ایسے لوگ اب کہاں؟
از: حضرت مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب
استاذِ محترم حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی بھی اللہ ارحم الراحمین کے جوارِ رحمت میں پہنچ گئے۔ بندہ کا ان سے تعلق ربع صدی پر محیط تھا، اس کی ابتداء ۱۹۸۲ء میں مادرِ علمی جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں قدوری شریف کے سبق سے ہوئی۔ حضرت اپنے مخصوص لہجے اور مخصوص انداز میں ’’نور الایضاح‘‘ اور ’’قدوری‘‘ کا درس دیتے تھے، آواز میں ایسا ردھم اور تاثیر تھی کہ دلوں کو موہ لیتی تھی۔ ساتھ میں حضرت کا مشفقانہ انداز، مربیانہ طرزِ بیان، سبحان اللہ! سبق کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔
اس زمانے میں جامعہ کے دار الحدیث میں جمعہ کے دن عصر کے بعد ایک انتہائی بابرکت اور پُرانوار محفل ہوتی تھی، اس میں شہر بھر سے برکۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی صاحب قدس سرہ کے خلفائے کرام تشریف لاتے تھے۔ عصر تا مغرب درود شریف کا ورد اور ذکر بالجہر یا بالسر ہوتا تھا، یہ محفل بنیادی طور پر انفرادی شرکت کی ہوتی تھی، یعنی تمام حضرات اپنے اپنے مزاج و مذاق کے مطابق اس میں شریک ہوتے تھے۔ بظاہر اجتماعی ذکر ہو رہا ہوتا تھا، لیکن درحقیقت قطب الاقطاب کے گلشنِ روحانیت کا ہر پھول اپنے اپنے طور پر جانفزا خوشبو بکھیر کر حاضرین کے انفاس کو منور و معطر کر رہا ہوتا تھا۔ سبحان اللہ! کیا ہی بابرکت و پُرتاثیر مجلس ہوتی تھی! آج تک اس میں گونجنے والی نفی و اثبات کی زمزمہ بار صدائیں کانوں میں رس گھول رہی ہیں۔
معہد الخلیل الاسلامی کا قیام اور روحانی فیض
آپ سے تعلق کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب آپ نے بہادرآباد میں ’’معہد الخلیل الاسلامی‘‘ کے نام سے ایک دینی ادارے کی بنیاد رکھی۔ یہاں آپ کے اصلاحی بیانات، محافلِ ذکر اور شہری علاقے کے بچوں کے لیے معیاری دینی تعلیم کے اجراء سے جو فیض پھیلنا شروع ہوا، ماشاء اللہ! شاید و باید! اس مدرسے کے قیام کے بعد جتنے بھی شہری احباب نے اپنے بچوں کے داخلے کے سلسلے میں اس عاجز سے مشورہ کیا، احقر نے انہیں معہد الخلیل کا نام بتایا کہ مدرسہ بھی ہے اور خانقاہ بھی، حضرت کی شفقت بھی حاصل رہے گی اور عقاب جیسی نظر کا حصار بھی۔ چونکہ یہاں وقتاً فوقتاً مختلف اکابرین تشریف لاتے رہتے تھے، خصوصاً حضرت شیخ الحدیث صاحب قدس سرہ کے سلسلے کے مجاز حضرات، اس لیے بہت ہی پُر تاثیر اور روحانی محفلیں ہوتی تھیں، خصوصاً ماہِ رمضان المبارک میں اعتکاف کے معمولات تو سبحان اللہ! ہم جیسے کور باطنوں کے لیے تو اتنا ہی کافی ہوتا تھا کہ کسی دروازے سے چپکے سے داخل ہو کر ایک طرف بیٹھ جائیں اور جب تک سیر نہ ہوں مشامِ جان کو معطر اور باطن کو سیراب کرتے رہیں۔
