مضامین

گیا کون اس جہاں سے کہ بدل گئیں فضائیں

صاحبزادہ مولانا محمد اسماعیل مدنی

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَا بَعْدَهُ، إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ؛ وَإِنَّا بِفِرَاقِ أَبِينَا الْكَرِيمِ وَشَيْخِنَا الْعَظِيمِ لَمَحْزُونُونَ۔

آہ! حضرت اقدس محبوب المشائخ پیاره والد ماجد رحمہ اللہ سے متعلق چند سطور لکھنا اس عاجز کے لیے دنیا کا سب سے مشکل کام ہو گا، اس کا اندازہ پہلے نہ تھا۔ آج حضرت کے وصالِ پُر ملال کو ایک سال گزر چکا ہے، مگر زخم ہے کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لیتا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اسی وقت یہ سانحہ پیش آیا ہے، اب بھی حضرت والد صاحب کی یاد آ آ کر دلِ مضطرب کو تڑپا رہی ہے، حضرت کے نام کے آگے ’’أدام اللّٰہ ظلہ علینا‘‘ کے بجائے رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ رَحْمَةً وَاسِعَةً لکھنے کے لیے دل ودماغ تیار نہیں، قلم کپکپا رہا ہے اور آنسو ہیں کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اب تک یہی محسوس ہوتا ہے کہ حضرت حج یا عمرہ کے سفر پر گئے ہیں اور بس آیا ہی چاہتے ہیں۔

حضرت اقدس رحمہ اللہ اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھے۔ باغ و بہار، پُرکشش، جاذب، سادہ اور بارعب شخصیت کے مالک تھے، انہوں نے ایک کامیاب زندگی گزاری اور اپنی آخرت کے لیے بہت کچھ جمع کر گئے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے کماحقہ ان کی قدر نہ کی۔ اب ان کی ایک ایک نصیحت، ایک ایک ادا، شفقت ومحبت کا برتائو، مادّی و معنوی احسانات یاد آکر ان کی کمی کا احساس دلاتے ہیں۔ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کی مسجد، خانقاہ، دفتر اور گھر حضرت کی شخصیت کے بغیر بے رونق محسوس ہوتے ہیں۔

نفیس کیسا یہ وقت آیا سلوک و احساں کے سلسلوں پر
جہاں مشائخ کی رونقیں تھیں، وہ خانقاہیں ترس رہی ہیں

حضرت کے بارے میں مجھ گناہگار، سیہ کار کا کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔ البتہ دل چاہتا ہے کہ آپ کی کچھ کرامات اور اللہ تعالیٰ کے آپ پر ہونے والے چند خصوصی انعامات کا مختصر تذکرہ سپردِ قرطاس کر دوں:

• اللہ تعالیٰ نے حضرت کو نوجوانی میں ہی صلحاء و اتقیاء سے تعلق عطا فرما دیا تھا، چنانچہ اسی نسبت نے گہرا اثر دکھایا اور علمِ دین کے حصول میں مہارت و پختگی کے ساتھ ساتھ اصلاحی و روحانی میدان میں بھی حضرت نے وافر حصہ پایا۔ کئی نامور علماء وصلحاء آپ کے شاگردِ رشید اور روحانی میدان میں آپ سے بیعت تھے، اللہ کی معرفت و تعلق کو حاصل کرتے تھے۔

جس قلب کی گرمی نے دل پھونک دیے لاکھوں
اس قلب میں یا اللہ! کیا آگ بھری ہوگی

• عاجز نے ساری زندگی حضرت کو سفر، حضر میں نمازِ باجماعت تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ اور طویل ذکر جہری کا اہتمام کرتے ہوئے پایا۔ بچپن میں رات کو تہجد کے وقت جب کبھی آنکھ کھلتی تو الا اللہ اور لا الٰہ الا اللہ کی ضربیں کانوں میں پڑتی تھیں، اس کی حلاوت اب تک محسوس ہوتی ہے۔ اپنے بچوں، متعلقین، محبین کو بھی خصوصیت سے اس کی ترغیب فرماتے، بلکہ کوئی بھی شخص ان دو چیزوں کی پابندی کرنے سے حضرت کا خاص قرب بآسانی حاصل کر سکتا تھا۔

