او بمنزل رفت وما در کوچہا رسوا شدیم
برادر صغیر محترم جناب الحاج شیخ فرید احمد صاحب
برادرِ کبیر حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ اور میری عمر میں اگرچہ ایک سال کا فرق تھا لیکن علم و عمل اور فہم و فراست میں وہ مجھ سے بہت بڑے تھے۔ زندگی کے جس میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا وہ ممتاز رہے۔ عصری تعلیم کا ہر امتحان انہوں نے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور اپنے اساتذہ کی نگاہ میں باوقعت اور باحیثیت رہے۔ خاندانی معاملات میں ان کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا۔ خود بارُعب تھے اور ان کی شخصیت میں کسی سے مرعوبیت کا عنصر نہ تھا۔
شریعت کے خلاف کسی بھی قسم کے رسم و رواج کی حوصلہ شکنی میں وہ مصالحت اور مداہنت کے روادار نہ تھے۔ کچھ عرصہ پہلے بھائی صاحب کے ایک عقیدت مند کی صاحبزادی کی کشمیر کمپلیکس میں تقریبِ نکاح تھی۔ وہ صاحب کسی بڑے عہدے پر فائز تھے۔ تقریب میں ججز سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی کی نامور شخصیات مدعو تھیں۔ نکاح سے چند منٹ قبل دلہن کا بھائی کیمرا بردار ٹیم کے ساتھ ہال میں داخل ہوا اور مووی بنانے کی ہدایات جاری کرنے لگا۔ بھائی صاحب کی نگاہ کیمرے کی گھومتی آنکھ پر پڑی تو بس اتنا ہی کہا: ’’مووی بنانا حرام ہے، آپ نے اگر اپنے اس شوق کو پورا کرنا ہے تو پھر نکاح کسی اور سے پڑھوا لیں، میں تو جارہا ہوں‘‘۔ وہ صاحب جانتے تھے کہ بھائی صاحب اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مصالحت اور رواداری پر آمادہ نہیں ہوں گے لہٰذا چار و ناچار انہیں ہی سرنڈر ہونا پڑا اور مووی رکوا دی۔
خاندان میں ایک شادی کے موقع پر بھائی صاحب نے سادگی بھرا اپنا پلان بتایا تو خاندان کی ایک بزرگ خاتون کہنے لگیں: ’’ایسا تو نہیں ہوتا‘‘۔ بھائی صاحب نے جواب دیا: ’’ایسا ہو جائیگا‘‘۔
اسی طرح کا ایک واقعہ دہلی کالونی میں بھی پیش آیا۔ وہاں ایک صاحب نے جب بھائی صاحب کے ساتھ بیٹھے دولہا کی تصویر کھینچنے کیلئے کیمرا سیدھا کیا تو بھائی صاحب نے سخت لہجے میں اسے کہا: ’’اے بھائی! تصویر मत کھینچو‘‘، چونکہ کہنے میں اخلاص تھا، اس لیے جس کو کہا گیا اس نے بُرا نہ منایا اور فوراً اپنا کیمرہ جھکا دیا۔ اصلاحِ رسوم کی طرف ان کا رجحان حد درجے تھا۔ باجماعت نماز کے بڑے پابند تھے۔ معاملات کی صفائی میں قابلِ صد رشک تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے: ’’معاملہ ہمیشہ صاف رکھنا چاہیے‘‘۔ یہ بھی کہا کرتے تھے: ’’جس دن اخبار فروش یا دودھ والا اپنا بل لینے آئے تو میں اپنے اشراق کے نوافل تو مؤخر کر سکتا ہوں لیکن اخبار یا دودھ والے کو نہ ٹال سکتا ہوں اور نہ ہی اسے انتظار کی زحمت دینا گوارا کر سکتا ہوں‘‘۔ وقت کے بڑے پابند تھے۔ اس متاعِ عزیز کے ہر لمحے کے وہ قدرداں تھے۔ رات کی تقریبات کے بارے میں کہا کرتے تھے: ’’کھانے کا وقت اگر نو بجے طے ہو تو ٹھیک نو بجے کھانا لگا دیا جائے گا۔ باقی ماندہ کھانا کسی فلاحی ادارے میں بھیج دیا جائے۔ وقت گزرنے پر ہال میں جو قدم رکھے تو اسے صاف کہا جائے: ’’جناب! وقت تو گزر چکا‘‘۔
خاندان میں انہیں مرکزیت حاصل تھی۔ خاندان میں رشتے انہی کے مشورے سے طے ہوئے۔ رشتوں کے معاملے میں فکر مند رہا کرتے تھے۔ اچھے رشتوں کی انہیں تلاش رہتی تھی۔ اس معاملے میں وہ خاندان کے اندر ہی رہنے کو پسند کرتے تھے۔ میری دو بچیوں کا رشتہ انہی کے ہاں بڑی سادگی سے انجام پایا۔