آپ کے مزاج میں یکسوئی، اصول پسندی اور صلابت و استقامت خوب تھی۔ محنت کی خُو بھی وافر عطا ہوئی تھی۔ مدرسہ و خانقاہ کی یکجائی کا قدیم انداز لوٹانے کے بعد آپ کو ادارے کی ظاہری و باطنی ترقی کی دُھن تھی۔ بیماری، بڑھاپے اور مختلف عوارض کے باوجود اپنے آپ کو اس کے لیے وقف کر رکھا تھا اور اپنے برخورداران کے لیے جفا کشی اور تندہی کے ساتھ کام کرنے کی ایک بہترین مثال قائم کر رکھی تھی۔ حضرت کو اصلاح و تربیت کا خاص ذوق تھا، اور آپ کی دعا تو سچ پوچھیے بجائے خود اصلاحی بیان ہوتی تھی اور اس کی افادیت ایسی تھی کہ زندگیوں کو بدل ڈالتی تھی۔ مزاج میں سخاوت اور نوازنے کا عنصر بھی ایسا تھا کہ تمام ہم عصروں پر سبقت لے گئے تھے۔ اللہ علیم و خبیر کو ہی آپ کے حسنات کا حقیقی علم ہے۔
جامعۃ الرشید سے استاذ محترم کو خاص انسیت تھی۔ اکابر کے مزاج کی ایک جھلک اور وسعتِ ظرفی کا اعلیٰ مظہر دیکھیے کہ کچھ چیزوں سے طبعاً یا مذاقاً عدمِ مناسبت کے باوجود بار بار محبت سے تشریف لاتے۔ پوری بشاشت سے شرکت فرماتے اور جی بھر کے دعاؤوں سے نوازتے۔ ایسے لوگ اب اس کدورتوں بھری دنیا میں کہاں ملیں گے؟
حضرت کا ادارہ ماشاء اللہ آپ کی حیات ہی میں سایہ دار تناور درخت بن گیا، شہری علاقے کی کون سی دینی ضرورت تھی جو اللہ کے فضل و کرم سے یہاں پوری نہ ہوتی ہو۔ آپ نے جس طرح عمر بھر سخاوت کی اور ہر حوالے سے کی، اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو روحانی اولاد و اخلاف سے تو نوازا ہی، آپ کی صلبی اولاد کو بھی علم و عمل اور اصلاح و صلاحیت کی بخشش عطا کی۔ داماد بھی اللہ پاک نے ایسے دیے جو آپ کی حسناتِ جاریہ میں آپ کے دست و بازو بنے رہے۔ آپ کے صاحبزادگان ماشاء اللہ آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک، آپ کی جدوجہد کے قابلِ فخر وارث ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں آپ کے فیضان کو عام کرنے کا مثالی ذریعہ بنائے اور آپ کے صدقاتِ جاریہ کو عام و تام فرمائے۔ ہم پر اور اپنے تمام مسترشدین پر آپ نے جتنے احسانات کیے، اللہ تعالیٰ اس کا بہترین بدلہ اپنی بارگاہ میں حاضری کے وقت آپ کو عطا فرمائے۔
ذکر اللہ کی فضیلت و اہمیت
حضرت والا رحمہ اللہ کا ایک یادگار بیان جو آپ نے مدرسہ میں ربیع الثانی ۱۴۲۸ھ کے ماہانہ اصلاحی اجتماع میں ذکر اللہ کی اہمیت و فضیلت پر فرمایا۔
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين وعلى آله وأصحابه أجمعين. اللهم إني أحمدك وأستعينك، أما بعد!