• تربیت کے معاملے میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کے طرز پر چلتے ہوئے متعلقین اور اولاد پر خوب نگاہ رکھتے تھے اور ذرا سی کوتاہی پر خوب تنبیہ فرماتے۔ بسا اوقات زجر و توبیخ سے کام لیتے، لیکن ساتھ ہی کچھ دیر بعد شفقت اور احسان کا معاملہ بھی فرما دیتے، تاکہ سامنے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ ڈانٹ ڈپٹ اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اصلاحِ نفس کے لیے ہے۔ ڈانٹتے وقت بغور نظر بھی رکھتے کہ اس کے چہرے کے تاثرات اور دلی کیفیات کیا ہیں۔ مدرسہ یا مجمع میں اولاد یا خاص خدام کو فوقیت نہ دیتے، ہر طرح برابری کو پسند فرماتے تھے، بلکہ ان پر نسبتاً زیادہ کڑی نظر رکھتے تھے، کسی سے زیادہ میل جول اور بے تکلفی سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’میں اس شیخ کا مرید ہوں جو اڑتی چڑیا کے پَر گن لیتے تھے‘‘۔

• اللہ تعالیٰ نے خوب بَلا کا حافظہ عنایت فرمایا تھا، ہر بات کو یاد رکھنا اور اس کو بر محل، برموقع کہنا حضرت کی امتیازی شان تھی۔ انتہائی مردم شناس تھے، آدمی کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں پہچان لیتے، ساتھ ساتھ ہر کسی سے اس کے مرتبے، منصب کے مطابق گفتگو کیا کرتے۔ طلبہ کی مجلس میں طلبہ کی ذہن سازی ان کی سطح کے مطابق فرماتے، معاً کوئی بزرگ اللہ والے آجاتے تو آپ کی گفتگو ایسی عالمانہ اور مدبرانہ ہوتی کہ سننے والے دنگ رہ جاتے۔ بڑے بڑے دانشور، وکیل، انجینئر، ڈاکٹرز، اساتذہ، طلبہ، خدامِ مدرسہ وغیرہ سے ایک ہی مجلس میں ایک ہی وقت ان کے مزاج اور مرتبہ کے مطابق گفتگو کرتے۔

• اللہ تعالیٰ نے حضرت کو ’’مقامِ محبوبیت‘‘ عطا فرمایا تھا جو کہ یقینا ایمان اور اعمالِ صالحہ ہی سے ملتا ہے۔ بڑے بڑے علماء، صلحاء، اتقیاء، اللہ والوں اور عوام الناس کے دلوں میں حضرت کی ایسی محبت دیکھی کہ اس کو لکھا نہیں جا سکتا۔ وصال کے بعد بھی آج تک جس نے بھی حضرت کو یاد کیا ’’تذکرۂ خیر‘‘ ہی اس کی زبان پر نکلا، ہر چھوٹا بڑا شخص نمناک آنکھوں اور دل کی گہرائیوں سے حضرت کی خوبیوں، اوصاف، نیک عادات اور آپ کے مادی و معنوی احسانات کو یاد کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بہت سے ایسے احباب اور علماء کو میں خود جانتا ہوں جنہوں نے حضرت کو بس ایک آدھ دفعہ دیکھا ہوگا بلکہ بعضوں نے تو دیکھا تک نہیں، لیکن حضرت کے لیے خوب دعائیں اور ایصالِ ثواب خود کرنا اور دوسروں سے کروانا ان کا معمول ہے، اور اس کو وہ اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ سانحۂ وصال کے فوری بعد حضرت کے لیے بلا مبالغہ ہزار سے زائد قرآن پاک ختم کیے گئے اور ایصالِ ثواب کا یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔

• ایک خاص بات یہ دیکھی کہ حضرت نے حق تعالیٰ سے جو کچھ مانگا وہ پالیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت کی کوئی دینی یا دنیاوی خواہش ایسی نہ ہوگی جو پوری نہ ہوگئی ہو۔ تمام اولاد کا عالم و حافظ ہونا کیا کم سعادت کی بات ہے؟ پھر اس پر ساری زندگی دین کی عالی خدمات کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینا، کھپا دینا یقینا حضرت پر اللہ کا خاص کرم ہے۔ دنیاوی اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ نے کسی کے سامنے دستِ سوال پھیلانے سے محفوظ رکھا۔

