حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی حیات طیبہ کے چند روشن پہلو!
صاحبزادہ مفتی محمد مدنی
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے وصال کو تقریباً ایک سال ہونے کو ہے لیکن یہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا کہ حضرت حیات ہیں، ہمارے درمیان موجود ہیں، بس وقتی سفر کی وجہ سے یہاں سامنے نہیں۔ حضرت رحمہ اللہ کا نظم و ضبط اس قدر مؤثر اور مضبوط تھا اور آپ اپنی ذات کے اعتبار سے اولاً خود پابند اور پھر اپنے متعلقین خصوصاً ذمہ دارانِ مدرسہ کو اس کا اتنا پابند کر گئے ہیں کہ اب حضرت کے منہج پر چلنا ایسا ہی آسان ہے جیسا کہ حضرت کی زندگی میں تھا۔ حضرت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کا مقولہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ سے متعدد بار سنا کہ ’’اللہ تعالیٰ مجھے جو وقت عطا فرمائے گا تو سب سے پہلے میں اپنے وقت کو تعلیم و تعلم میں لگائوں گا، اس سے جو وقت بچے گا اُسے میں اصلاحِ باطن اور اللہ کے ذکر میں خرچ کروں گا اور پھر جو وقت ملے گا اسے میں تبلیغ کے لیے وقف کروں گا‘‘۔
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد رکھنے کے بعد اپنی صحت، جوانی، مال و وقت سب کچھ اسی میں کھپا دیا تھا۔ شروع میں تدریس کے ساتھ مطبخ، رسالہ سلوک و احسان کے مضامین کی تصحیح اور طباعت سے لے کر اس کو پوسٹ کرنے تک اور مدرسے کے تمام انتظامی کام والد صاحب رحمہ اللہ بذاتِ خود ہی انجام دیا کرتے تھے۔ بارہا یہ جملہ آپ سے سنا کہ ’’اگر پڑھنے پڑھانے کا ارادہ رکھتے ہو تو پھر دونوں پائوں گھٹنوں تک کاٹنے پڑیں گے، تاکہ کہیں آنے جانے کا سلسلہ نہ رہے اور آدمی ہمہ وقت درس وتدریس اور اس کی فکر اور سوچ میں لگا رہے‘‘۔ اسی بنا پر حضرت والد صاحب رحمہ اللہ حج وعمرے کے علاوہ اسفار بالکل نہیں فرمایا کرتے تھے، میل جول بھی بہت کم رکھتے، زیادہ تر مدرسے کے کاموں میں مصروف اور ہر معاملے کی بنفسِ نفیس نگرانی فرماتے رہتے۔ ایک بزرگ کا مقولہ خوب یاد ہے کہ ’’دنیا میں سات براعظم ہیں اور آٹھواں براعظم آپ کا معہد الخلیل ہے، جہاں آپ کو باہر کی کوئی خبر نہیں‘‘۔
زندگی کے آخری چند سالوں میں حضرت نے ملک کے مختلف شہروں کے اسفار بھی فرمائے اور وہاں کے بعض مدارس دار العلوم زکریا اسلام آباد، مدرسہ احسان القرآن والعلوم النبویہ لاہور، جامعہ دار القرآن فیصل آباد، جامعہ خیر المدارس ملتان اور جامعہ اشرفیہ لاہور وغیرہ میں کچھ وقت قیام بھی فرمایا۔ ان اداروں میں حضرت رحمہ اللہ نے جو جو باتیں اپنے ادارے کے لیے بہتر سمجھیں انہیں نوٹ فرمایا اور انہیں اپنے ادارے میں تنفیذ کے لیے مشورہ بھی فرمایا۔
حضرت رحمہ اللہ آخری عمر تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے اور آخری چند سالوں سے سنن ابی دائود شریف ’’کتاب الادب‘‘ سے آخر تک بنین میں اور مدرسہ بنات میں بھی ابو دائود کے منتخب ابواب علالت، مستقل مصروفیت اور دیگر اعذار کے باوجود بھی پڑھاتے رہے۔ اس کے لیے ’’بذل المجہود‘‘ کا مطالعہ بڑے ہی اہتمام سے فرماتے، اکثر فرماتے کہ ’’بذل المجہود کی فلاں جلد لے آنا‘‘۔ جب گھر پر ہوتے تو مغرب اور عشاء کے بعد گھر میں اس کے مطالعے کا معمول تھا، کبھی کبھار کوئی مہمان آجاتا یا مدرسہ یا گھر کی کوئی مصروفیت مطالعہ میں مخل ہوتی تو بڑے ہی دلنشیں انداز سے فرماتے: ’’لِكُلِّ شَيْءٍ آفَةٌ وَلِلْعِلْمِ آفاتٌ‘‘ لفظ آفات کو خاص انداز سے کھینچ کر فرماتے۔
ہم نے حضرت رحمہ اللہ سے زاد الطالبین، ثالثہ سے خامسہ تک قرآن مجید کی مکمل تفسیر، شمائل ترمذی، سنن نسائی اور ابن ماجہ پڑھیں۔ جب مدرسے میں طلبہ کی تعداد تھوڑی تھی اور تعلیم مسجد ہی کے صحن میں ہوتی تھی، اس وقت والد صاحب رحمہ اللہ مسجد کے ایک کونے میں اپنی تپائی رکھ کر وہیں تشریف فرما رہتے پھر تعداد بڑھنے کی وجہ سے جب درسگاہیں بن گئیں تو نگرانی کی خاطر ہر درس گاہ میں شیشہ لگوایا۔ آپ ہمہ وقت مدرسے کے نظم و ضبط کی اصلاح میں محوِ فکر رہتے۔ کبھی کبھار فرماتے کہ میری خواہش ہے کہ ایک کھلی جگہ ہو اور اس میں مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی کی طرح تمام درجات کے طلبہ کو حلقوں کی شکل میں بٹھایا جائے۔