ذکر اللہ سے متعلق چند قرآنی آیات
1. { إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَآءِ لآيَاتٍ لِّأُوْلِي الألْبَابِ * الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ } (آل عمران)
’’بلاشبہ آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل ہیں اہلِ عقل کے لیے، جن کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی یاد کرتے ہیں، کھڑے بھی، بیٹھے بھی، لیٹے بھی اور آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں غور کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! آپ نے اس کو لا یعنی پیدا نہیں کیا، ہم آپ کو منزہ سمجھتے ہیں۔ سو ہم کو عذابِ دوزخ سے بچا لیجئے‘‘۔
2. { إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لا إِلهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي } (طہ: ۱۴) — ’’بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں، تو تم میری ہی عبادت کیا کرو اور میری ہی یاد کے لیے نماز پڑھا کرو‘‘۔
3. { فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ } (البقرة: ۱۵۲) — ’’ان نعمتوں پر مجھ کو یاد کرو! میں تم کو یاد رکھوں گا‘‘۔
4. { وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيراً وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالإِبْكَارِ } (آل عمران: ۴۱) — ’’اور اپنے رب کو بکثرت یاد کیجئے اور تسبیح کیجئے دن ڈھلے بھی اور صبح کو بھی‘‘۔
5. { أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ } (الرعد: ۲۸) — ’’خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے‘‘۔
6. { وَاذْكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ } (الكهف: ۲۴) — ’’اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کا ذکر کیجئے‘‘۔
7. { وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي } (طہ: ۴۲) — ’’اور میری یادگاری میں سستی مت کرنا‘‘۔
8. { وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ * الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ } (الحج: ۳۳، ۳۴) — ’’اور آپ گردن جھکا دینے والوں کو خوش خبری سنا دیجئے! جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں‘‘۔
9. { وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ } (العنكبوت: ۴۵) — ’’اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے‘‘۔
10. { وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً } (الأحزاب: ۳۵) — ’’اور بکثرت خدا کے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے‘‘۔
11. { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً * وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلاً } (الأحزاب: ۴۲، ۴۳) — ’’اے ایمان والو! تم اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو‘‘۔
12. { أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ } (الحديد: ۱۶) — ’’کیا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا کی نصیحت کے سامنے جھک جائیں؟‘‘
13. { قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّى * وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى } (الأعلى: ۱۴، ۱۵) — ’’بامراد ہوا جو شخص پاک ہو گیا اور اپنے رب کا نام لیتا اور نماز پڑھتا رہا‘‘۔
ذکر اللہ کے فضائل سے متعلق چند احادیث
1. عن عبد الله بن بسر رضي الله عنه: أن رجلاً قال: يا رسول الله! إن شرائع الإسلام قد كثرت، فأخبرني بشيء أتشبث به؟ قال: «لا يزال لسانك رطباً من ذكر الله» (ترمذي، ابن ماجه، ابن حبان، حاكم).
ایک صحابی نے دربارِ اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ! احکامِ اسلام تو بکثرت ہیں، آپ مجھے کسی ایک ایسی چیز کی تلقین فرما دیں جس کا دامن میں ہمیشہ کے لیے تھامے رکھوں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنی زبان کو ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رکھو‘‘۔
2. أن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال لهم: إن آخر كلام فارقت عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم أن قلت: أي الأعمال أحب إلى الله؟ قال: «أن تموت ولسانك رطب من ذكر الله» (ابن أبي الدنيا، طبراني، بزار، ابن حبان).
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے تعلق دار اور شاگردوں سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں حضور سے میرا آخری سوال یہ تھا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال میں سب سے محبوب ترین عمل کون سا ہے؟ حضور نے اس کا یہ جواب مرحمت فرمایا تھا: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب ترین عمل یہ ہے کہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے تمہاری موت آئے‘‘۔
3. عن أبي موسى رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو أن رجلاً في حجره دراهم يقسمها، وآخر يذكر الله، كان الذاكر لله أفضل» (طبرانی).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ایک شخص دراہم سے جھولی بھرے انہیں غرباء میں تقسیم کر رہا ہو اور دوسرا اللہ کا ذکر کر رہا ہو تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دونوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا زیادہ فضیلت رکھتا ہے‘‘۔
4. عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن الله عز وجل يقول: «أنا مع عبدي إذا هو ذكرني» (ابن ماجه، ابن حبان).
