مضامین

جامع شریعت و طریقت

مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب مدظلہ
مہتمم جامعہ ابو ہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ

برصغیر پاک و ہند میں احیائِ دین، فروغِ علم، دعوت و اصلاح، غلبۂ اسلام اور دینی مدارس کے قیام، بقاء و استحکام کی جب بھی اور جو بھی تاریخ لکھی جائے گی حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کے ذکر کے بغیر ادھوری، ناقص اور نامکمل ہوگی۔

حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ دل و دماغ کے حسین سنگم اور عقل و معرفت کا حسین امتزاج تھے۔ قدرت نے ان کو بیک وقت علمِ دین، دور اندیشی، تدریسی ذوق، مطالعاتی شوق، فراست و دانائی، حکمت و پارسائی، وسیع المشربی، بالغ نظری اور بیدار مغزی سے بھی نوازا تھا، اور سوزِ قلب، نورِ باطن، فہم و فراست، سیماب وش تڑپ، دینی حمیت اور اسلامی غیرت سے بھی۔ سوزِ باطن اور کیف و مستی اور والہیت و فناء ہستی نے کبھی ان کو اپنے ماحول اور واقعی حالات سے غافل نہ کیا۔ حکمت و فراست، دانائی و پارسائی، فریضۂ ہدایت اور امت کی رہنمائی کبھی بھی ان کی رسمِ درویشی سے آزاد نہ ہو سکی۔

مجھے زندگی میں دو مرتبہ حضرت رحمہ اللہ کی زیارت و ملاقات اور چند لمحے ان کی محبت میں گزارنے اور روحانی کسبِ فیض کی سعادت حاصل ہوئی۔ تب میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا، موصوف تصوف کے سلسلہ میں مروجہ رسوم سے دور تھے۔ وہ طریقت و شریعت کی خود بھی پابندی کرتے تھے اور منتسبین سے بھی پابندی کی تاکید کرتے تھے۔ میں نے سنا ارشاد فرمایا: ’’اتباعِ سنت ہی سب سے بڑی کرامت ہے، لوگ کشف و کرامات دیکھتے ہیں، حالانکہ دیکھنے کی چیز تو شریعت پر استقامت، اس کی محبت کا فیض اور متعلقین پر اس کے اثرات ہیں‘‘۔

مشاہدات و کرامات کی آپ کے یہاں کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ قلب میں حبِ الٰہی، ماسوی اللہ سے کٹنا اور خدا کی ذات و صفات کا استحضار سب سے زیادہ اہم ہے۔ وہ رسمی اذکار اور ان کی ظاہری لذتوں کو بھی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ وہ خود بھی اور اپنے متعلقین کو بھی تعلق مع اللہ کا حکم دیتے اور یہ بھی فرماتے: ’’بہت سے ذاکرین کا اللہ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا‘‘۔ حضرت رحمہ اللہ فرماتے: ’’شیخ وہ ہے جو شریعت کا پابند ہو، عبادات اور معاملات میں درست ہو، جس کی صحبت سے خدا یاد آ جائے اور دنیا کی محبت کم ہو‘‘۔ فرماتے: ’’میں یہ نہیں کہتا کہ ہر ایک تارک الدنیا ہو کر مسجد میں بیٹھ جائے، بلکہ کہتا ہوں کہ اپنی دنیا کی اصلاح کرو اور آخرت کے لیے نیک عمل کرو‘‘۔

احقر نے حضرت کے ارشادات، مواعظ، خطبات اور بیانات پڑھے ہیں، وہ تصوف کے دقیق اور لطیف مسائل کی تعلیم نہیں دیتے تھے، بلکہ ہر آدمی کے حالات اور صلاحیت کے پیش نظر اسباق و اذکار اور اوراد کی تلقین و تربیت فرماتے تھے۔ ’’وحدۃ الوجود‘‘، ’’وحدۃ الشہود‘‘ اور ’’تصورِ شیخ‘‘ قسم کے مسائل میں نہ پڑتے اور ان مباحث میں نہ الجھنے کی تاکید و تلقین فرماتے۔

طبیعت میں ذوق و نفاست تھی، طبیعت سادہ اور بے تکلف تھی مگر خوش پوش اور خوش وضع تھے۔ دینی مدرسہ، درس و تدریس، جامعہ کے انتظام و انصرام اور خانقاہی نظام کے قیام و استحکام کے ساتھ ساتھ ان کے اندر زمانہ شناسی اور حالات کی آگہی بھی تھی۔

وہ اپنے رب کی لذتِ آشنائی سے کما حقہ بہرہ ور تھے، من و تو کے حجابات اٹھ گئے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ’’میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے‘‘ جیسی قابلِ رشک و قابلِ فخر کیفیات سے ظاہر مزین اور باطن منور تھا۔