میں نے ان کے سامنے خود کو ہمیشہ طفلِ سادہ ہی سمجھا۔ اس لیے زندگی میں کبھی کسی بڑی اونچ نیچ کی تو نوبت نہیں آئی تاہم بہت سے سیاسی نظریات میں وقتاً فوقتاً اختلافِ رائے کی وجہ سے گرما گرمی ہوتی رہی۔ اس گرما گرمی میں بالآخر مجھے ہی دبنا پڑتا تھا۔ متعدد بار میں نے ان کی ڈانٹ بھی کھائی، اس ڈانٹ ڈپٹ میں بھی سراسر اپنائیت بھری ہوتی تھی۔ سیاست میں ان کی دلچسپی تو نہ تھی تاہم سیاستِ حاضرہ پر ان کی گہری نظر تھی۔ قدرت کی طرف سے انہیں مؤمنانہ فراست سے نوازا گیا تھا۔ وہ مردم شناس تھے۔ پہلی نظر میں ہی سامنے والے کو بھانپ لیتے تھے۔ ان کی بہت سی باتیں جو وقتی طور پر مجھ جیسے کم فہم و کوتاہ نظر کیلئے سمجھ سے بالاتر ہوا کرتیں لیکن بعد کے حالات یہ کہنے پر مجبور کردیتے کہ ’’بھائی صاحب صحیح کہتے تھے‘‘۔ ان کی بہت سی تلخ باتیں آنے والے وقت میں کڑوا سچ ثابت ہوتیں۔ میں نے ان کی ڈانٹیں بھی کھائی ہیں اور ان کی لطف، اپنائیت اور نوازشات سے بھی خوب لطف اندوز ہوا ہوں۔ پاکستان کی سیاست پر اکثر دل گرفتہ رہتے تھے۔ بعض دفعہ حزن و یاس بھرے لہجے میں مجھے کہا کرتے: ’’فرید! پاکستان کا کیا بنے گا؟‘‘، میں کہتا: یہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔
ہمارے والد صاحب اپنی اولاد میں بھائی صاحب کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ وہ اگر سفر سے واپس آرہے ہوتے تو والد صاحب بڑے اہتمام سے انہیں ایئر پورٹ یا اسٹیشن لینے جاتے۔
اپنے خونِ جگر سے سینچے گئے گلشن ’’معہد الخلیل‘‘ کو وہ اپنے دل و جان کی طرح عزیز رکھا کرتے تھے۔ شب و روز وہ اس کی ترقی کے بارے میں گھلتے رہتے۔ بیماریوں کے باوجود معہد کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں خود نگرانی کرتے۔
رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی میں وہ قابلِ رشک تھے۔ ہماری اکلوتی ہمشیرہ سے انہیں بڑا لگائو تھا، اس پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔ اپنی اولاد اور خاندان میں قابلِ اطمینان دینی فضا کو دیکھ کر بھائی صاحب کے چہرے کی تابانی قابلِ دید ہوا کرتی تھی۔ ایک دفعہ کہنے لگے: ’’فرید! کیا ہمارے والد پر اللہ کا یہ عظیم احسان نہیں ہے کہ ان کی اولاد اور پھر اولاد کی اولاد میں کوئی بد معاملہ نہیں ہے‘‘۔
چند سال قبل دل کی تکلیف کی وجہ سے ڈاکٹر نے میرے لیے بائی پاس تجویز کیا۔ بوجہ خوف میں نے تو صاف انکار کردیا، بھائی صاحب کو جب پتہ چلا کہ بائی پاس نہ کرانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے تو انہوں نے بائی پاس کرانے کا حتمی فیصلہ بھی کردیا اور اس کیلئے وقت اور پروگرام بھی ترتیب دیدیا۔ حافظ شاہد کی زبانی ماہرِ امراض قلب ڈاکٹر اسد اللہ کنڈی کو کہلوا دیا کہ مریض کا آپریشن بہرصورت کرنا ہے۔ مجھے بس یہ حکم دیا کہ فلاں وقت ہسپتال پہنچو، میری ڈھارس بندھاتے رہے لیکن مجھے یہ بالکل نہیں بتایا کہ تمہارا بائی پاس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ حافظ شاہد کو بھی تاکید کر دی کہ بائی پاس کا مجھے نہ بتایا جائے۔ یوں میری لاعلمی میں ہی میرا بائی پاس کرادیا گیا۔ مادیت پرستی اور صرف اپنی ہی فکر میں مست رہنے کا سبق دینے والے اس دور میں ان جیسے شفیق، مہربان، ہمدرد اور خیر خواہ بھائی کے وجود کی نایابی نے دل کو گھائل چھوڑا ہے۔ آج ان کے سراپا شفقت کو نہ پاکر بس یہی کہتا ہوں:
ما و مجنون ہمسفر بودیم در دیوانِ عشق
او بمنزل رفت و ما در کوچہا رسوا شدیم