حدیثِ قدسی میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ’’میرا بندہ جب تک میرا ذکر کر رہا ہوتا ہے تو میں اپنے بندے के ساتھ ہوتا ہوں‘‘۔
ذکر کے حقائق و معارف
میرے دوستو! قرآن کریم ایک بحرِ ذخار ہے، بحرِ بے کنار ہے، ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں، بقول حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کہ اگر آپ تدبر اور غور فرمائیں تو قرآن کی ہر ہر آیت میں اللہ کی معرفت کا مطالبہ پائیں گے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ ایک ایسا خزانہ ہے کہ ایسے انمول موتی کہیں اور نہیں۔ میرے عزیزو! درحقیقت اللہ کا ذکر پاک ہے، پاک ہی نہیں بلکہ ذاکر کو پاک بنانے والا بھی ہے۔ عظیم ہی نہیں بلکہ عزت اور عظمت بخش بھی ہے۔ محبوب اور احب ہی نہیں بلکہ محبت پیدا کرنے والا بھی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
ہے یہ وہ نام، خاک کو پاک کرے نکھار کر
ہے یہ وہ نام، خار کو پھول کرے سنوار کر
ہے یہ وہ نام، ارض کو کردے سماء ابھار کر
اکبرؔ اسی کا ورد تو، صدق سے بے شمار کر
- ذکر، اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرتا ہے اور یہ محبت ہی اسلام کی روح اور دین کا مرکز ہے، اور سعادت و نجات کا مدار ہے۔ جو شخص یہ چاہے کہ اللہ کی محبت تک اس کی رسائی ہو جائے اس کو چاہیے کہ ذکر اللہ کی کثرت کرے۔
- جس طرح مطالعہ اور تکرار علم کا دروازہ ہے، اسی طرح اللہ کا ذکر اس کی محبت کا دروازہ ہے۔
- دوسرے تمام اعمال کے مقابلے میں، ذاکر کو ذکر کرنے میں جو لذت، حلاوت، مٹھاس اور شیرینی محسوس ہوتی ہے وہ کسی اور عمل میں نہیں ہوتی۔ اگر ذکر کی، اس لذت کے سوا اور کوئی بھی فضیلت نہ ہو تو یہی اس کی فضیلت کے لیے کافی ہے۔
- لذت پانے والے کسی چیز میں بھی ذکر کے برابر لذت نہیں پاتے۔
- ذکر، اللہ کا قرب پیدا کرتا ہے اور جتنا ذکر میں دھیان، دل جمعی اور کثرت میں اضافہ ہوگا اتنا ہی قربِ خداوندی میں اضافہ ہوگا۔
- ذکر، اللہ کی معرفت کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور اس کی بڑائی دل میں پیدا کرتا ہے۔
- ذکر، اللہ کے ساتھ حضوری پیدا کرتا ہے۔
- ذکر، تصوف کا اصل اصول ہے اور تمام صوفیاء کے سب طریقوں میں رائج ہے۔
- جس شخص کے لیے ذکر کا دروازہ کھل گیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا دروازہ کھل گیا اور جو اللہ تک پہنچ گیا وہ جو چاہتا ہے، پاتا ہے، اللہ کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔
- آدمی کے دل میں ایک گوشہ ہے جو اللہ کے ذکر کے علاوہ کسی چیز سے پُر نہیں ہوتا اور جب ذکر، دل پر استیلاء (غلبہ) کر لیتا ہے تو وہ نہ صرف اس گوشہ کو پُر کرتا ہے بلکہ ذکر کرنے والے کو بغیر مال کے غنی کر دیتا ہے اور بغیر کنبہ اور جماعت کے لوگوں کے دلوں میں باعزت بنا دیتا ہے، بغیر سلطنت کے بادشاہ بنا دیتا ہے۔ اور جو شخص ذکر سے غافل رہتا ہے وہ باوجود مال و دولت، کنبہ اور حکومت کے ذلیل ہو جاتا ہے۔
- ذکر سے مراقبہ نصیب ہوتا ہے جو مرتبۂ احسان تک پہنچا دیتا ہے، یہی مرتبہ ہے جس میں اللہ کی عبادت ایسی نصیب ہوتی ہے گویا اللہ کو دیکھ رہا ہو۔ یہی مرتبہ صوفیاء کا منتہائے مقصد ہوتا ہے، اسی کو حدیثِ مبارکہ میں لفظِ احسان سے تعبیر کیا گیا ہے۔