حضرت مولانا کے ہاں حاضری کے ایک موقع پر ان کی اصاغر نوازی، علم پروری اور اکرامِ ضیف کا منظر دیدنی تھا۔ انہوں نے معہد کے مشائخ و اساتذہ طلبہ کو اکٹھا کر کے میرا بیان کرایا۔ میں جتنی دیر معہد میں رہا حضرت کی شخصیت کا مطالعہ کرتا رہا۔ مولانا مرحوم بلاشبہ ایسی ہی ایک شخصیت تھے کہ لحظہ بھر کے تأمل کے بغیر انہیں وہ ’’درویشِ خدا مست‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے جو کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتا ہے اور آفاتِ سماویہ و عذابِ الٰہی سے بچاؤ کا ذریعہ، کیونکہ وہ تو سراپا رُشد و ہدایت تھے، وہ ایک مردِ قلندر اور رجلِ رشید تھے۔ اپنے اعمالِ حسنہ کی وجہ سے ایک ولی اللہ، ایک منیب الی اللہ اور سرتاجِ عباد اللہ کہلانے کے سزاوار تھے۔

کہتے ہیں نام شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، والدین نے جس لمحے ان کا نام ’’محمد یحییٰ‘‘ تجویز کیا ہوگا یقیناً وہ لمحۂ حیات علم و عمل، فروغِ اسلام اور ترویجِ رشد و ہدایت سے منسوب ہوگا، جبھی تو اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے وہ ’’حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی‘‘ بنے، پھر اس سفرِ علم و عمل اور صراطِ رُشد و ہدایت پر کچھ یوں سبک رفتار رہے کہ اولیاء، صلحاء اور علماء کی منزل ان کے مساعی کا اصل ہدف بن گئی۔

اشاعتِ دین کی مساعی جمیلہ:
مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ علم و عمل اور گلشنِ رُشد و ہدایت کے مکین ہی نہیں بنے رہے، گو کہ ان کا مستقل پڑاؤ یہیں رہا، لیکن جہالت سے علم تک، ظاہر سے باطن تک اور ظلمات سے نور تک ان کا سفر بالالتزام جاری رہا، اس لیے کہ انہیں اپنے ابناء کو بھی، روحانی اولاد کو بھی، متوسلین و مخلصین اور عامۃ المسلمین کو بھی اسی منزل تک لے جانا تھا۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ ان کا قائم فرمودہ معہد مینارۂ نور و ہدایت بن کر پورے عالم میں علوم و معارف کی روشنی پھیلا رہا ہے، ان کے برخورداران مہتمم بن کر، مدرس بن کر، ناشر بن کر، ادیب بن کر، خطیب بن کر، منتظم بن کر، استاذ بن کر اور خادم بن کر، شب و روز خدمتِ علم اور فروغِ ہدایت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ ایک سچے مومن، ایک عظیم داعی، ایک رہبرِ شریعت، ایک پیرِ طریقت کی صورت میں ان کے لیے بھلا یہ کیوں کر ممکن تھا کہ وہ خود تو نور کی کرنوں سے اپنے وجود کو منور کیے رکھیں جبکہ ان کے اردگرد بسنے والے جیتے جاگتے زندہ وجود اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھریں، ان کا اپنا دامن تو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک رہے، لیکن ان کے مسلمان بھائی گناہوں سے اپنے دامن کو آلودہ کرتے رہیں۔ بہرحال ان کی ہر ادا، فکر و عمل اور کردار کا ہر زاویہ قابلِ رشک بھی تھا اور قابلِ تقلید بھی۔

دو برس قبل بھیانک سیلاب کے موقع پر نوشہرہ میں بھی اچانک ان کی طرف سے بروقت امداد پہنچی، اس وقت تک نہ تو میری ملاقات تھی اور نہ قریب سے زیارت کی سعادت کا شرف حاصل ہوا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ ان کا لگایا ہوا گلشن آباد ہے، ان کی صالح اولاد درس و تدریس، اہتمام و انصرام اور دعوت و تبلیغِ دین میں مصروف ہے۔ وہ ساری بہاریں دیکھ کر رخصت ہوئے۔ احقر نے حضرت کے حکم پر معہد میں تقریر کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ساحر لدھیانوی رحمہ اللہ نے کہا تھا:
ملیں اس لیے تاروں کی ڈھیر بنتی ہیں      کہ دخترانِ وطن تار تار کو ترسیں
امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ نے اس میں ترمیم کی اور کہا:

چمن کو اس لیے مالی نے خوں سے سینچا تھا      کہ اس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں

مگر مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی نگاہوں نے علم، عمل، دعوت و تبلیغ، تصوف، معہد، نسبی اولاد اور روحانی اولاد کی دینی خدمات کے حوالے سے بہاریں ہی بہاریں دیکھیں اور خدا کی بارگاہ میں سرخرو حاضر ہوئے۔

ہم حضرت رحمہ اللہ کے صاحبزادوں شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف مدنی صاحب، مولانا محمد اسماعیل صاحب اور تمام برخورداران کے ساتھ سانحۂ غم میں برابر کے شریک، تعزیت کناں بلکہ خود تعزیت کے مستحق ہیں۔ اللہ کریم مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ مرحمت فرمائے۔ آمین۔