوس! ہم نے اپنے بڑوں کی قدر نہ کی۔ اگر ہم بھی اپنے بڑوں کے مقام کو پہچان کر ان کی قدر کرتے، اطاعت کرتے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے تو یقینا ہم بھی ان خوش بخت لوگوں میں ہوتے جنہوں نے دنیا میں اللہ پاک اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کی زندگی گزار کر دنیا و آخرت میں فلاح پائی۔ یہ صدا اور دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی آواز آقائے دو جہاں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے تھی، جو رب العالمین نے ہم سب کے محبوب حضرت شیخ مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کے دل میں پیدا فرمائی تھی۔ افسوس صد افسوس! اگر اس طرح کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ہم سب نے بھی نہ پوری طرح حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کی تعلیمات کو سمجھا، نہ ان کے مقام کو پہچانا اور نہ ان کی کماحقہ قدر کی۔

ہمارے حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نمایاں صفات سے نوازا تھا۔ حضرت رحمہ اللہ کا حافظہ بہت قوی تھا، ذہانت کے چھوٹے بڑے سب ہی قائل تھے، زبردست مردم شناسی، فرقِ مراتب، صائب الرائے، طبعاً متواضعانہ و انکسارانہ مزاج، قائدانہ صلاحیت، منفرد اندازِ تربیت، استقامت کے ساتھ قرآن و سنت کی روشنی میں پیچیدہ حالات کا مقابلہ، امتِ محمدیہ کا درد، رجوع الی اللہ، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اکابرین علمائے دیوبند کے خوشہ چیں اور بے پناہ انتظامی صلاحیتوں جیسی خوبیوں سے آراستہ تھے۔

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی ذاتِ اقدس کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اخلاص و للہیت کا یہ عالم کہ لاکھوں دلوں کے بدلنے اور مخلوقِ خدا کو اپنے پاک رب سے ملانے کا سبب بن گئے، جس کا منہ بولta ثبوت ان کی کتاب ’’فضائلِ اعمال‘‘ دنیا کی کم و بیش پچاس سے زائد زبانوں میں دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں پڑھی جانے والی کتاب ہے، ہمارے حضرت رحمہ اللہ نے امیرِ تبلیغ حضرت جی رحمہ اللہ کے وصال کے بعد حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک مخلص کے ذریعہ بیعت کی درخواست کی، جسے شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے قبول فرما کر بیعت فرمایا۔

مشہور ہے سونے کو آگ کی بھٹی میں پکایا جائے تو وہ خالص اور کندن بن کر نکلتا ہے۔ اسی طرح اللہ والے بھی اپنی صحبت میں رکھ کر خالص اور کندن بنانے کا کام کرتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ بھی ایک لمبا عرصہ اپنے شیخ کے پاس مدینہ منورہ میں رہ کر ان مراحل سے گزرے اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔ اساتذہ و اکابر کے مشورہ اور دعاؤں سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں دورۂ حدیث تک حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ اور حضرت مفتی ولی حسن رحمہ اللہ اور دیگر اساتذہ کے خصوصی سایۂ شفقت میں تعلیم حاصل کی، وفاق المدارس العربیہ کے امتحان میں پورے پاکستان میں پوزیشن حاصل کی۔ جامعہ سے فراغت کے بعد اپنے اساتذہ اور جامعہ کے مہتمم صاحب کے مشورہ سے اپنی مادرِ علمی میں اعزازی استاذ مقرر ہوئے۔ یہ تمام قرائن حضرت کے مستقبل کی طرف اشارہ دے رہے تھے۔

جمعیت پنجابی سوداگران برادری پر اللہ پاک کا ایک بڑا احسان

’’آؤ دونوں مل کر اشاعتِ قرآن کریم کریں‘‘ اس عاجز سے حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ نے بار بار یہ الفاظ فرمائے، اور رمضان المبارک کے بعد اپنے گھر کے ایک کمرے میں قرآن پاک کے مکتب کی بنیاد رکھ دی، یہ تھی جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد جو کہ ۱۹۸۲ء میں رکھی گئی۔