- ذکر، اللہ کی طرف رجوع پیدا کرتا ہے، جس سے رفتہ رفتہ یہ نوبت آ جاتی ہے کہ ہر امر میں حق تعالیٰ شانہ اس کی جائے پناہ، ماویٰ اور ملجا بن جاتا ہے، اور ہر مصیبت میں اسی کی طرف توجہ ہو جاتی ہے۔
- اعمالِ خیر کرنے والوں کی جماعتیں دوڑ رہی ہیں، ذکر کرنے والے اس میں سب سے آگے ہیں۔
- ذکر کی وجہ سے دل سے خوف و ہراس دور ہو جاتا ہے، خوف کی جگہ اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
- ذکر کی وجہ سے آدمی میں ایک خاص قوت پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس سے دشوار نیک اعمال بہ سہولت صادر ہونے لگتے ہیں۔
- جو شخص راحت میں اللہ کو یاد کرتا ہے تو تکلیف اور مصیبت کے وقت اس کی پکار سنی جاتی ہے، اس کی فریاد پر فرشتہ کہता ہے کہ یہ تو مانوس آواز ہے۔
جو ان کو یاد کرتا ہے وہ اس کو یاد کرتے ہیں
شرف تو دیکھیے! ذاکر کو وہ مذکور کرتے ہیں
- ذکر میں مشغول ہونے والوں کو ان سب سے زیادہ ملتا ہے جو دعائیں مانگنے والوں کو ملتا ہے۔
- ذکر کے ساتھ اگر تنہائی کا رونا بھی نصیب ہو جائے، تو قیامت کے دن ہولناک تپش میں ذاکر کو عرش کے سائے میں جگہ دی جائے گی۔
- دل میں ایک خاص قسم کی قساوت (سختی) پیدا ہو جاتی ہے، ذکر کے علاوہ کسی اور چیز سے یہ ختم نہیں ہوتی۔
- ذکر دل کی بیماریوں کا علاج ہے اور اللہ سے دوستی کی جڑ ہے۔
- اللہ کے ذکر کے برابر اور کوئی چیز نعمتوں کو کھینچنے والی نہیں۔
- ذکر پر مداومت کرنے والا جنت میں ہنستا ہوا داخل ہوگا۔
- اللہ تعالیٰ ذکر کرنے والوں پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں۔
- ذکر ایک درخت ہے جس پر ’’معارف‘‘ کے پھل لگتے ہیں، صوفیاء کی اصطلاح میں ان کو احوال و مقامات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
- تمام اعمال میں وہی عمل افضل ہے جس میں ذکر کثرت سے کیا جائے۔ روزوں میں وہ روزہ افضل ہے جس میں ذکر کی کثرت ہو۔ حج میں حج افضل وہی ہے جس میں ذکر کی کثرت ہو، اسی طرح اور اعمال جہاد وغیرہ میں وہ افضل ہے جس میں ذکر کی کثرت ہو۔
عہدِ قریب کے مشائخ عظام کے نزدیک ذکر کی اہمیت
1. حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ فرماتے تھے: ’’ذکر کے بغیر اخلاص پیدا ہی نہیں ہوتا‘‘۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بندہ کو سنت کے اتباع کے ساتھ ذکر و مراقبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے محبت و عقیدت کا تعلق بڑھاتے رہنا چاہیے اور توفیق مانگتے رہنا چاہیے، یہاں تک کہ وہ کسی دینی خدمت کے لیے منتخب، مجتبیٰ اور مؤید من اللہ ہو جائے۔ اور جو اللہ کی طرف سے مؤید ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتے۔ نظام الدین دہلی جب حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کی تشریف آوری ہوتی تو حضرت شاہ محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ دور و قریب جماعتیں بھیج کر ذاکرین کو بلاتے تھے اور فرماتے تھے: ’’آئیے! میرے پاس ایسا مہمان آ رہا ہے، جس کی غذا اللہ کا ذکر ہے‘‘۔