• بندہ نے حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کو سادگی، تواضع اور استغناء میں دوسروں پر فائق پایا۔ بسا اوقات مدرسہ کے خدام کے ساتھ معمولی چٹائی یا سادہ فرش پر بیٹھ کر کھانا نوش فرما لینے۔ تکلفات اور بناوٹ سے کوسوں دور تھے، چال ڈھال، لباس غرض ہر چیز سے سادگی چھلکتی تھی۔ احباب کے بار بار اصرار کے باوجود ساری زندگی اپنے کمرہ میں، مدرسہ کے دفتر اہتمام میں ایئر کنڈیشن لگانے کی اجازت نہ دی، گو شریعت میں یہ ممنوع اور حرام نہیں لیکن فرماتے کہ ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں خود تو A.C. میں آرام سے رہوں اور میرے دیگر اساتذہ و طلبہ سخت گرمی میں پڑھنے پڑھانے میں مصروف ہوں‘‘ اور طلبہ سے فرماتے کہ ’’جو ان تکلفات اور تعیشات کا عادی ہوگا اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی دیہات میں جا کر سخت گرمی میں دین کی خدمت کر سکے گا؟‘‘۔

• حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کو حرمین اور اہلِ حرمین سے بہت ہی عقیدت اور عشق و محبت تھی۔ ریاضت و مجاہدہ اور عبادتِ الٰہی میں انہماک حرمین شریفین کے سفر میں اتنا بڑھ جاتا تھا کہ جوان اور صحت مند لوگ بھی رشک کرتے رہ جاتے۔ بیماری اور بڑھاپے کے باوجود ایک ہی رات میں ۵، ۶ طواف کرنا اور بارہا مسجد نبوی میں مسلسل چالیس نمازوں کی باجماعت پابندی کرنا بندہ کو خوب یاد ہے۔ تلاوت، تسبیحات، درود شریف، نوافل اور دیگر عبادات اس کے علاوہ۔ سالہا سال سے حضرت کا معمول اہلِ مدینہ کو ہدایا و تحائف نقدی (ریال) کی صورت میں دینے کا معمول تھا۔ ہر سال حج کے سفر میں کئی احباب کے گھر میں آپ رحمہ اللہ اور حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دیگر کی طرف سے قربانی کرواتے۔ حضرت رحمہ اللہ کی معیت میں ایک حج اور عمرے کے چھ (۶) اسفار کرنے کا شرف بندہ کو حاصل رہا، خوب سیکھنے اور دعائیں سمیٹنے کا موقع ملا۔ حضرت کی حیات کے آخری سفر عمرہ میں ۱۵ یوم ساتھ رہا۔ اس دوران بندہ کو طائف اور مدینہ منورہ ساتھ چلنے کا حکم بھی دیا، مدینہ منورہ میں رہائش بندہ کی فاصلہ پر تھی خود فون کر کے روزانہ بلاتے۔

• حضرت رحمہ اللہ کی ساری زندگی ریاضت، مجاہدہ اور جہدِ مسلسل سے عبارت تھی۔ مدرسہ اور طالبانِ علومِ شرعیہ کی پیاس بجھانے، ان کی اصلاح و تربیت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ بندہ کو وہ زمانہ یاد ہے جب نمازِ فجر سے گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ قبل اندھیرے میں گھر سے مدرسہ آجاتے اور عشاء کے ایک، ڈیڑھ گھنٹہ بعد واپس جاتے۔ ساری زندگی مدرسہ سے مشاہرہ نہیں لیا، فی سبیل اللہ مدرسہ میں تدریس کرتے اور تن تنہا انتظامی معاملات چلاتے، ایک ہی وقت میں طلبہ کو تفسیر و حدیث اور فقہ کی تعلیم دیتے اور دوسرے ہی لمحے مدرسہ کی معمولی خدمت بھی اپنے ہاتھ سے انجام دیتے نظر آتے۔ مدرسہ کو اپنی زندگی کا نچوڑ اور ذریعۂ نجات سمجھتے تھے۔

