مضامین

یہی کچھ ہیں ان کی کرامت کی باتیں

مولوی احمد بلال
متعلم دورۂ حدیث

حضرت والا رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی صحبت میں گزارے اور ان کو خوب وصول کیا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی زندگی میں اپنے اسلاف و اکابرین کی صحبت کی روح ہر وقت پھڑکتی رہتی۔ آپ اپنے اسلاف و اکابر سے بے پناہ محبت رکھتے اور انہی کی طرح اپنی زندگی کے شب و روز گزارتے۔ آپ کا ہر کام سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہوتا حتیٰ کہ آپ کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا اتباعِ سنت تھا۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی سنت ہی کیوں نہ ہوتی اس پر عمل کی کوشش رہتی، حتیٰ کہ حمام جاتے تو مکمل سنت کے طریقہ کو اختیار فرماتے پھر تشریف لے جاتے۔ بندہ نے حضرت والا کو کبھی بغیر ٹوپی کے حمام جاتے نہیں دیکھا۔ جب کبھی حضرت کی خدمت کے دوران حضرت والا کو قمیص پہناتا یا اتارتا اور غفلت کی بنا پر کبھی اگر خلافِ سنت طریقہ ہو جاتا تو بہت ناگواری کا اظہار فرماتے کہ ’’بیٹا! سنت میں ہی کامیابی ہے، احتیاط کیا کرو‘‘۔ لوگ بزرگوں کو کرامت کے ترازو میں تولتے ہیں اور اس سے متاثر ہوتے ہیں کہ فلاں بزرگ ہواؤں میں اڑتا ہے، فلاں کو کشف و مکاشفہ زیادہ ہوتا ہے جو کہ بزرگی کی علامت نہیں، اصل بزرگی کی علامت اتباعِ سنت ہے اور بندہ نے بھی حضرت والا کی زندگی میں جو کرامت دیکھی وہ یہی اتباعِ سنت تھا:
ہواؤں پہ اڑنا نہ پانی پہ چلنا      شریعت و سنت کے سانچے میں ڈھلنا

عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ جب حجاز تشریف لے جاتے یا کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو وہاں اپنے دوست، احباب، متعلقین چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اس سے ملاقات کے لیے ازخود تشریف لے جاتے اور فرماتے کہ ’’کیا پتہ ان لوگوں کی زیارت سے اور ان کی دعاؤں سے میرا انجام بخیر ہو جائے‘‘۔

آپ اپنے اسلاف و اکابر سے اس حد تک محبت و عقیدت رکھتے تھے کہ اگر کوئی چھوٹا اکابر میں سے کسی کی نسبت سے ملتا تو اس کی بھی اتنی ہی تعظیم کرتے گویا کہ حقیقتاً اس کے منسوبِ اکابر کی کر رہے ہوں۔ حضرت والا کا مزاج و عادات بالکل اپنے اکابر کے طرز کا تھا۔ سادگی پسند، اصول پسندی، اخلاص و للہیت، ہر وقت فکرِ آخرت، ہر وقت انجامِ خیر کی فکر کہ ایمان پر موت آ جائے (الحمدللہ! آخری وقت ذکرِ الٰہی کرتے ہوئے تشریف لے گئے)۔

ہر وقت نماز کی فکر رہتی، حتیٰ کہ اگر کسی سفر پر جانے کا ارادہ ہوتا تو ایک ماہ قبل ہی سے اس دن کی نمازوں کی فکر ہو جاتی، نقشہ منگواتے کہ وقت کب داخل ہوگا؟ نماز ایئرپورٹ پر پڑھنی ہے یا جہاز میں یا منزل پر پہنچ کر؟ یعنی نماز فوت نہ ہو، اس کی ادائیگی بروقت ہو جائے، اس کی فکر رہتی، عام زندگی میں بھی جماعت کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا معمول رہا۔ ایک مرتبہ اس عاجز سے ارشاد فرمایا کہ ’’بیٹا! عمرہ کے سفر کا ارادہ ہے ان تاریخوں میں ٹکٹ دیکھو کس وقت کا ہے، نماز کا خیال رہے‘‘۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا: ’’بیٹا! خیال رکھنا عمرہ نفل ہے اور نماز فرض، اور عمرہ جو کہ نفل ہے اس کی وجہ سے نماز فوت نہ ہو جائے‘‘۔

ایک مرتبہ جب یہ عاجز درجہ ثالثہ کا طالب علم تھا، بعد نمازِ فجر بندہ مدرسے کے لیے حاضر ہوا تو حضرت والا کو حسبِ معمول مسجد میں ہی پایا۔ مگر اس دن تو نوعیت مختلف تھی کیونکہ اکثر حضرت یا تو نمازِ اشراق میں مصروف ہوتے یا ذکر فرما رہے ہوتے مگر اس دن حضرت مسجد و مدرسہ کے چوکیداروں و خدام کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے اور بعد میں فرمایا کہ یہ بیچارے سارا دن خدمت کرتے ہیں ان کا خیال رکھنا ہمارے ذمہ ہے۔ ان کو خیال نہ ہو کہ ہم کمتر ہیں، بلکہ ہم سب ہی دین کے خادم ہیں، بس کام جدا جدا ہے۔

مرضِ الموفات میں بھی بعد نمازِ مغرب مدرسہ کے ایک قاری صاحب عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ نے اس عاجز سے کہا کہ ’’بیٹا! کچھ پیسے دو‘‘۔ بندہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دیے، خیال یہ تھا کہ شاید کچھ منگوانے کی طبیعت ہوگی مگر آپ نے وہ پیسے قاری صاحب کو ہدیہً دے دیے۔ قاری صاحب کے جانے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’بیٹا! یہ وقت تو خرچ کرنے کا ہے۔ اس وقت میں بھی مال رکھ کر کیا کریں گے‘‘۔ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی مدرسہ کے متعلقین میں سے سفر پر جاتا تو اس کو کچھ ہدیہ وغیرہ دیتے، اور کچھ رقم دیتے کہ راستے میں خرچ کر لینا۔ اللہ تعالیٰ حضرت والا کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں حضرت والا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یہی کچھ ہیں ان کی کرامت کی باتیں

مولوی احمد بلال
متعلم دورۂ حدیث