2. حضرت شاہ محمد الیاس رحمہ اللہ کے بارے میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ ’’اکابر کا رمضان‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’بیماریوں اور معذوریوں سے پہلے بڑے اہتمام سے دواز دہ (بارہ) تسبیحات کا ذکر اتنے اہتمام اور اس طرح کرتے تھے کہ قریب بیٹھنے والوں کو بھی طراوٹ آ جاتی تھی‘‘۔ آپ کا یہ ارشاد بھی ہے کہ فتنے، مدارس اور مراکزِ دینیہ کے اندر گھس گئے ہیں اور اس کے دفعیہ کے لیے اللہ کا ذکر ہی مؤثر ہے۔
3. حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ’’وقت کی پابندی کے ساتھ ذکر کرنے والے کے اخلاق کی اللہ تعالیٰ تربیت فرماتے ہیں‘‘۔ جیسے وقت کی پابندی کے ساتھ ناشتہ کرتے ہیں، وقت کی پابندی کے ساتھ کھانا ہے اسی طرح ذکر بھی وقت کی پابندی کے ساتھ ہو۔
4. حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کا ارشاد ہے: ’’ذکر سے دل سے غیر کا تأثر ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کی عظمت و بڑائی اور اس کے فاعلِ حقیقی ہونے کا تأثر جمتا ہے‘‘۔
5. حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ’’ہمارے اکابر کے نزدیک علومِ ظاہرہ سے فراغ کے بعد کسی صاحبِ دل و صاحبِ نظر کی خدمت میں رہ کر نفس کے رذائل کی اصلاح کرانا اور قلب کو یادِ الٰہی سے معمور و منور کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا، اس کے بغیر وہ ظاہری علوم کو برکت سے محروم، نافعیت سے بے بہرہ اور ناقابلِ اعتماد تصور کرتے تھے‘‘۔
6. مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہم نے دارالعلوم دیوبند کا وہ دور دیکھا ہے جس میں صدر مدرس سے لے کر ادنیٰ مدرس تک اور مہتمم سے لے کر دربان اور چپڑاسی تک سب کے سب صاحبِ نسبت بزرگ اور اولیاء اللہ تھے۔ دار العلوم کے اس زمانے میں، دن میں دار العلوم اور رات میں خانقاہ معلوم ہوتا تھا، کہ اکثر حجروں سے آخر شب میں تلاوت اور ذکر کی آوازیں سنائی دیتی تھیں‘‘۔
ماہانہ آخری جمعرات کے مقاصد
مفتی ابولبابہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ہمارے اس ماہواری اجتماع کا مقصد یہ ہے کہ ایک ماحول پیدا کیا جائے، ماحول کا اثر انسانی دل پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ دوسرا مقصد اس نیت کا استحضار کرانا ہے کہ ہمارے اعمال و عبادات محض روٹین نہ بن جائیں بلکہ ان میں روحِ عبادت اور احسان پیدا ہو۔ تیسرا مقصد یہ ہے کہ دین کے اس مبارک شعبہ (سلوک و اصلاحِ نفس) سے ہمارا تعلق مضبوط ہو جائے۔ چوتھا مقصد شبِ جمعہ میں کثرتِ درود شریف کی ترغیب دلانا ہے۔
خلفاء اور مجازین کو مشورہ
اللہ تعالیٰ کا ذکرِ مبارک چار چیزوں پر محیط ہے: (۱) تلاوتِ قرآن پاک (۲) مسنون دعائیں (۳) اذکارِ مسنونہ جیسے درود شریف، سوئم کلمہ، استغفار وغیرہ (۴) اذکارِ مشائخ۔ میرے مخدومین جن کو میں نے اجازت دے رکھی ہے وہ اپنے اپنے حلقوں میں اذکارِ مسنونہ کی اہمیت بھی خصوصی طور پر بتائیں، کیونکہ تسبیحات اور اذکارِ مسنونہ بمنزلہ غذا کے ہیں اور اذکارِ مشائخ و مراقبہ بمنزلہ دوا کے ہیں۔ جو شخص دوائی تو خوب استعمال کرے اور غذا بالکل نہ کھائے، اسے دوائی کیا فائدہ دے گی؟ کچھ بھی نہیں۔ معہد الخلیل کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ ذکر کا اہتمام ہو، نمازوں کا اہتمام ہو، صفِ اول کا اہتمام ہو، بدنگاہی سے بچنا ہو، خدمت کا جذبہ ہو، ادب و آداب ہوں، تہذیب و شائستگی ہو، سنتوں پر عمل ہو اور اکابر کے طریقوں پر چلنا ہو۔