چمن میں لگے پھولوں اور پتیوں کی خوشبو اور رنگینی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ یقینا اس کا کوئی مشَّاق مالی ہے جس نے اپنے فن، لگن اور پسینے سے اس باغ کی آبیاری کی ہے۔ حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کے جہاں امت کے اور طبقوں پر احسانات ہیں، وہیں اپنی دہلی کی پنجابی برادری پر بہت بڑا احسان جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کی صورت میں ہے۔ برادری کے بچے بچیوں کی رہائشوں سے قریب تر ایک دینی، تعلیمی و تربیتی ادارہ کا قیام، جس میں تعلیم و تربیت پا کر اور حضرت رحمہ اللہ کی منفرد اور خصوصی شفقت و توجہ کے ساتھ اصلاح و ارشاد کے پاکیزہ ماحول میں اپنے آپ کو تعلیماتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آراستہ کر کے کراچی کے مختلف علاقوں، پاکستان کے مختلف شہروں، بلکہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دنیا کے مختلف ملکوں میں اس روشنی کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ کتنے حضرات نے مختلف مجالس میں اور کتنی خواتین نے فون اور خطوط کے ذریعہ حضرت کے تربیت یافتہ طلباء و طالبات کے گھروں اور خاندانوں کے بدلنے کے واقعات سنائے۔

جب اس ادارہ کی بنیاد کا داعیہ دل میں پیدا ہوا تو اکثر فرماتے دعا کرو اللہ پاک اس ماحول میں کام کے لیے آس پاس کوئی جگہ عطا فرما دے۔ اللہ کی ذات کو سب قدرت ہے وہ دانا و بینا ہے، اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں، کمی تو ہماری طلب میں ہے۔ اس عاجز سے فرماتے ہم دونوں مل کر اشاعتِ قرآن کریم کا کام کرتے ہیں۔ اکثر دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھے اور گڑگڑاتے دیکھتا، اس وقت کی یہ کیفیت دیکھ کر ہمارے سلسلہ کے ایک صاحبِ نسبت بزرگ نے فرمایا میں مولانا یحییٰ مدنی صاحب کو ایک مدت سے دیکھ رہا ہوں لیکن جو اضطرار، بے چینی اور چہرے کی کیفیت اب دیکھ رہا ہوں اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی، ربِ ذوالجلال اپنے بندہ کی سچی طلب، اخلاص و للہیت اور راہِ حق پر چلنے اور کوشش کو پسند فرماتے ہیں اور اہلِ حق کے قلوب اور سلیم الطبع افراد کو متوجہ فرماتے ہیں۔

خوشبو جس باغ یا فرد کے پاس سے مہک رہی ہو، ہر کسی کا دل اس کی طرف کھنچتا اور طبیعت کا میلان پاتا ہے۔ ہمارے حضرت نے اپنے اس چمن کو اپنے خون پسینہ سے سینچا، یہ عاجز اس کو ایک محاورہ کے طور پر یا مبالغہ آرائی کے طور پر پیش نہیں کر رہا، بلکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، جن ہستیوں نے حضرت کو اس معہد کی بنیاد سے پہلے صحت مند دیکھا، وہ اس کے گواہ ہیں۔ حضرت کی قبولیت کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے مختلف مدارس کے علماء و مشائخ، ائمۂ مساجد، مختلف دینی شعبوں سے وابستہ حضرات، تاجر حضرات، سماجی و عصری تعلیم سے منسلک طبقہ، حتی کہ بہت سے مدارس اور جامعات کے مہتمم حضرات کو اپنے بچے بچیاں حضرت کے زیرِ تربیت دینے کے لیے حاضر ہوتے دیکھا۔

اللہ کی شان اس چمن کے مالی کی زندگی میں ہی پھولوں نے کھلنا اور خوشبو نے مہکنا شروع کر دیا۔ ایک طالب علم کے والد نے حضرت کو بتایا: میں ایک دولت مند تاجر ہوں، جب میں بیمار ہوتا ہوں تو میرے ساتھ تجارت میں جڑی اولاد میرے قریب تک نہیں آتی، ماشاء اللہ معہد میں زیرِ تعلیم میرا بیٹا میرے پاس رہ کر تیمارداری اور خدمت کے ساتھ ساتھ میرے پاؤں بھی دباتا ہے۔ یہ سب معہد میں آپ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔

ایک یہاں کے ماحول میں تربیت یافتہ عالمہ کا پیغام ایک مغربی ملک میں رہنے والے دیندار گھرانے کے متشرع لڑکے سے آیا، اس عالمہ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ساری عمر چاروں طرف سے اذان کی آواز سنی، اب ایسے ماحول میں کیسے جا کر رہ سکتی ہوں جہاں اذان کی آواز سننے کو بھی نہ ملے؟ معہد کے ایک طالب علم نے سالانہ امتحان کے پرچہ میں نہ سمجھ میں آنے والے سوال کے متعلق کسی دوسرے مدرسہ سے آئے ہوئے نگرانِ استاذ سے پوچھا، تو انہوں نے بے اصولی سے کچھ جواب کا بھی حصہ بیان کر دیا، جس پر معہد کے تربیت یافتہ اس طالب علم نے بددیانتی سمجھتے ہوئے اس کا جواب تحریر کرنے سے انکار کر دیا۔

بعض طلباء و طالبات کے والدین نے حضرت رحمہ اللہ کی تربیت کا اثر بیان کیا کہ انہوں نے پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام خود بھی شروع کیا اور گھر کے تمام افراد کو نمازوں کے اہتمام پر لانا، خاص کر فجر کی نماز کے لیے بیدار کرنا، حکمت و مصلحت سے گھروں اور خاندانوں سے غیر شرعی کاموں اور رسومات کو ختم کرانا، گھر میں بہن بھائیوں اور خاندان کی آپس میں ناچاقیوں اور جھگڑوں کو ختم کرا کر میل جول اور محبت والا ماحول پیدا کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

حضرت رحمہ اللہ کے تربیت یافتہ متعلقین و متوسلین نے اہلِ محلہ طلباء، اساتذہ کے علاوہ معہد کے خادمین کو بھی تکبیرِ اولیٰ کا اہتمام، نمازِ تہجد، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن اور ایامِ بیض کے روزوں کا پابند پایا۔ الحمد للہ جامعہ معہد الخلیل سے فیض یاب ہونے والے متعدد احباب، اس کی مختلف علاقوں میں قائم شاخوں، مختلف دوسرے جامعات، پاکستان کے دیگر شہروں اور بیرونِ ملک مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، کینیڈا، ملایشیا اور دیگر ممالک میں تدریسی، تبلیغی اور اصلاحی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ عوام الناس کے لیے محلے کی مساجد اور مراکز میں قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر، درسِ حدیث، دینی مسائل کا بیان اور وعظ و ارشاد کا سلسلہ بھی جاری کیا ہوا ہے۔

وفاق المدارس العربیہ کے تحت ہر سال لاکھوں طلباء و طالبات امتحان دیتے ہیں (اس وفاق کا نظم اور معیار ایک معروف کالم نویس کی تحقیق کے مطابق یورپ کے بعض معروف تعلیمی اداروں سے بڑھا ہوا ہے)۔ الحمدللہ معہد کے طلباء و طالبات کی پورے پاکستان میں ہر سال اول، دوم، سوم میں سے پوزیشنوں کا سلسلہ کافی سالوں سے جاری ہے (اللہ پاک سے دعا ہے کہ اس سلسلہ کو اپنے فضل و احسان سے جاری رکھے، آمین)۔