• اکابر علمائے دیوبند اور روحانی سلسلہ کے بزرگوں خصوصاً اپنے شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ والہانہ عقیدت اور تعلق تھا اور برملا اس کا اظہار فرماتے۔ اختلافی مسائل میں ان کی رائے اور طرزِ عمل کو اپنے لیے قولِ فیصل سمجھتے، فرماتے کہ ’’کوئی پرواہ کی بات نہیں جو ان کا حشر ہو وہ میرا بھی ہو جائے‘‘۔ حضرت شیخ الحدیث، حضرت مولانا یوسف کاندھلوی، حضرت مولانا یوسف بنوری اور حضرت مفتی ولی حسن صاحب وغیرہم رحمهم اللہ کا حضرت والد صاحب رحمہ اللہ پر اعتماد اور بے تکلفی کے واقعات ہم نے خود کانوں سے سنے، یہ حضرت والد صاحب کے مُوَفَّق مِنَ اللَّهِ ہونے کی بَیِّن دلیل ہے۔ اس کی صرف ایک مثال لکھتا ہوں: حضرت بنوری رحمہ اللہ حضرت والد صاحب کی طرف دیکھ کر سبق پڑھاتے، کسی طالبعلم نے شکایت کی تو حضرت جلال میں آکر کہنے لگے: ’’میں تیرا نوکر ہوں؟ میں اسی کو دیکھ کر پڑھائوں گا‘‘۔

ویسے تو دین پر استقامت، برادری کے ماحول کو دینی بنانا، اپنے آپ اور اپنی اولاد و متعلقین کو دین کی خدمت کے لیے وقف کرنا کرامت سے کم نہیں، البتہ چند ظاہری کرامات کا تذکرہ مختصراً مناسب معلوم ہوتا ہے:

• حضرت رحمہ اللہ کے وصال کے فوری بعد سے اب تک مبشرات و منامات کثرت سے سننے اور دیکھنے میں آئے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی صاحبزادی ’’بڑی باجی‘‘ نے وصال کے روز ہی فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ابا جان گھر میں تشریف لائے اور فرمایا کہ جلدی سے چائے تیار کرو، ناشتہ بنائو میرے ایک مہمان ’’دہلی والے‘‘ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی کا حضرت کو سفید بُراق لباس میں بہت خوش، کبھی مسجد میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے، کبھی مدرسہ میں مصروف دیکھنا، کسی کے ساتھ قبرستان سے مدرسہ آنا اور کسی کا حضرت کو اپنے اکابرین کے ساتھ خوبصورت باغیچہ میں دیکھنا، کسی کا بالکل جوانی کی حالت میں دیکھنا وغیرہ وغیرہ۔

• حضرت رحمہ اللہ جس مشن اور نظریہ کو چھوڑ کر گئے الحمدللہ حضرت کے وصال کے بعد بھی اللہ کی توفیق سے جاری ہے، بلکہ کام مزید مضبوط اور پختہ ہوتا نظر آیا۔ حضرت فرمایا کرتے تھے کہ ’’مجھ سے تعلق اور محبت کا مطلب میرے مدرسہ اور خانقاہ سے تعلق کو بڑھانا ہے‘‘۔ الحمدللہ! متعلقین و متوسلین کا تعلق حضرت کے اس مدرسہ اور مسجد و خانقاہ سے اور بڑھ گیا، مجلس ذکر کا حلقہ الحمدللہ اور وسیع ہوگیا، اسی طرح الحمدللہ حضرت کا لگایا ہوا باغ ’’معہد الخلیل‘‘ خوب ترقی کی جانب گامزن نظر آتا ہے۔ حضرت کی خواہش کے مطابق اس سال ’’شعبۂ تخصص فی الفقہ‘‘ کا بھی افتتاح کیا گیا، اللہ تعالیٰ نظرِ بد اور حسد سے محفوظ فرمائے۔

• غسل اور کفن دینے کے بعد حضرت رحمہ اللہ کی واضح مسکراہٹ کا دیدار کرنے والے تو بے شمار لوگ ہیں۔

جب آیا تھا تو روتا تھا تجھے سب دیکھ ہنستے تھے
اب ایسی کر کے جا بندے کہ تو ہنستا وہ روتے ہوں

نمازِ جنازہ کے بعد جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون میں زیارت کے موقعہ پر مسکراہٹ کا بڑھ جانا اور آخری آرام گاہ میں لٹانے کے بعد بھی حضرت کا مسکرانا بندہ کو خوب یاد ہے۔ گویا زبانِ حال سے یوں فرما رہے ہوں:

صد شکر کہ آ پہنچا بر لبِ گور جنازہ
لو بحرِ محبت کا کنارہ نظر آیا

• حضرت رحمہ اللہ کا ایک کرامت اور تجدیدی کارنامہ اہلِ برادری کو علومِ دینیہ شرعیہ کی طرف مائل کرنا اور علمِ دین کی تعلیم سے روشناس کرانا ہے۔ حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’دہلی برادری میں بچوں کو قرآن پاک حفظ کرانے کا تو رواج تھا، مگر دینی تعلیم دلانے کی ترتیب نہ تھی، یہ سہرا ’’مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب‘‘ کو جاتا ہے، جنہوں نے برادری والوں میں علمائے کرام تیار کیے‘‘۔ اب ہر خاندان میں کئی عالم و حافظ بحمداللہ موجود ہیں، جو معاشرہ کی صحیح تربیت میں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ حضرت علمِ دین کی اشاعت اور اصلاح وتربیت کی ایسی مشعل جلا گئے کہ جس سے ایک بڑی خلقت مستفید ہوئی اور ہو رہی ہے۔

• اللہ تعالیٰ نے حضرت کو سخی اور غنی دل عطا فرمایا تھا، جو کچھ ہاتھ میں آیا اعلاء کلمۃ اللہ اور سسکتی بلکتی انسانیت کی دینی و دنیاوی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کر ڈالا، اپنے لیے مال و دولت جمع کرنے کو بالکل پسند نہ فرمایا، نہ اپنی اولاد کو دنیا کمانے، سمیٹنے میں لگایا، حتی کہ حضرت کے وصال کے بعد جب ترکہ شریعت کے مطابق تقسیم کیا گیا تو ہر ایک کے حصہ میں ظاہری طور پر معمولی سی رقم آئی جو حضرت کے زہد اور دنیا میں عدمِ انہماک کی نشانی ہے۔

• حضرت والد صاحب کے وصال کے بعد دنیا بھر سے تعزیت کے لیے بے شمار پیغامات اور فون آئے، ملک بھر سے علماء صلحاء نے ’’جامعہ معہد الخلیل الاسلامی‘‘ تشریف لا کر حضرت کے بارے میں بہت قیمتی کلمات ارشاد فرمائے، محبت بھرے جملوں سے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعض مقامات پر حضرت کے بارے میں سیمینار ہوئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک جگہ گھٹنے کاٹ کر کام کرنے اور زیادہ میل جول نہ رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے اس بندے کی کتنی قدر ومنزلت ہے۔

• مسلسل علمی اور اصلاحی خدمات اور ذکر و اذکار میں مشغولیت کے باوجود حضرت موت اور مابعد الموت سے کبھی غافل نہ رہے اور دوسروں کو بھی دنیا کی بے ثباتی کی طرف کثرت سے متوجہ فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں کئی اشعار حضرت کی زبان سے اس کثرت سے سنے کہ وہ دل کی گہرائیوں میں اتر گئے۔ حضرت یہ شعر اکثر پڑھا کرتے:

موت کیا ہے زمانہ کو بتلائوں میں      ایک مسافر تھا رستہ میں نیند آگئی

کبھی پڑھتے:

یہ دنیا اے عزیزو! ایک جھولے کی سواری ہے      اترنا اور چڑھنا اس میں سب کا باری باری ہے

کبھی وجد آفریں انداز میں یہ پڑھتے:

عمر بھر دوستی کے جو تھے مدعی      قبر تک اپنا کاندھا بدلتے چلے

• حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے اعلیٰ استعداد اور صلاحیتوں کے باوجود خود کو ایک خاص مقصد کے لیے مخفی رکھا، شہرت اور بڑا بننے سے ہمیشہ دور رہے۔ عملیات اور تعویذات کے چکروں میں زیادہ نہیں پڑتے تھے، حالانکہ حضرت ایک کامیاب عامل تھے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کے دیے ہوئے مجرب تعویذات سے بہت سوں کا علاج کیا۔ جادو، آسیب، جنات اور نظر وغیرہ ہر چیز کا علاج اور توڑ خود ارشاد فرماتے، اور اس کے کئی واقعات ہم نے دیکھے اور حضرت کی زبانی سنے۔

