اِک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
از: حضرت مولانا مفتی زر ولی خان صاحب رحمہ اللہ
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اِک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
آہ! محترم و مکرم، رفیقِ دیرینہ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ؛ جامعہ معہد الخلیل کے بانی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ کے عزیزِ جان خلیفہ اور کئی اہم مہم میدانوں کے رکنِ رکین سفرِ آخرت فرما گئے۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔
مولانا اس عاجز سے تعلیمات میں چار پانچ سال متقدم تھے۔ ان کے دورۂ حدیث کا سال اور رفیقِ محترم حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ اور حضرت مولانا مفتی جمیل خان شہید کا ایک ہی تھا، غالباً یہ ۱۹۷۳ء تھا جو ۱۹۷۴ء میں جا کر مکمل ہوا۔ مولانا یحییٰ صاحب رحمہ اللہ بڑی عمر میں تحصیلِ علوم فرما رہے تھے۔ آپ اساتذہ کے چہیتے اور خوب منظورِ نظر تھے۔ عزیزم جمیل خان سے خاص قسم کا دوستانہ تھا اور محدثِ ہند مہاجر مدنی شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا سہارنپوری رحمہ اللہ کے خلیفۂ ارادت بن چکے تھے۔
طالبعلمی کے زمانے سے آپ کا تقویٰ، طہارت اور اکرامِ اساتذہ اور طلباء کے لیے آپ کی طرف سے بیش بہا کتابوں کے تحائف خوب پیش کیے جاتے جو آپ کا بہت بڑا صدقۂ جاریہ ہے۔ آپ نے اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر معہد الخلیل الاسلامی عالمگیر روڈ (بہادرآباد) کی تأسیس اور تعمیر و تعلیم فرمائی۔ آپ اساتذہ اور طلباء بلکہ تمام متعلقینِ علم و عمل کے ساتھ تقویٰ کے اوصاف سے آراستہ ہوئے تھے۔ آپ کی زندگی بڑی جامع اور خوب منور و معطر تھی۔
حرمین شریفین کی حاضری اور اسلاف کی فیضیابی اور پورے عالم کے علمائے ربانیین، اولیائے عارفین اور توحید و سنت کے دیگر محسنین کے ساتھ آپ کے روابط دیدنی تھے۔ آپ کی ہشت جہت زندگی ایک یادگارِ اسلاف اور مفخرِ اخلاف تھی۔ اللہ تعالیٰ مغفرتِ کاملہ نصیب فرمائے اور جنت الفردوس کے اعلیٰ مقامات میں اپنے اکابر و اسلاف کے ساتھ جمع فرمائے۔ آمین۔