حضرت نے اپنے آپ کو ساری زندگی معہد الخلیل کی چار دیواری کا پابند رکھا اور یکسوئی کے ساتھ طلبہ و طالبات کی تعلیم، اصلاح و تربیت میں لگے رہے، لیکن کبھی بھی امتِ مسلمہ کے لیے پیش آمدہ مسائل کے حل اور ان کی اصلاحی تدابیر سے غافل نہ رہے۔ حضرت مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی رحمہ اللہ جن کا شمار ایک بڑی عالمی علمی شخصیت کے طور پر ہوتا تھا، حج و عمرہ کے موقع پر دنیا کے تمام اطراف سے مدینہ منورہ حاضر ہونے والے علماء، صلحاء، مشائخ اور عوام الناس کا مسجد نبوی میں ان کے ارد گرد ہجوم رہتا تھا۔ ہمارے حضرت رحمہ اللہ سے جب بھی ملاقات ہوتی خصوصی عنایات کے ساتھ مسلمانوں کے عالمی حالات وغیرہ پر طویل گفتگو فرماتے، اور اکثر خط و کتابت کا بھی سلسلہ رہتا۔ ایک مرتبہ ایک برادری کا وفد ان سے ملنے گیا، وفد کے افراد نے اپنی پہچان کے لیے مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ کے حوالہ سے اپنا تعارف کروایا۔ مفتی صاحب رحمہ اللہ نے ان سے فرمایا: ’’سن لو! تمہاری برادری میں حفظ کا تو بڑا رواج تھا لیکن برادری کے بچوں کو علمِ دین کے حصول پر لگانے کا سہرا مولانا یحییٰ صاحب کے سر ہے‘‘۔

حضرت رحمہ اللہ نے امتِ مسلمہ کے غم میں گویا اپنے آپ کو گھلا لیا تھا، سخت بیماری کی حالت میں بھی جہاں کہیں سے بھی کسی دینی ادارے یا دینی کام میں لڑائی جھگڑے یا فساد کی خبر سنتے تو گویا تڑپ جاتے۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں مصائب کا شکار، مسلمانوں کے لیے دن رات دعا گو رہتے۔ اکثر فرماتے رات کی چند گھنٹوں کی نیند کے بعد آنکھ کھل گئی یا پوری رات نیند نہ آئی، پھر نہ پوچھو کہ رات کیسی فکر اور بے چینی میں گزری۔ عمر کے آخری دس سالوں میں جبکہ مختلف بیماریوں نے نہایت پیچیدہ صورت اختیار کر لی تھی تب بھی حضرت نے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے مسلسل کام کر کے اپنے آپ کو کھپایا اور ہر شعبہ میں اپنی پوری ہمت، توجہ، نگرانی اور تربیت کے ذریعہ سے اپنے آپ کو خدمتِ دین میں مصروف رکھا۔

حضراتِ اہل اللہ کو یہ فرماتے سنا کہ حضرت رحمہ اللہ ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات کے لحاظ سے ’’ایک ادارہ‘‘ تھے۔ اتنی محنت صرف کرنے کے باوجود اپنے باغ کے پھول پھول دیکھ کر اکثر فرماتے: ’’اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ خالص اللہ کا فضل ہے۔ اگر وہ ذات اپنی بارگاہِ عالی میں قبول فرما لے تو اس سے بڑا کوئی شرف نہیں‘‘۔

لو بحرِ محبت کا کنارہ نظر آیا

برادری کی معروف شخصیات، معالجین، علماء، پرانے متعلقین اور وہ واقف لوگ جنہوں نے صحت کے زمانے میں خوب خوب دیکھا، ہر کوئی یہ درخواست کرتا ’’بڑے مولانا‘‘ (یہ نام گویا حضرت کی پہچان بن چکا تھا) سے کہو: آپ آرام کریں، آپ کے ساتھی آپ کے حکم اور منشاء کے مطابق کام کریں گے۔ لیکن آپ رحمہ اللہ منظور نہ فرماتے اور اس بوڑھے دیہاتی کی مثال سناتے، وہ جب بوڑھا ہو گیا تو اس نے اپنے جوانی کے مشغلہ کو یاد کر کے کہا کہ: میرا جی چاہے کہ میرے چاروں طرف آرے لگے ہوں، کوئی ادھر لکڑی چیر رہا ہو، کوئی دوسری طرف اور کبھی تیسری طرف سے چیرنے والی مشین کی آواز آ رہی ہو، سب طرف سے چر چر کی آوازیں آ رہی ہوں اور میں ان آوازوں کو سن کر خوش ہوتا رہوں۔ اس مثال کے بعد یوں فرماتے: ’’اسی طرح میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں ایسے ماحول میں پڑا رہوں کہ میرے ارد گرد قال اللہ اور قال الرسول پڑھا جا رہا ہو، اور مجالسِ ذکر لگی ہوئی ہوں، اور لا الٰہ الا اللہ کی صدائیں آ رہی ہوں اور میرا دل ان سب کو سن کر جھوم رہا ہو‘‘۔