ایک دور دراز گائوں میں ایک شخص کی بچی پر زبردست آسیب ہوگیا اور وہ بالکل مرنے لگی، نزع کی کیفیت شروع ہو گئی۔ اس کے والد نے جو کہ معہد الخلیل میں خادم تھے حضرت سے جانے کی اجازت چاہی تو حضرت نے منع فرمایا اور ایک تعویذ دیا اور کچھ پڑھ کر فرمایا کہ دیکھو وہ بالکل ٹھیک ہو چکی ہے۔ اس نے بمشکل فون پر رابطہ کیا تو لوگوں نے تندرست ہونے کا وہی وقت بتایا جس وقت حضرت نے کچھ پڑھ کر ٹھیک ہونے کا بتایا تھا۔ اب وہ بچی الحمدللہ صحت مند عورت ہے۔

اکثر اوقات بے برکتی اور نظر کی شکایت کرنے والے کو منزل اور نماز باجماعت تکبیر اولیٰ کی پابندی کے ساتھ پڑھنے کی تعلیم کرتے اور اس کی عدم پابندی پر فرماتے کہ ’’ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی تو ہے نہیں، تم سے اتنا سا کام بھی نہیں ہوسکتا‘‘۔

• بیماری کے ایام میں ہسپتال میں ماہر ڈاکٹر صاحب نے جب چیک اپ کے لیے آلہ لگایا تو لا الٰہ الا اللہ اور اللہ اللہ کی صدا خود بھی سنی اور دوسرے ساتھیوں کو بھی سنا دی۔

• حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’قیامت کے روز میرے سب سے قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھے‘‘، حضرت بھی درود شریف کی کثرت کا خاص ذوق رکھتے تھے، اسی جذبہ سے آپ نے جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں ہر اسلامی مہینہ کی آخری جمعرات کو مجلسِ درود شریف کا اجراء فرمایا، جس میں تقریباً سوا لاکھ دفعہ درود شریف پڑھا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ غالباً ۱۴۰۹ھ میں شروع ہوا اور حضرت کا صدقۂ جاریہ بن کر آج بھی بحمد اللہ جاری ہے۔

نیز اسی ذوق کے تحت آپ نے ایک کتابچہ ’’زاد الخلیل‘‘ کے نام سے تالیف فرمایا، جس میں درود و سلام کے چالیس صیغے صحاحِ ستہ سے جمع فرما دیے۔ الحمدللہ! بلامبالغہ یہ کتابچہ لاکھوں کی تعداد میں چھپ چکا ہے اور ملک و بیرونِ ملک ان گنت لوگوں کا معمول اس کو یومیہ پڑھنے کا بنا ہوا ہے۔

آه! اب تو حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ بیتے لمحات کا صرف تذکرہ ہی بچا ہے۔ اب کہاں وہ شفقت و محبت، کہاں رات کو بدن دباتے اور تیل لگاتے وقت حضرت کی دلی دعائیں…

سنے کون آہ صدائے دل، ملے آہ کس سے شفائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت کے نقشِ قدم پر چلائے اور آخرت میں اللہ والوں اور حضرت کے ساتھ جنت کی حسین وادیوں میں اکٹھا فرمائے۔ حضرت کے لگائے ہوئے باغیچہ معہد الخلیل اور دیگر دینی و اصلاحی سلسلوں کی ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرمائے اور خوب ترقی عطا فرما کر حضرت کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ حضرت کی بال بال مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ اپنی رحمتِ خاصہ اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوس نصیب فرمائے۔

آخر میں حضرت نفیس شاہ صاحب رحمہ اللہ کے اپنے والد صاحب رحمہ اللہ کے متعلق چند اشعار، حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے نام کرتا ہوں:

دل زخم زخم لوگو! کوئی ہے جسے دکھائیں
کوئی ہم نَفَس نہیں ہے، غمِ جاں کسے سُنائیں

یکایک جو چھا گئی ہیں، غم و درد کی گھٹائیں
گیا کون اس جہاں سے کہ بدل گئیں فضائیں

اُٹھا سائبانِ شفقت، بڑی تیز دھوپ دیکھی
نہیں دُور دُور چھائوں، کہاں اپنا سر چھپائیں

وہ رفاقتوں کی راتیں، وہ ہر اِک سے دل کی باتیں
گئے دَور کے وہ قصے، ہمیں یاد کیوں نہ آئیں