حضرت مولانا سہیل الرحمن صاحب دامت بركاتہم العالیہ
(خواہر زادہ حضرت والا رحمہ اللہ، استاذ الحدیث جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)
احقر کا سنِ ولادت ۱۹۶۶ء بمطابق ۱۳۸۶ھ ہے۔ لدھیانہ برادری سے تعلق ہے۔ مکی مسجد اور ریاض مسجد میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ جبکہ درسِ نظامی کی مکمل تعلیم جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی۔ ۱۴۰۳ھ میں حضرت اقدس رحمہ اللہ سے جامعہ بنوری ٹاؤن میں درجہ اولیٰ کے سال ’’الطریقۃ العصریۃ‘‘ پڑھی۔ اس سے اگلے سال نور الایضاح اور مختصر القدوری پڑھی۔ ۱۴۰۶ھ میں درجہ رابعہ کے سال حضرت اقدس رحمہ اللہ کے دامنِ اصلاح سے وابستگی کا شرف حاصل ہوا جو کہ حضرت رحمہ اللہ کے وصال تک قائم رہا۔ دو بار سفرِ عمرہ میں حضرت رحمہ اللہ کی معیت حاصل رہی۔
مدینہ منورہ میں تو حضرت رحمہ اللہ کے اندر کرنٹ کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ باوجود ضعف و نقاہت کے کھڑے ہو کر نماز ادا فرماتے، اہلِ مدینہ پر عطایا کی بارش فرماتے۔ خرچ کرنے میں حضرت حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ کا مصداق تھے۔ حضرت رحمہ اللہ کے یہاں معاملات کی صفائی اور معمولات کی پابندی کا بہت اہتمام تھا۔ مسجد الخلیل کی تأسیس سے قبل عالمگیر مسجد میں رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف بھی ایک حسین یاد ہے۔ تراویح میں متعدد حفاظ سے سحری تک دس پارے سنا کرتے تھے۔
১৪۲۷ھ میں ذوالقعدہ کی آخری جمعرات کو بعد از مغرب حضرت نے معہد الخلیل میں اجازت مرحمت فرمائی۔ احقر معہد کی مسجد میں نمازِ مغرب و عشاء میں امامت جبکہ معہد ہی میں دورۂ حدیث سمیت دیگر درجات میں کتبِ تدریس کی خدمت پر مامور ہے۔
حضرت مولانا سہیل الرحمن صاحب
استاذ الحدیث جامعہ معہد الخلیل الاسلامی