مخلص معالجین اور ڈاکٹر حضرات تو اکثر کہتے کہ ہم اپنے تجربات اور طبی اصولوں کی روشنی میں جب حضرت کی صحت اور محنت و مجاہدہ کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ حضرت اللہ کے فضل و کرم سے ’’خالص روحانی قوت‘‘ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ چنانچہ حدیثِ قدسی ہے: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي۔ وصال سے قبل آخری دنوں میں ایک نئے ڈاکٹر صاحب جو اپنے فن کے ماہر تھے اپنی ٹیم کے ساتھ معائنہ کرنے آئے، انہوں نے کہا: یحییٰ صاحب کیا حال ہیں؟ آپ کو کیا محسوس ہو رہا ہے؟ کئی بار آواز دی لیکن غنودگی کی وجہ سے کوئی جواب نہ پا کر کمر اور سینہ پر آلہ لگا کر چیک کیا تو ایک دم چونک گئے کہ اس حالت میں بھی سانس کے ساتھ ’’اللہ اللہ‘‘ جاری ہے، فرمانے لگے کہ سانس آتے جاتے دونوں وقت ’’اللہ‘‘ کی آواز سن رہا ہوں۔ اس کے بعد اپنی ٹیم کے باقی افراد کو آلہ لگا کر سنوایا۔ پھر چہرے کی طرف متوجہ ہوئے تو اسی غنودگی یا نیم بیہوشی کی سی حالت میں ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کو سب ہی نے قریب کھڑے ہو کر سنا۔

قربان جائیں اس أَكْرَمُ الْأَكْرَمِينَ (سارے کریموں سے بڑا کریم) ذات پر جس نے اس عاشق بندے کے دل کی صدا اور دعا پر مہربانی فرماتے ہوئے اپنی اس عاجز مخلوق پر اس طرح اظہار فرمایا کہ طلباء و اساتذہ تعلیم و تعلم کے سلسلہ میں مصروف، کچھ اپنے لوگ اور ذاکرین کی جماعت سرہانے اور ارد گرد ذکر و تلاوت میں مشغول، عاشق کی اپنی زبان پر بھی ذکر جاری، اس روحانی ماحول سے نکال کر ملاقات کے لیے اپنی بارگاہ میں بلالیا۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

وصال کے فوراً بعد چہرے پر ایک چمک اور بشاشت نمایاں تھی۔ زندگی میں اکثر یہ شعر پڑھتے ہوئے دیکھا:

بند کیں میں نے آنکھیں تو میری کھل گئیں آنکھیں
کیا تم کو بتاؤں مجھے کیا کیا نظر آیا

نمازِ جنازہ اور تدفین سے قبل چہرے پر مسکراہٹ کے نمایاں آثار کی گواہی کثرت سے زیارت کرنے والوں نے بھی دی۔ گویا زبانِ حال سے کہہ رہے ہوں:

لو بحرِ محبت کا کنارہ نظر آیا

اللہ پاک نے حضرت شیخ مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کو صفتِ استغناء کا بہت اعلیٰ مقام عطا فرمایا تھا۔ اپنی ضروریات کو بندوں کے سامنے رکھنے کے بجائے اپنے مالکِ حقیقی کے آگے ہاتھ پھیلائے مانگتے ہوئے دن و رات کے اکثر اوقات میں دیکھا اور ہمیں بھی ہمیشہ اسی کی تعلیم دیتے۔ اکثر اس عاجز سے فرماتے کہ ’’بہت سے ہمارے دوست احباب یہ سمجھتے ہیں کہ بڑے مولانا کو تو لوگ معہد الخلیل کے لیے بڑی بڑی رقومات دیتے ہوں گے، حالانکہ اپنا حال یہ ہے کہ مانگنے کی عادت نہیں۔ بیٹا اصل تو کام ہے کام۔ مقصد اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملانا ہے۔ اخلاص سے کام کیے جاؤ، تجربہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے کبھی کسی ضرورت کو روکا نہیں، جب ضرورت پڑی اسی سے مانگا، اس مالک نے اپنے غیبی خزانوں سے عطا فرما دیا‘‘۔ حضرت اپنے بچپن کا واقعہ سناتے کہ ’’میں چھوٹا سا تھا، اپنی سمجھ کے حساب سے بڑوں سے سن رکھا تھا کہ اللہ پاک سب سے بڑے ہیں، ہر ضرورت پر انہی سے مانگना چاہیے۔ ایک دن خیال آیا ایک روپیہ کی ضرورت ہے، مانگا: ’’اے اللہ! روپیہ دے دیجیے، اسی وقت میرے سامنے ہوا میں اڑتا ہوا روپیہ آیا، میں نے پکڑ لیا اور اس کو استعمال کر لیا‘‘۔ حضرت بڑی ناگواری اور تعجب سے فرماتے کہ بہت سے اداروں کے ذمہ داروں کا یہ حال ہو گیا کہ اہلِ دنیا کے دروازوں پر مستقبل کے بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں اور اخراجات کا تخمینہ لے کر جاتے ہیں۔ جس سے بعض دفعہ دین اور اہلِ دین کی وقعت عوام کے دلوں سے نکل جاتی ہے۔

حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کے اس وصف کا اعتراف تو ایک بڑا طبقہ کرتا ہے کہ حضرت حق بات کو اس کے محل پر کہنے میں کسی کی دولتمندی، وجاہت اور تعلقات کی ذرا بھی پروا نہ فرماتے۔ اللہ پر توکل اور اعتماد سکھاتے وقت فرماتے کہ ’’مخلوق کے لینے والے ہاتھ بدلتے رہتے ہیں، لیکن خالق کا دینے والا ہاتھ وہی ہے‘‘۔

اس کے ساتھ ہی شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اپنے دینی مشن میں جان، مال اور وقت کے ساتھ جڑنے اور قربانی دینے والوں کی قدر فرماتے۔ ان کی غیر موجودگی میں تعریف فرماتے۔ ان کے لیے دعائیں کرتے کراتے، ان کے دکھ درد میں پوری فکر اور مشوروں کے ساتھ شریک ہوتے۔ دستور یہ تھا کہ عزیز و اقارب میں سے کسی کے ہاں ولادت کا سلسلہ ہوتا تو اذان اور تحنیک کے لیے حضرت سے درخواست کی جاتی، جسے قبول فرما لیتے۔ وصال سے کچھ عرصہ قبل ضعف بھی بڑھ گیا تھا اور عشاء کے بعد کسی سے ملاقات اور کہیں تشریف لے جانے کا معمول بھی نہ تھا۔ ایک عزیزہ کے ہاں ولادت ہوئی، عشاء ہو چکی تھی، ہسپتال کافی فاصلے پر اور مزید یہ کہ ٹریفک اس روز بہت جام تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر عزیزوں نے سوچا حضرت کو زیادہ تکلیف ہو گی، لہٰذا صرف اطلاع پر اکتفا کیا۔ حضرت کی دلداری اور وسعتِ ظرفی دیکھیے کہ تمام اعذار کو پسِ پشت ڈال کر خود ہی ایک ڈرائیور کے ساتھ مٹھائی بھی لائے، اذان دی، تحنیک کی اور مٹھائی کھلائی۔

اپنے متعلقین، مریدین اور طلباء کی دینی حالت یعنی ان کی نمازوں کا اہتمام، ظاہری دینی وضع قطع، کاروباری معاملات، گھریلو معاشرت، میل جول اور دوستوں ساتھیوں کا حلقہ، شادی بیاہ میں بے جا اسراف، رسومات، غیر شرعی کاموں سے بچنے کے اہتمام کو گہری نظر سے ملاحظہ فرماتے۔ اور ان امور میں سنتِ نبوی کی روشنی میں اپنے اکابر کے اسوہ کو دلوں میں راسخ کرنے کی کوشش فرماتے۔ اکثر فرماتے:

جس کو ہو جان و دل عزیز وہ میری گلی میں آئے کیوں؟

جب بھی کوئی اپنی گھریلو، معاشی پریشانی یا جسمانی و روحانی تکالیف کے دفع ہونے کے لیے دعا و مشورہ کے لیے رجوع کرتا (مرد حضرات بالمشافہہ اور خواتین ٹیلیفون یا مدرسۃ البنات میں پردے کے پیچھے) تو اس کو کچھ پڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت اہتمام سے نمازوں کی تاکید فرماتےریتے۔ آئندہ ان میں سے دوبارہ کوئی رجوع کرتا تو پہلا سوال اس گزرے عرصے میں نمازوں کے اہتمام کا ہوتا۔ اگر اس پریشان حال کا جواب نفی میں ہوتا تو فرماتے ’’نمازوں کے اہتمام کے بغیر بندہ آپ کی خدمت نہیں کر سکتا‘‘ اور سائل کو واپس فرما دیتے۔

حضرت شیخ مدنی کے والد شیخ محمد یونس رحمہ اللہ اس عاجز کے دادا تھے۔ بندے نے بھی اپنی چھوٹی عمر میں تقویٰ طہارت، نماز باجماعت تکبیرِ اولیٰ کا اہتمام، منکسر المزاجی، بعد نماز فجر مفتی احمد الرحمن رحمہ اللہ کے درسِ قرآن میں باوجود ضعف اور عارضۂ قلب کے اہتمام سے شرکت کرتے خوب خوب دیکھا۔ بندے کے چھوٹے سے ذہن پر نقش وہ مناظر ایسے پختہ ہوئے گویا کہ کل کی سی بات ہے۔ ہوا یوں کہ دادا مرحوم کے انتقال کے بعد بندہ بار بار میت کے پاس چکر لگاتا رہا لیکن حیرت انگیز طور پر غسل کے بعد اچانک چہرے پر ایک حسین مسکراہٹ جس میں دانتوں کی سفیدی نمایاں نظر آ رہی تھی، اس منظر نے سب حاضرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ مالک کی شانِ کریمی دیکھیے کہ بالکل یہی منظر اس عاجز کو دوبارہ دیکھنا نصیب ہوا حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کے وصال کے بعد سے چہرۂ انور پر بڑھتی ہوئی مسکراہٹ ہر دیکھنے والے فرد کو سبحان اللہ، ماشاء اللہ کہنے پر مجبور کر دیتی۔ گویا زبانِ حال سے فرما رہے ہیں:

لو بحرِ محبت کا کنارہ نظر آیا

ہندوستان کے ایک سفر میں یہ عاجز حضرت والا رحمہ اللہ کا خادمِ سفر تھا۔ ریل کے سفر میں ایک شہر سے دوسرے شہر جا رہے تھے۔ دورانِ سفر ریل خلافِ نظام ایک جگہ رکی۔ حضرت رحمہ اللہ نے ریل سے اتر کر نماز کی جماعت کرائی۔ جب ہم دونوں نماز سے فارغ ہوئے تو دو نوجوان آئے اور بتایا ہم میں سے ایک ہندو اور ایک سکھ ہے۔ ہم دونوں آپ کی نماز شروع کرتے ہی بحث میں پڑ گئے تھے، ہم میں سے ایک نے کہا کہ کتنے نادان ہیں! یہ مسلمان ابھی وصل بجے گی اور گاڑی انہیں چھوڑ جائے گی۔۔ دوسرے نے یہ شرط لگائی اور کہا آسمان والے کی مدد ان کے ساتھ ہے، دیکھنا جب تک ان کی نماز پوری نہ ہو جائے گاڑی چل ہی نہیں سکتی۔ آخر کار دوسرا کہنے والا شرط جیت گیا۔ گاڑی وصل کے باوجود چل نہ سکی جب تک آپ لوگ سوار نہ ہو گئے۔

