مضامین

حضرت مولانا میاں غلام مصطفی صاحب

(مہتممِ مدرسہ زکریا گڑھی حبیب اللہ)

احقر کی ولادت ۱۵ جولائی ۱۹۶۱ء میں ہوئی۔ جائے پیدائش حلقہ ڈیریاں تحصیل بالاکوٹ ضلع مانسہرہ ہزارہ ہے۔ کھٹانہ خاندان میں سے میاں جمال الدین ولی رحمہ اللہ کی اولاد ’’جمالی‘‘ برادری سے تعلق ہے۔ اپنی جائے پیدائش ڈیریاں میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ بالاکوٹ ہائی اسکول سے میٹرک تک تعلیم پائی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مدارس میں قرآن مجید حفظ کیا اور قرأت سیکھی۔ درسِ نظامی کی تعلیم از اول تا آخر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی۔

جامعہ بنوری ٹاؤن میں حضرت رحمہ اللہ سے درجہ اولیٰ کے سال ’’الطریقۃ العصریۃ‘‘ جبکہ اس سے اگلے سال نور الایضاح اور مختصر القدوری پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ معہد الخلیل کی تأسیس کے بعد جب حضرت نے وہاں مجالسِ ذکر و اصلاح کا آغاز فرمایا تو ان مجالس میں بھی حاضری کی توفیق ملتی رہی۔ بروز جمعہ بعد از عصر جامعہ بنوری ٹاؤن میں ہونے والی مجلسِ ذکر میں بھی حضرت کی زیارت ہوا کرتی تھی۔

احقر حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ سے بیعت تھا اور تادمِ تحریر انہی کے معمولات پر پابند ہے۔ ماہِ جون ۲۰۰۵ء میں حضرت اقدس رحمہ اللہ گڑھی حبیب اللہ میں مدرسہ زکریا تشریف لائے۔ ایک ہفتہ حضرت رحمہ اللہ کی قربت میں گزرا۔ حضرت نے احقر سے معمولات دریافت کیے۔ معمولات سے آگاہ کیا تو حضرت اقدس رحمہ اللہ نے اجازت مرحمت فرمادی۔ اس کے بعد حضرت رحمہ اللہ کی بارہا زیارت بھی ہوتی رہی اور بذریعہ خط و کتابت بھی تعلق قائم رہا۔ حضرت رحمہ اللہ نے مجھے بیعت نہیں فرمایا، حضرت ٹونکی رحمہ اللہ کی سابقہ بیعت کو ہی برقرار رکھا۔

۱۹۹۰ء میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے فراغت کے بعد جامعہ کی طرف سے مشرقی افریقہ کے ایک ملک ماریشس میں بھیجا گیا۔ وہاں دو سال تدریس کی۔ اس کے بعد راولپنڈی اور آزاد کشمیر میں بھی تدریس کا موقع ملا۔ گڑھی حبیب اللہ میں واقع ایک دینی ادارے میں بھی تدریس سے وابستگی رہی۔

۲۰۰۰ء میں مدرسہ زکریا کے نام سے کرائے کے مکان میں ایک دینی درسگاہ کا آغاز کیا۔ ایک جامع مسجد میں خطابت سمیت آج کل مدرسہ زکریا میں تدریس اور انتظامی امور کی نگرانی احقر کے ذمہ ہے۔ الحمدللہ تمام نصابی کتب کی تدریس کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ آج کل شرح معانی الآثار اور سنن ابی داؤد کے سوا دورۂ حدیث کی تمام کتب اور مشکوٰۃ شریف کی جلد اول سمیت دیگر متعدد کتابیں زیرِ تدریس ہیں۔ روزانہ بعد از نمازِ فجر اور ہر پیر کو بعد از عصر مجلسِ ذکر کا اہتمام ہے۔ اللہ قبول فرمائے۔ آمین۔