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے پرانے دوست، تبلیغی ساتھی اور مدینہ منورہ کے قیام میں ملنے جلنے والے آخری عمر میں جب والد صاحب سے ملتے تو ضعف و کمزوری کی وجہ سے آپ کو پہچان نہ پاتے۔ حلقۂ احباب میں پرانے واقعات اور تذکروں کا جب ذکر چھڑ جاتا تو ہم بھی خوب محظوظ ہوتے اور والد صاحب کے مجاہدات، اکابر کے یہاں آپ کی قدر و منزلت کا سن کر حیرت ہوتی۔ والد صاحب رحمہ اللہ کی خواہش رہتی کہ مدرسہ میں اہلِ قلوب کی آمد رہے اور جب بھی کسی اللہ والے کی مدرسے میں تشریف آوری ہوتی تو ان سے طلبہ و طالبات میں بیان کرواتے، خود بھی اہتمام سے اس میں شریک ہوتے اور فرماتے: ’’کسی دنیاوی ادارے کے بڑے عہدیدار کے آنے سے اس قدر خوشی نہیں ہوتی جتنی کسی اللہ والے صاحبِ نسبت بزرگ کی آمد سے ہوتی ہے‘‘۔ بسا اوقات صاحبِ نسبت بزرگوں سے ماہانہ آخری جمعرات کی مجلس میں بیان کے لیے وقت لیتے۔ معہد الخلیل میں حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی، حضرت مولانا فقیر محمد اور حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی رحمهم اللہ جیسی بزرگ شخصیات کی تشریف آوری ہوئی اور انہی سے مدرسے کی ابتداء کرائی۔
حضرت کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ معہد الخلیل کا ہر طالبعلم رسوخ فی العلم اور تعلق مع اللہ میں ممتاز ہو۔ بارہا یہ بات نقل فرماتے کہ ’’دار العلوم دیوبند میں ایک وقت ایسا گزرا ہے کہ وہاں کا ہر فرد چپراسی سے لے کر مہتمم تک صاحبِ نسبت ہوا کرتا تھا‘‘۔ یہ جملہ ہم نے بارہا فرماتے ہوئے سنا کہ ’’فَأَيُّ قَرْيَةٍ بَعْدَهَا؟‘‘ (مدرسہ کے احاطے کے بعد اصلاح طلبی کی کونسی بستی ہے؟) اسی طرح فرماتے: ’’فَلَا تَلُومُنَّ إِلَّا أَنْفُسَكُمْ‘‘ (آج اصلاح نہ کرنے کی صورت میں آئندہ کبھی اصلاح نہ ہوئی تو پھر خود کو ہی ملامت کرنا)۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا یہ جملہ بھی سناتے تھے کہ کسی نے کہا: حضرت! آپ کا فائدہ عام نہیں؟ حضرت نے فرمایا: ’’عام نہیں، لیکن تام ضرور ہے‘‘ (یعنی جس کو ہوتا ہے مکمل فائدہ ہوتا ہے)۔ طلبہ کی کوئی شکایت یا کوئی نازیبا جملہ یا کوئی ناشائستہ حرکت حضرت کو معلوم ہوتی تو فوراً اصلاح ہوتی، عصر کی مجلس میں یا اس کے علاوہ جب بھی مناسب سمجھتے خوب درد سے بیان فرماتے اور سخت تنبیہ اور سرزنش فرماتےے۔
طلباء کو اپنی قدر پہچاننے کی بہت تاکید فرماتے اور اللہ کا شکر بجا لانے کے لیے مختلف واقعات اور مثالوں سے خوب سمجھاتے۔ مدرسہ کے خادمین اور دیگر حضرات سے تقابل فرماتے ہوئے فرماتے کہ ’’دیکھو! یہ خادمین بھی تمہاری طرح کے انسان ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں طالبعلم بنا کر دین کے پڑھنے کے لیے قبول فرما لیا‘‘۔ طلبہ کو خوب احساس دلاتے کہ ’’دیکھو! کسی بڑے سے بڑے تاجر کو بھی تمہاری طرح بروقت تازہ گرم گرم دوپہر کا کھانا اور اس کے بعد پھر پُرسکون دوپہر کا قیلولہ میسر نہیں۔ دنیا کے دھندوں میں مگن رہنے والے کبھی شام چار بجے کبھی عصر کے بعد کھانا کھا رہے ہیں۔ کیوں بھائی؟ اتنی دیر سے کھانا کھا رہے ہیں۔ جی ہاں! بھئی گاہک آئے ہوئے تھے۔ وہ تو یہ بھی کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ اتنے وقت سے بیت الخلاء جانے کا تقاضا تھا، لیکن کاروباری مصروفیت کی وجہ سے اُٹھ کر جانے کا وقت نہ مل سکا۔ طالبعلم ساتھیو! تم جس طرح شاہانہ زندگی میں ہو اس پر اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کا حق خوب خوب ادا کرو‘‘۔ خود کو حضرت نے ہمیشہ ایک طالبعلم سمجھا، اکثر مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ کا یہ ملفوظ سناتے کہ میری زندگی کا وہ منحوس ترین دن ہوگا جب میں اپنے آپ کو طالبعلم نہ سمجھوں۔