نکاح مساجد میں منعقد کرانے پر بہت زور دیتے اور کلبوں میں نکاح کی تقریب کو ناپسند فرماتے، بلکہ وہ اجتماعات جس میں اکابر، علماء، مشائخ اور بزرگانِ دین کی آمد ہوتی ان میں اپنے خاندان اور متعلقین کے بچے بچیوں کے نکاح رکھواتے اور ترغیب بھی دیتے۔ حضرت رحمہ اللہ کی اس پُر اثر دعوت کا نتیجہ حق تعالیٰ شانہ نے ان کی زندگی میں اس طرح ظاہر فرمایا کہ رشتہ داروں، اہلِ محلہ، مدرسہ اور حضرت سے تعلق رکھنے والے اکثر مرد حضرات و خواتین حضرت کی خدمت میں یہ درخواست کرتے کہ ہمارے خاندان کے بچوں اور بچیوں کے نکاح بھی ایسی مجالس میں کروائیں، اور وہ لوگ یہ عہد بھی کرتے کہ شادی کے تمام مراحل کو غیر شرعی رسومات سے پاک رکھیں گے۔ الحمدللہ! حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ کی محنت اور کڑھن اور دعاؤں کا نتیجہ یہ نکلا کہ بے شمار شادیاں ایسے خاندانوں میں منعقد ہوئیں جہاں میز کرسی یا کھڑے ہو کر کھانے کا رواج تھا وہاں فرشی کھانے والی دعوتیں ہوئیں۔ اور جن خاندانوں میں پہلے چند منچلے نوجوانوں کی خواہش پر کیمرے اور مووی فلم سے بھرپور تقریبات کا انعقاد ہوتا وہاں انقلاب کے بعد ہونے والی دعوتیں ان ساری خرافات سے یکسر پاک ہوتیں، بلکہ بعض خاندان کے افراد کو دعوت دیتے وقت حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ سے یہ التجاء کرتے دیکھا کہ حضرت! آپ کے بیانات اور نصائح کا نتیجہ اللہ پاک کے فضل سے یہ دیکھا کہ دولہا نے اپنے دوست احباب اور خاندان، اسی طرح دلہن نے اپنی سہیلیوں اور خاندان کی پروا کیے بغیر اپنی شادی کی تقریب میں کھڑے ہو کر کھانے، مووی فلم بنوانے اور دوسری غیر شرعی رسومات پر پابندی لگوا دی ہے۔ حضرت آپ سے درخواست ہے کہ ہماری خوشی میں شریک ہو کر ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں۔

حضرت والا رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی ذاتِ عالی سے سچا تعلق نصیب فرمایا وہیں ان کی شخصیت کو بارعب اور باوقار بنایا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اس بندے کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا۔ حضرت سے تعلق رکھنے والوں اور محبین میں بے شمار طلباء و طالبات، مرد و خواتین اپنے گھریلو، معاشی اور خاندانی معاملات میں مشورہ کرتے، اگر اس کا مقصد دینداری کو غالب رکھنا ہوتا تو اس کو مشورہ اور دعا سے خوب مدد فرماتے۔ بات کی گہرائی تک پہنچ کر مسئلہ کے حل کے لیے بڑی درد مندی سے مشورے دیتے۔ مسئلہ کے حل ہونے تک برابر فکر اور رہنمائی فرماتے۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مقابلہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ فرماتے اور نہ کسی مصلحت کا شکار ہوتے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرضِ منصبی گویا ہر وقت پیشِ نظر رہتا۔ یہ عاجز حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ آپ کے پرانے بے تکلف دوست کے بچے کی شادی میں موجود تھا، اکثر علماء، مشائخ اور اکابرِ تبلیغ موجود تھے، مجلس میں تذکرہ اللہ والوں کی زندگیوں کا چل رہا تھا، اچانک کچھ نوجوانوں نے اہلِ مجلس کی تصاویر بنانی شروع کر دیں، حضرت فوراً اٹھے اور اہلِ مجلس کے درمیان زور دار آواز سے تصویر کی حرمت اور سخت عذاب کو بیان فرمایا، مجلس میں سناٹا چھا گیا۔ ایک بزرگ فرمانے لگے کہ ’’بھائی یحییٰ! آپ نے تو حضرت بنوری رحمہ اللہ کی یاد تازہ کر دی‘‘۔